پاک افغان مذاکرات کا تیسرا دور
اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان اور افغانستان کے مابین ترکیہ کے شہر استنبول میں مذاکرات کا تیسرا دور جاری ہے۔ برادر ممالک ترکیہ اور قطر کی ثالثی اور سہولت کاری سے دونوں ملکوں کے مابین مذاکرات کے دو دور ہو چکے ہیں۔ پہلا دور دوحا قطر میں ہوا جس میں فریقین نے باہم جنگ بندی پر اتفاق کیا اور باہمی اختلافی معاملات اور تصفیہ طلب امور کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر آمادگی کا اظہار کیا گیا۔ پہلے دور کے اتفاق رائے کی روشنی میں مذاکرات کا دوسرا دور ترکیہ کے شہر استنبول میں کیا گیا جس میں بہت سے نازک مراحل آئے، گفت و شنید کا سلسلہ بار بار ٹوٹتا اور بحال ہوتا رہا اور ایک مرحلے پر تو پاکستان کے وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے باقاعدہ پریس کانفرنس میں مذاکرات کی ناکامی اور کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکنے کا اعلان کر دیا تاہم سہولت کار ترکیہ اور قطر کے وفود کی مداخلت اور کوششوں سے مذاکرات کا سلسلہ از سر نو شروع کیا گیا اور آخر پاکستان اور افغانستان کے وفود جنگ بندی کا تسلسل جاری رکھنے اور دونوں ملکوں کی سرحدوں پر امن کے قیام کو یقینی بنانے پر اتفاق ہو گیا اور طے شدہ امور کی خلاف ورزی کرنے والے فریق کو جرمانہ کیے جانے کا فیصلہ بھی کیا گیا اس مقصد کے لیے نگرانی اور تصدیق کے اس نظام کی تفصیلات طے کرنے اور خدوخال وضع کرنے کے لیے مذاکرات کا حالیہ سلسلہ چھے نومبر سے پھر استنبول میں شروع کیا گیا ہے جس کے آغاز ہی میں دونوں جانب سے ایک دوسرے پر الزام تراشی اور بیان بازی شروع کر دی گئی ہے جس سے حالات میں بہتری آنے کے بجائے ان کی سنگینی اور پیچیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے مذاکرات سے ایک روز قبل ہی یہ دھمکی آمیز بیان دیا کہ اگر افغانستان کی جانب سے پاکستان میں دہشت گردانہ حملوں کا سلسلہ بند نہ ہوا تو پاکستان افغانستان کے اندر زیادہ گہرائی تک جا کر جوابی کارروائی کر سکتا ہے۔ دوسری جانب طالبان کی طرف سے بھی پاکستان پر امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے کام کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ مذاکرات کے دوسرے دور میں بھی سوئی زیادہ تر اسی پر اٹکی ہوئی تھی کہ افغانستان پاکستان میں دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین کے استعمال ہونے کو تسلیم کرنے اور اس کی روک تھام کے لیے ٹھوس اور موثر اقدامات کی ضمانت دینے پر تیار نہیں تھا جب کہ پاکستان کا اصرار تھا کہ ٹی ٹی پی کے افغانستان میں ٹھکانے ہیں جہاں سے وہ پاکستان کے خلاف دہشت گردی اور تخریبی سرگرمیوں کا ارتکاب کرتے ہیں۔ پاکستانی مذاکراتی وفد نے اس ضمن میں شواہد بھی افغان وفد اور دوست ثالث ممالک ترکیہ اور قطر کے وفود کے سامنے رکھے تھے مگر افغان مذاکرات کاروں نے انہیں تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے ٹی ٹی پی کے خلاف افغانستان کے اندر کسی قسم کی کارروائی کرنے اور مستقبل میں دہشت گردانہ سرگرمیوں کی روک تھام کے ضمن میں کوئی ضمانت دینے پر آمادگی ظاہر نہ کی جس پر مذاکرات بار بار تعطل کا شکار ہوتے رہے اطلاعات کے مطابق مذاکرات کا تیسرا دور بھی اسی طرح کی صورت حال سے دو چار ہے اور پہلے دن کی بات چیت میں فریقین کے مابین کوئی قابل ذکر پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔ پاکستان نے دہشت گردانہ کارروائیوں کو اب کسی بھی صورت مزید برداشت نہ کرنے کا انتباہ کرتے ہوئے افغانستان کے سامنے تین حل پیش کیے ہیںاوّل یہ کہ افغانستان خود ٹی ٹی پی کے خلاف موثر اور نتیجہ خیز کارروائی کرے دوم پاکستان کو افغان سرزمین پر ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں کے خلاف کارروائی کی اجازت دی جائے اور اگر یہ دونوںصورتیں قبول نہیں تو پھر ایسا لائحہ عمل مرتب کیا جائے جس کے تحت دونوں ممالک مل کر ٹی ٹی پی کی پاکستان میں دہشت گردانہ سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے اقدام کریں پاکستان کا موقف یہ بھی ہے کہ ٹی ٹی پی کی دہشت گردی نہ صرف پاکستان بلکہ خود افغانستان کے لیے بھی نقصان دہ ہے تاہم طالبان حکومت اس ضمن میں کوئی بات تسلیم کرنے پر آمادہ دکھائی نہیں دیتی بلکہ اس کا طرز عمل ماضی کے مقابلے میں اس دفعہ زیادہ سخت اور جارحانہ بتایا جا رہا ہے۔ اس صورت حال میں ترکیہ اور قطر کے برادر ممالک کی مخلصانہ کوششوں کے باوجود تاحال مذاکرات کے تیسرے دور کی کامیابی کے امکانات بھی بہت زیادہ روشن دکھائی نہیں دے رہے اور صورت حال خاصی نازک ہے تاہم دونوں ملکوں کے مفاد کا تقاضا ہے کہ وہ اپنے اپنے موقف میں شدت کا مظاہرہ کرنے کے بجائے دوست ممالک کے تعاون اور سہولت کاری کی قدر کریں اور دو طرفہ مسائل کو بہرحال گفت و شنید سے حل کریں تاکہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کی راہ ہموار ہو اور دونوں ملکوں کے عوام باہمی تعاون سے ترقی و خوش حالی کے سفر پر گامزن ہو سکیں۔ پاکستان اور افغانستان کے فیصلہ سازوں کو اس حقیقت کو بھی فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ سرحدوں کے دونوں جانب اسلام کے پیروکار اور مسلمان آباد ہیں اگر خدانخواستہ فریقین میں تصادم کی نوبت آتی ہے تو دونوں جانب جانی و مالی نقصان مسلمانوں ہی کا ہو گا اور مشترکہ دشمنوں کو ان پر ہنسنے اور خوش ہونے کا موقع ملے گا۔ توقع رکھنی چاہیے کہ پاکستان اور افغانستان دونوں کے فیصلہ ساز ہوش کے ناخن لیں گے اور معاملات و تنازعات کو ہر صورت بات چیت اور افہام و تفہیم سے طے کیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پاکستان اور افغانستان ترکیہ اور قطر افغانستان کے دونوں ملکوں ٹی ٹی پی کے مذاکرات کے مذاکرات کا کے خلاف کیا گیا کے لیے
پڑھیں:
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔