خوراک میں کیلے کا استعمال کتنا مفید ہے اور کتنا نہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT
کیلیفورنیا یونیورسٹی ڈیوس کے محققین نے حالیہ تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ اسموڈی(گاڑھا، ملائم مشروب ہے جو عام طور پر پھل، سبزیاں، دہی، دودھ یا جوس ملا کر بنایا جاتا ہے) میں کیلا شامل کرنے سے فلوانول(قدرتی مرکبات) کی جسم میں جذب پر منفی اثر پڑ سکتا ہے، جو دماغ اور دل کی صحت کے لیے اہم مرکبات ہیں۔
محققین نے یہ جانچنے کی کوشش کی کہ کیلا، جو پولی فینول آکسائیز انزائم سے مالا مال ہے، شیک میں شامل ہونے پر فلوانول کی دستیابی اور جذب پر کس طرح اثر انداز ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: روزانہ کیلا کھانے سے جسم میں کیا مثبت تبدیلیاں آتی ہیں؟
فلوانول قدرتی مرکبات ہیں جو سیب، بیریز، کوکو اور انگور میں پائے جاتے ہیں اور یادداشت بہتر بنانے، سوزش کم کرنے اور خون کے بہاؤ کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
تحقیق میں شرکا نے 2 قسم کے شیک پئیے۔ ایک کیلے سے بنی، جس میں فینول آکسائیز کی سرگرمی زیادہ تھی اور دوسری مکس بیریز سے بنی، جس میں فینول آکسائیز کی سرگرمی کم تھی۔ مزید برآں، شرکا نے ایک فلوانول کیپسول بھی استعمال کی تاکہ جسم میں اس مرکب کی سطح کا موازنہ کیا جا سکے۔
نتائج کے مطابق کیلے والی شیک پینے والوں میں فلوانول کی سطح 84 فیصد کم رہی، جبکہ بیریز والی اسموڈی یا کیپسول کے استعمال سے زیادہ فلوانول جذب ہوا۔
مطالعے کے نتائج کے مطابق فلوانول کی روزانہ کی مطلوبہ مقدار قلبی اور میٹابولک صحت کے لیے 400 تا 600 ملی گرام ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ اگر شیک صحت مند بنانا مقصود ہو تو کیلے کو چھوڑ کر بیریز، انناس، مالٹا، آم یا دہی کے ساتھ بنائی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: دبلے پن سے ہیں پریشان؟ تو یہ جوس بدل دیں گے آپ کی زندگی
تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ عام کھانے پینے کی تیاری کے طریقے غذائی اجزا کی دستیابی اور جذب پر اثر ڈال سکتے ہیں، جیسے کہ چائے کی تیاری کے طریقے سے بھی فلوانول کی سطح متاثر ہوتی ہے۔
یہ مطالعہ.
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news انسانی صحت پھل خون سموڈی فلوانول کیلا مشروب
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا
جنوبی کوریا(southkorea) میں ایک معروف ریسٹورنٹ کے مالک کے خلاف میٹھے پکوانوں کی سجاوٹ کے لیے چیونٹیاں استعمال کرنے پر قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق جنوبی کورین استغاثہ نے عدالت سے ریسٹورنٹ کے مالک کو ایک سال قید اور تقریباً 13 ہزار 510 امریکی ڈالر جرمانے کی سزا دینے کی استدعا کی ہے۔
ریسٹورنٹ مالک نے دورانِ تفتیش اعتراف کیا کہ اس نے سوئٹ ڈشز کی ٹاپنگ کے لیے محدود پیمانے پر چیونٹیاں استعمال کیں، اس حوالے سے گاہکوں کو پہلے ہی آگاہ کر دیا جاتا تھا۔
مزیدپڑھیں:ورلڈ کپ فاتح ہسپانوی فٹبالرز کو وزن کے برابر ٹماٹر انعام میں مل گئے
تفتیشی حکام کے مطابق گزشتہ چار برسوں کے دوران امریکا اور تھائی لینڈ سے درآمد کی گئی تقریباً 49 ہزار چیونٹیاں مختلف پکوانوں، خصوصاً میٹھے ڈشز، میں استعمال کی گئیں۔
رپورٹس کے مطابق جنوبی کوریا کے موجودہ قوانین کے تحت چیونٹیاں ان 10 کیڑوں میں شامل نہیں ہیں جنہیں انسانی خوراک کے طور پر استعمال کی اجازت حاصل ہے، اسی بنیاد پر ریسٹورنٹ مالک کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔
عدالت اس مقدمے کا فیصلہ 2 ستمبر کو سنائے گی، جس کے بعد یہ واضح ہوگا کہ ریسٹورنٹ مالک کو سزا دی جاتی ہے یا نہیں۔