چرغن،گذرگ اور بھوت دانشور
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
اردو زبان اور زبان والوں کے ہم تو ممنون تھے ممنون ہیں اور ممنون رہیں گے لیکن اردو اور اردو والوں کو ہمارا بھی تھوڑا سا نہیں بلکہ بہت زیادہ ممنون ہونا چاہیے کیونکہ ہم نے جو ’’کام‘‘کیا ہے وہ جوش ملیح آبادی بھی نہیں کرسکے تھے جو اردو کی ڈکشنری بھی تھے اور فیکٹری بھی بلکہ لیبارٹری بھی تھے اور مولوی عبدالحق بھی نہیں کرپائے جو اردو کے بابا بھی تھے اور اس سے ’’شادی‘‘ بھی کرچکے تھے یہ خود انھوں نے غیرشادی شدگی کی وجہ بتاتے ہوئے فرمایا ہے مطلب یہ کہ
کودا ترے گھر میں کوئی بومی دہم سے نہ ہوگا
جو کام کیا ہم نے وہ روستم سے نہ ہوگا
یہ تو اکثر لوگ جانتے مانتے ہیں کہ اردو اگرچہ زبانوں کا مجمع البحرین ہے لیکن اس کا اپنا پانی ایک بوند بھی اس میں نہیں یعنی اس میں ایک لفظ بھی ایسا نہیں جو اس کا اپنا ہو۔یوں کہیے کہ یہ ایک ایسی ماں ہے جس کی اپنی اولاد نہیں لیکن دوسروں کے بچے بڑے پیار سے بڑی محبت سے اور شفقت سے پالتی ہے۔
ایک طرف یہ اتنی بسیارخور ہے کہ ساری زبانوں کے الفاط کھاکھاکر جزو بدن بناتی ہے اور دوسری طرف اتنی دیانت دار ہے کہ ہر زبان کا ہر لفظ لے کر صاف صاف دکھاتی بھی ہے کہ یہ لفظ میرا نہیں فلاں زبان کا ہے یعنی یہ’’بچہ‘‘ میرا نہیں اس کی ماں فلاں ہے۔اس کا اپنا نام بھی اس کا نہیں بلکہ لفظ اردو بابل و نینوا سے چل کر ترکی اور فارسی سے گزرتا ہوا یہاں لے کر آئی ہے۔خیر یہ الگ موضوع ہے کہ اس نے کہاں کہاں سے اور کس کس زبان سے کون کون سے الفاظ لے کر اپنائے ہیں۔ہم یہاں ان الفاظ کا ذکر کرنا چاہتے ہیں جو ہم نے ایجاد کرکے اس کو دیے ہیں اور آپ مانیں یا نہ مانیں ہمارا کارنامہ ہے۔اگر آپ’’داد‘‘ دیتے ہیں بخل سے کام نہ لیں تو؟۔ان الفاظ میں پہلا لفظ ’’چرغن‘‘ ہے اس سے پہلے دعوتوں کے سلسلے میں ’’مرغن‘‘ کا لفظ استعمال کرتے تھے جس کی وجہ سے یہ پتہ نہیں چلتا کہ یہ لفظ’’مرغ‘‘ کی وجہ ’’مرغن‘‘ ہے یا’’روغن‘‘ کی وجہ سے۔یعنی یہ پتہ نہیں چلتا تھا کہ مذکورہ دعوت میں صرف’’روغن‘‘ پکوان ہیں یا مرغا مرغی بھی ہیں خاص طور پر ہمارے دوست علامہ بریانی بڑے شش وپنج میں رہتے تھے چنانچہ ہم نے ’’مرغن‘‘ کا دوہرا بوجھ کم کرتے ہوئے اس کے ساتھ’’چرغن‘‘ بھی ایجاد کرلیا اب’’مرغن‘‘ صرف’’روغن‘‘ کا پتہ دیتا ہے جب کہ’’مرغن چرغن‘‘ پر جانکاری مکمل ہوجاتی ہے۔دوسرا اضافہ ہم نے ’’بزرگ‘‘ کے ساتھ’’گذرگ‘‘ کا کیا ہے۔
پہلے بزرگ سیاست دان،بزرگ صحافی بزرگ شاعر لکھتے تھے تو پتہ نہیں چلتا تھا کہ بزرگ زندہ ہے یا اپنے خمیر سے مل کر خمیرہ ہوچکے ہیں یعنی بنجارالاد چکا ہے اور اس کے لیے کوئی ریٹائرڈ کوئی مرحوم کوئی انجہانی کے مشکل الفاظ استعمال کرتا تھا۔اب بزرگ اور گذرگ کے الفاظ سے امتیاز قائم کرسکتے ہیں۔مثلاً بعض بزرگ سیاست دان ہیں جب کہ بعض گذرگ رہنما تھے تیسرا لفظ بلکہ الفاظ بلکہ ٹو ان ون ہم نے ’’بھوت دانشور‘‘ کا ایجاد کیا ہے اسے ایجاد تو نہیں کہہ سکتے لیکن اختراع یا اسمبل کرتا جسے آٹو سائیکل موٹرسائیکل یا’’گٹو‘‘ ہے۔’’گٹو ایک ایسی گاڑی کو کہتے ہیں جس میں کئی گاڑیوں کے پرزے لگاکر کثیرالمقاصد بنایا گیا ہو،انجن کسی اور گاڑی کا باڈی کسی اور گاڑی کی اور ٹائر کسی اور اگاڑی کے ہوتے ہیں جیسے دیر اور چترال میں باڈی جیب کی ہوتی ہے لیکن انجن ٹرک کا لگا ہوتا ہے بھارت میں ایسی چیز کو ٹیچو کہتے ہیں۔
بھوت دانشور ر وہ ہوتے ہیں جو کسی محکمے کا بیڑا غرق کرکے ریٹائرڈ ہوجاتے ہیں اور پھر تجزیہ کار یا تجزیہ نگار یا کالم نگار بن جاتے ہیں۔بھوت دانشور کو سمجھنے کے لیے تھوڑی سی معلومات ہندو دھرم کے عقائد کے بارے۔ ہندو عقائد میں جو لوگ مرجاتے ہیں ان میں جو نیک لوگ ہوتے ہیں ان کی اتمائیں یعنی روحیں تو سیدھی جاکر پرم آتما(پرماتما یا ایشور) میں شامل ہوکر موکش یا مکتی پالیتی ہیں لیکن جو گناہ گار ہوتی ہیں ان کو ایک مقام یونی یو جونی میں رکھا جاتا ہے اور بار بار نئے جسم یا’’پنرجسم‘‘ پہنتی رہتی اور وہ اس وقت تک اس جنم جماتتر کے چکر میں رہتی ہیں جب تک پوتراپاک ہوکر موکش یا مکتی کی قابل نہیں ہوجاتا لیکن جو لوگ کسی حادثے میں مرجاتے ہیں خودکشی کرلیتے ہیں تو وہ اپنی ادھوری خواہشوں کو پورا کرنے کے لیے یا انتقام لینے کے لیے بھوت بن جاتے ہیں نیم زندہ نیم مردہ چنانچہ اپنے ہاں بھی جو لوگ بادل نخواستہ ریٹائرمنٹ کی موت مرجاتے ہیں وہ یا تو دوسرے محکموں اور کرسیوں کو لاحق ہوکر قوم سے انتقام لیتے ہیں اور خواہشات پوری کرتے رہتے ہیں اور یا اخباروں میں چینلوں میں بیٹھ کر دانش کے دریا بہانے لگتے ہیں اور اس قوم سے انتقام لیتے اور اپنی تشنہ خواہشات پوری کرتے ہیں۔کہ اس قوم نے ان کے پیارے پیارے آقاوں کو کیوں بھگایا۔ان بھوت دانشوروں میں خون اپنے آقاوں کے رنگ کا یعنی سفید ہوتا ہے اور قدم ان کی آنکھوں کا رنگ لیے ہوئے ہوتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بھوت دانشور ہوتے ہیں ہیں اور کی وجہ ہے اور
پڑھیں:
عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش آنے والے واقعے پر اب تک معافی نہیں مانگی جبکہ وزیراعظم کو اپنے وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لینا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے اگلے وزیراعظم بلاول بھٹو زرداری، سینیٹر سحر کامران نے دعویٰ کیوں کیا؟
وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے سحر کامران نے بتایا کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران انہوں نے وزارت اور متعلقہ سیکریٹری سے سوال کیا تھا کہ کمیٹی کے اجلاس میں تقریباً 12 ارب روپے مالیت کے 14 منصوبوں کی منظوری لی گئی تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ بجٹ میں 14 ارب روپے سے زائد مالیت کے 17 منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کا صرف یہ سوال تھا کہ وہ 3 اضافی منصوبے کون سے تھے جو قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔ ان کے بقول انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) سے متعلق بھی ایجنڈے کے مطابق چند سوالات کیے لیکن اسی دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اونچی آواز میں گفتگو کرنے لگے جس سے انہیں شدید تضحیک کا احساس ہوا۔
سحر کامران کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس صورتحال پر واک آؤٹ کرنے کا فیصلہ کیا تاہم ان کے مطابق عطا اللہ تارڑ نے دوبارہ بلند آواز میں کہا کہ ’یہ ممبر کمیٹی کو ہائی جیک کرنا چاہتی ہیں‘، حالانکہ ان کے بقول انہوں نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا تھا۔
مزید پڑھیے: امریکا ایران مذاکرات، پیپلز پارٹی کا کردار پسِ منظر میں کیوں؟
رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ عطا اللہ تارڑ کے رویے پر انہیں اعتراض ہوا ہو۔ ان کے مطابق اس سے قبل بھی ایک پارلیمانی سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے ان کے سوال کا متعلقہ جواب نہیں دیا تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے قومی اسمبلی میں اس معاملے کی نشاندہی کی تو عطا اللہ تارڑ نے جواب دیا کہ میرا یہی کام ہے کہ سوال جیسا بھی ہو جواب میں اپنی مرضی کا دیتا ہوں۔
سحر کامران نے سپیکر قومی اسمبلی کے رویے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایوان میں جانبداری محسوس ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی ایک وفاقی وزیر کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کے ساتھ بھی نامناسب رویہ اختیار کیا گیا تھا۔
سحر کامران نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ وزرا کے رویے کا نوٹس لیں اور پارلیمانی روایات کے مطابق ارکان کے ساتھ احترام پر مبنی طرز عمل یقینی بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان کے بقول پارٹی آج بھی جمہوریت کے استحکام کی خاطر وفاقی حکومت کی اتحادی ہے تاہم اسی وجہ سے کابینہ کا حصہ نہیں بنی۔
مزید پڑھیں: عطا تارڑ کا بڑا ایکشن: واجبات کی ادائیگی تک نجی ٹی وی کے اشتہارات بند کا اعلان
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ملک کے تمام صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی نمایاں نمائندگی موجود ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
رکن قومی اسمبلی سحر کامران سحر کامران کو عطا تارڑ سے شکایت وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ