ہاکی ٹیم کے کھلاڑی اہم سیریز سے قبل ہیڈ کوچ کی عدم دستیابی سے مایوس
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
قومی ہاکی ٹیم کے کھلاڑی نے اہم سیریز سے قبل ہیڈ کوچ کی عدم دستیابی کو مایوس کن قرار دے دیا۔
پلیئرز ذرائع کے مطابق پی ایچ ایف اور طاہر زمان کو افہام و تفہیم سے معاملہ حل کرنا چاہیے تھا، روانگی سے چند گھنٹے قبل تک صورتِ حال واضح نہ ہونے سے ٹیم پر برا اثر پڑا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ہیڈ کوچ طاہر زمان کی موجودگی میں ٹیم کو فائدہ ہو رہا ہے، ہیڈ کوچ کو پلیئرز کے معاملے میں لچک دکھانی چاہیے تھی، تاخیر سے کیمپ میں آنے پر ڈراپ کرنے کا مطالبہ کرنے کی بجائے جرمانہ کر دیتے۔
پلیئرز ذرائع نے کہا کہ ملک کی خاطر باہمی اختلافات اہم سیریز سے قبل سائیڈ پر رکھے جا سکتے تھے، ہیڈ کوچ طاہر زمان نے کیمپ میں تاخیر سے رپورٹ کرنے پر دو کھلاڑیوں کے خلاف کارروائی کا کہا تھا۔
ذرائع کے مطابق پاکستان ہاکی فیڈریشن کے حکام نے اہم سیریز سے قبل دو کھلاڑیوں کو ڈراپ کرنے سے منع کر دیا، پی ایچ ایف نے دو کھلاڑیوں کو ڈراپ کرنے کی بجائے تمام تاخیر سے آنے والے کھلاڑیوں کو جرمانے کا کہا۔
پی ایچ ایف حکام اور طاہر زمان میں اختلافات بڑھ گئے تو طاہر زمان دستبردار ہو گئے، بنگلادیش کے دورے کے لیے محمد عثمان کو ہیڈ کوچ کی ذمے داری دے دی گئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ طاہر زمان اسپین کے دورے کے لیے بھی دستیاب نہیں ہیں، پی ایچ ایف نے پرو ہاکی لیگ کے لیے غیر ملکی کوچ کی خدمات حاصل کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان اور بنگلادیش کی ٹیموں کے درمیان پہلا میچ 13 نومبر کو ڈھاکا میں کھیلا جائے گا۔ سیریز کی فاتح ٹیم ورلڈ کپ کوالیفائیر کھیلنے کی اہل ہو گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اہم سیریز سے قبل پی ایچ ایف طاہر زمان ہیڈ کوچ کوچ کی
پڑھیں:
بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے بجٹ میں کرپٹو ٹرانزیکشنز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والے منافع پر کیپیٹل گین ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے اس بارے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مشاورت کے بعد کرپٹو سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے تمام ڈیجیٹل کاروبار سے حاصل ہونے والے گین پر ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ کرپٹو لین دین میں کیپیٹل گین ٹیکس کی وصولی کی بھی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ انکم ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ اس سلسلے میں سیکشن 37 میں شق 37 سی کا اضافہ کر کے کرپٹو لین دین سے کیپیٹل گین وصول کیا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان میں تقریباً 90 لاکھ افراد کرپٹو کرنسی استعمال کرتے ہیں اور حکومت کو کرپٹو ٹرانزیکشنز سے اربوں روپے اضافی ریونیو حاصل ہونے کی توقع ہے اور کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والا منافع جلد ٹیکس کے دائرے میں آ سکتا ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان ورچوئل ایسیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کو کرپٹو صارفین کے لیے ٹیکس اقدامات تجویز کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں، جب کہ کرپٹو صارفین کی تعداد، ٹرانزیکشنز اور ٹیکس میکنزم کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چند ماہ قبل مرکزی بینک نے ورچوئل اثاثوں کو قانونی حیثیت دینے اور ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس اقدام کے تحت پاکستانی روپے کو ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل کر کے ورچوئل اثاثوں کی خریداری ممکن بنائی جا سکے گی، جب کہ پاکستانی روپے کی شکل میں موجود رقم کو کرپٹو کرنسی میں ایکسچینج بھی کیا جا سکے گا۔
ذرائع کے مطابق ورچوئل اثاثوں کو اشیا، خدمات اور ایکو سسٹم سے باہر خریداری کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا، جب کہ ڈیجیٹل کرنسی صرف ورچوئل اثاثوں کے لیے پاکستان میں قائم دفاتر کو جاری کی جائے گی۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کرپٹو کرنسی کے لیے قانونی فریم ورک بھی تیار کیا جا چکا ہے۔