معرکۂ حق کے بعد فوجی ڈھانچے میں تبدیلی ناگزیر تھی، رانا ثنا
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ معرکۂ حق میں کامیابی کے بعد فوج کے اندرونی ڈھانچے میں تبدیلی ناگزیر تھی اور یہ ایک خالصتاً پیشہ ورانہ فیصلہ ہے جس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔
ایک پروگرام میں گفتگو کے دوران رانا ثناء اللہ نے کہا کہ حکومت نے اپوزیشن کو کئی بار مذاکرات کی پیشکش کی تاکہ قومی مسائل پر بات ہو اور ملک کے مفاد میں مشترکہ لائحہ عمل طے کیا جا سکے، لیکن بدقسمتی سے تحریکِ انصاف بات چیت پر آمادہ نہیں ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ 27ویں آئینی ترمیم پر بھی پی ٹی آئی سے ڈائیلاگ کی کوشش کی گئی مگر انہوں نے کسی قسم کی بیٹھک سے انکار کر دیا۔
رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ “معرکہ حق” یعنی بنیان المرصوص میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں کامیابی عطا کی، اور اسی تجربے سے حاصل ہونے والے سبق کے بعد فوج کے اندرونی اسٹرکچر میں تبدیلی کی گئی، جو وقت کی اہم ضرورت تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ تبدیلی فوج کے نظم و نسق اور مؤثر کارکردگی سے متعلق ہے اور اس میں کوئی سیاسی پہلو شامل نہیں۔
مشیرِ وزیراعظم نے مزید بتایا کہ 27ویں ترمیم سے متعلق اب تک تعلیم، صحت، آبادی اور بلدیاتی نظام جیسے اہم امور پر مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا، تاہم مذاکرات کا عمل جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لوکل باڈی نظام کو مضبوط بنانے کی کوشش ہو رہی ہے اور جیسے جیسے اتفاق رائے بنتا جائے گا، ترمیمی عمل بھی آگے بڑھتا رہے گا، تاہم اس کے لیے پارلیمان میں دو تہائی اکثریت ناگزیر ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔