فخر زمان قومی اسکواڈ میں شامل، سری لنکا کے خلاف ون ڈے سیریز اور سہ ملکی ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ کا شیڈول جاری
اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے آنے والی ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی سیریز کے لیے ٹیم میں تبدیلیوں اور میچ شیڈول کا اعلان کر دیا ہے۔
فخر زمان کو حسن علی کی جگہ ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ میں شامل کیا گیا ہے، جبکہ ون ڈے اسکواڈ کے لیے کسی متبادل کھلاڑی کا اعلان نہیں کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے تیسرے ون ڈے میں جنوبی افریقہ کو شکست، پاکستان نے سیریز اپنے نام کر لی
پاکستان نے حال ہی میں جنوبی افریقہ کے خلاف ہوم سیریز مکمل کی، جو کھلاڑیوں کی تیاری کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوئی۔
گرین شرٹس نے پروٹیز کو ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے دونوں سیریز میں شکست دی، جبکہ ٹیسٹ سیریز 1-1 سے برابر رہی۔
ون ڈے سیریز راولپنڈی میں کھیلی جائے گی:
11 نومبر: پہلا ون ڈے – راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم
13 نومبر: دوسرا ون ڈے – راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم
15 نومبر: تیسرا ون ڈے – راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم
واضح رہے کہ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان اب تک 157 ون ڈے میچز کھیلے جا چکے ہیں، جن میں پاکستان نے 93، سری لنکا نے 59 میچ جیتے، 4 میچ بے نتیجہ رہے اور 1 میچ برابر ختم ہوا۔
ٹی ٹوئنٹی سہ ملکی سیریز (پاکستان، سری لنکا، زمبابوے)ون ڈے سیریز کے بعد زمبابوے بھی پاکستان پہنچے گا، جہاں تینوں ٹیمیں سہ ملکی ٹی ٹوئنٹی سیریز میں حصہ لیں گی۔
ٹورنامنٹ 17 نومبر سے شروع ہو کر 29 نومبر کو ختم ہوگا۔
یہ بھی پڑھیے ’میری کپتانی میں بھی شاہین آفریدی کپتان ہی تھے‘ محمد رضوان نے ایسا کیوں کہا؟
پہلے 2 میچ راولپنڈی میں، جب کہ باقی میچ اور فائنل لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے جائیں گے۔
شیڈول:
17 نومبر: پاکستان بمقابلہ زمبابوے – راولپنڈی
19 نومبر: سری لنکا بمقابلہ زمبابوے – راولپنڈی
22 نومبر: پاکستان بمقابلہ سری لنکا – لاہور
23 نومبر: پاکستان بمقابلہ زمبابوے – لاہور
25 نومبر: سری لنکا بمقابلہ زمبابوے – لاہور
27 نومبر: پاکستان بمقابلہ سری لنکا – لاہور
29 نومبر: فائنل – لاہور
اپ ڈیٹ شدہ 15 رکنی ون ڈے اسکواڈشاہین شاہ آفریدی (کپتان)، ابرار احمد، بابراعظم، فہیم اشرف، فیصل اکرم، فخر زمان، حارث رؤف، حسیب اللہ، حسین طلعت، محمد نواز، محمد رضوان (وکٹ کیپر)، محمد وسیم جونیئر، نسیم شاہ، صائم ایوب اور سلمان علی آغا۔
اپ ڈیٹ شدہ 15 رکنی ٹی ٹوئنٹی اسکواڈسلمان علی آغا (کپتان)، عبدالصمد، ابرار احمد، بابراعظم، فہیم اشرف، فخر زمان، محمد نواز، محمد وسیم جونیئر، محمد سلمان مرزا، نسیم شاہ، صاحبزادہ فرحان (وکٹ کیپر)، صائم ایوب، شاہین شاہ آفریدی، عثمان خان (وکٹ کیپر) اور عثمان طارق۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستان بمقابلہ سری لنکا – ون ڈے سیریز پاکستان کرکٹ بورڈ پاکستان کرکٹ ٹیم ٹی ٹوئنٹی سہ ملکی سیریز کھیل.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان بمقابلہ سری لنکا ون ڈے سیریز پاکستان کرکٹ بورڈ پاکستان کرکٹ ٹیم ٹی ٹوئنٹی سہ ملکی سیریز کھیل پاکستان بمقابلہ سری لنکا بمقابلہ زمبابوے ون ڈے سیریز ٹی ٹوئنٹی سہ ملکی کے لیے
پڑھیں:
سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔
ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔
اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔
آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔
موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔
یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔
حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔
عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔
بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔
وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔