موسمیاتی تبدیلی کا مقابلہ کرنے کے لیے عالمی تعاون ناگزیر ہے،مریم نواز
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
برازیلیا (نیوز ڈیسک) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے منعقدہ کاپ 30 کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تمام ممالک کو مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی اب کوئی پیش گوئی نہیں بلکہ ایک حقیقی خطرہ بن چکی ہے۔ پاکستان ان دس ممالک میں شامل ہے جو ماحولیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ سیلابوں کے باعث لاکھوں ایکڑ زمین پر کھڑی فصلیں تباہ ہوئیں، جس سے معیشت اور خوراک کی سلامتی پر سنگین اثرات مرتب ہوئے۔
مریم نواز نے کہا کہ ماحولیاتی آلودگی کی کوئی سرحد نہیں ہوتی، اس کے اثرات پوری دنیا پر پڑتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ موسمیاتی تبدیلی کا مقابلہ کرنے کے لیے عالمی تعاون ناگزیر ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے بتایا کہ صوبائی حکومت ماحولیات کے تحفظ اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کم کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان عالمی برادری کے ساتھ مل کر پائیدار ترقی اور صاف ماحول کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: موسمیاتی تبدیلی کے لیے
پڑھیں:
وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈیوزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔
دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔
اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...
انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔