27ویں آئینی ترمیم: عدلیہ کی آزادی اور صوبائی خودمختاری کیلئے سنگین چیلنج
اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT
اسلام ٹائمز: 27ویں آئینی ترمیم ظاہری طور پر اصلاحات کا عنوان رکھتی ہے، مگر اس کے اثرات ریاستی طاقت کی مرکزیت، عدلیہ کی کمزوری، اور وفاقی ڈھانچے کے بگاڑ کی صورت میں سامنے آسکتے ہیں۔ آئین کی ہر ترمیم کا مقصد شہری حقوق، ادارہ جاتی توازن اور جمہوری بالادستی کو مضبوط کرنا ہونا چاہیئے، نہ کہ انہیں کمزور کرنا۔ جمہوریت صرف پارلیمنٹ کی عمارت میں نہیں بلکہ اداروں کی خودمختاری اور عوام کے شعور میں بستی ہے۔ حقیقی آئینی استحکام اسی وقت ممکن ہے جب ریاست کا ہر ستون اپنی حدود میں آزاد، جواب دہ اور متوازن رہے۔ تحریر: سید عباس حیدر شاہ ایڈووکیٹ
پاکستان کے آئینی و سیاسی ڈھانچے میں 27ویں آئینی ترمیم کی تجویز نے ملک کی جمہوری قوتوں، انسانی حقوق کے اداروں اور قانونی ماہرین میں گہری تشویش پیدا کردی ہے۔ اس ترمیم کو حکومتی بیانیے میں اداروں کے درمیان "توازن" اور "ہم آہنگی" پیدا کرنے کی کوشش کے طور پر پیش کیا گیا ہے، مگر اس کا اصل اثر ریاستی طاقت کو مرکز میں مرکوز کرنا، عدلیہ کی آزادی کو کمزور کرنا اور صوبائی خودمختاری کے ڈھانچے کو متزلزل کرنا ہو سکتا ہے۔
یہ صورتحال اس لیے بھی حساس ہے کہ پاکستان کی آئینی تاریخ میں 18ویں ترمیم ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے، جس نے وفاق اور صوبوں کے درمیان اختیارات کی واضح تقسیم کرکے صوبائی خودمختاری کو عملی تقویت دی۔ اس کے برعکس 26ویں ترمیم کے ذریعے قائم شدہ آئینی بینچز کا تجربہ ناکام ثابت ہوا اور عدلیہ کی ادارہ جاتی ساخت سیاسی اثر و رسوخ کے دباؤ کا شکار رہی۔ اسی ناکامی کی بنیاد پر اب 27ویں ترمیم کے تحت آئینی عدالت (Constitutional Court) کے قیام کی تجویز سامنے آئی ہے، لیکن اس کے ساتھ نئے اور زیادہ سنگین خطرات جنم لیتے ہیں۔
ترمیم میں آرٹیکل 243 میں تبدیلی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں مسلح افواج کی سربراہی اور آئینی حیثیت کو مزید مستحکم کیا جا سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ قدم فوجی اداروں کو آئینی سطح پر اضافی تحفظ دیتا ہے، سول بالادستی اور پارلیمانی نگرانی کمزور ہو سکتی ہے، اگر فوجی عہدوں یا ساخت میں آئینی توسیع کی گئی تو طاقت کا توازن مزید یکطرفہ ہو جائے گا۔ یہ صورت حال جمہوری نظام میں اداروں کی برابری، جواب دہی اور سول اختیار کے بنیادی اصول سے متصادم ہے۔
ترمیم میں مجوزہ آئینی عدالت کا قیام بظاہر ایک انتظامی اور عدالتی اصلاح دکھائی دیتا ہے، مگر اصل مسئلہ ججوں کی تقرری اور تبادلے کی وہ مجوزہ شقیں ہیں جو عدلیہ کے آزاد کردار کو متاثر کر سکتی ہیں۔ اگر جج کی رضامندی کے بغیر اس کا تبادلہ ممکن ہو یا تقرری کا عمل حکومتی اثر کے تابع ہو تو عدلیہ حکومتی مفادات کے سامنے کمزور ہو جائے گی۔ ایسی عدلیہ بنیادی حقوق کی نگہبانی نہیں کر سکتی، کیونکہ اس کی آزادی اور ادارہ جاتی خودمختاری متاثر ہو چکی ہوگی۔
27ویں ترمیم کے مجوزہ ڈھانچے میں وفاق کے اختیارات میں اضافہ اور صوبوں کے دائرہ اختیار میں کمی ایک اہم اور تشویشناک پہلو ہے۔ اس کے نتیجے میں صوبائی سطح پر پالیسی سازی اور مالی انتظام متاثر ہوگا۔ تعلیم، صحت اور سماجی بہبود جیسے بنیادی شعبوں میں صوبوں کا کردار کمزور ہو جائے گا۔ سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں پہلے سے موجود مرکزیت مخالف جذبات مزید شدید ہو سکتے ہیں۔ یہ عمل وفاقی اتحاد کے لیے براہ راست خطرہ بن سکتا ہے۔
ترمیم میں ایگزیکٹو مجسٹریٹس کے نظام کی بحالی کی تجویز بھی شامل ہے۔ یہ نظام انتظامیہ کو عدالتی اختیار دینے کے مترادف ہے، جو آئین کے آرٹیکل 175(3) کی روح کے خلاف ہے۔ اس کے نتائج یہ ہوں گے۔ شہریوں کے لیے عدالتی انصاف تک غیر جانبدارانہ رسائی مشکل ہوگی۔ انتظامیہ براہ راست فیصلوں کے عمل میں شامل ہو کر طاقت کا ارتکاز بڑھائے گی۔
1۔ عدلیہ کی آزادی متاثر ہوگی۔
2۔ صوبائی خودمختاری کمزور ہوگی۔
3۔ انسانی حقوق کے تحفظ میں ریاستی ادارے غیر مؤثر ہو جائیں گے۔
4۔ فوج اور سول نظام کے درمیان طاقت کا توازن بگڑ جائے گا۔
میری سفارشات مندرجہ ذیل ہیں:
ترمیم کا مسودہ مکمل طور پر عوام اور پارلیمان کے سامنے پیش کیا جائے۔
ججوں کی تقرری کے نظام میں عدلیہ کی آزادی بنیادی اصول رہے۔
صوبائی اختیارات کو آئینی ضمانت کے ساتھ برقرار رکھا جائے۔
پارلیمان کو فوجی اختیارات کی بالادست نگرانی کا حق حاصل رہے۔
27ویں آئینی ترمیم ظاہری طور پر اصلاحات کا عنوان رکھتی ہے، مگر اس کے اثرات ریاستی طاقت کی مرکزیت، عدلیہ کی کمزوری، اور وفاقی ڈھانچے کے بگاڑ کی صورت میں سامنے آسکتے ہیں۔ آئین کی ہر ترمیم کا مقصد شہری حقوق، ادارہ جاتی توازن اور جمہوری بالادستی کو مضبوط کرنا ہونا چاہیئے، نہ کہ انہیں کمزور کرنا۔ جمہوریت صرف پارلیمنٹ کی عمارت میں نہیں بلکہ اداروں کی خودمختاری اور عوام کے شعور میں بستی ہے۔ حقیقی آئینی استحکام اسی وقت ممکن ہے جب ریاست کا ہر ستون اپنی حدود میں آزاد، جواب دہ اور متوازن رہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: صوبائی خودمختاری 27ویں آئینی ترمیم عدلیہ کی آزادی ادارہ جاتی کمزور ہو
پڑھیں:
ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (بدھ) کا دن کیسا رہے گا ؟
ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (بدھ) کا دن کیسا رہے گا ؟
برج حمل ، سیارہ مریخ، 21 مارچ سے 20 اپریل
اپنی کوشش جاری رکھیں۔ آپ منزل کے قریب ہیں، اگر ہمت ہار گئے تو مفت میں آئی ہمت ہاتھ سے نکل سکتی ہے۔ آج کا دن مدد دے گا، تبدیلی کا امکان بھی ہے۔
برج ثور، سیارہ زہرہ، 21 اپریل سے 20 مئی
نوکری میں جاری پریشانی ختم ہوگی۔ آج بے گناہ افراد کی رہائی بھی ممکن دکھائی دیتی ہے۔ دماغ پر جس چیز کا خوف تھا وہ بھی انشاءاللہ نکل جائے گا۔
برج جوزہ، سیارہ عطارد، 21 مئی سے 20 جون
روحانی قوت بڑی تیزی سے کام کرے گی آپ اس سے پورا فائدہ اٹھا سکتے ہیں، جو بھی دعا مانگیں کے ضرور پوری ہوگی۔ آج ایک بڑا مقصد حاصل ہو جائے گا۔
برج سرطان، سیارہ چاند، 21 جون سے 20 جولائی
مفروضیات زیادہ ہوں گی، مگر آمدن میں کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔ آج زیادہ تیزی دکھانے کی کوشش مت کریں۔ کسی خاص قسم کا فائدہ نہیں ملے گا۔
برج اسد، سیارہ شمس، 21 جولائی سے 21 اگست
آپ کا قبلہ اب کافی حد تک درست ہوگیا ہے۔ آپ کو اب خود بخود مناسب سمت دکھائی دے گی اور اولاد کے حوالے سے بھی کوئی اچھی خبر ضرور سننے کو ملے گی، انشاءاللہ۔
برج سنبلہ ، سیارہ عطارد، 22 اگست سے 22 ستمبر
جادو ٹونے وغیرہ جیسی چیز کے اثرات کی ایک چھوٹی سے جھلک دکھائی دے رہی ہے، پھر بھی آپ خود استخارے کاسہارا لیں اور آج فوری گوشت کا صدقہ دیں۔
برج میزان ، سیارہ زہرہ، 23 ستمبر سے 22 اکتوبر
آج ذہن پر ایک عجیب سا بوجھ سوار رہے گا۔ ایسا لگتا ہے جیسے کسی نے جکڑ کر رکھ دیا ہو۔ آپ کو چاہئیے کہ تھوڑی سی میٹھی چیز لے کر اس کو قبرستان میں پھیلا دیں۔
برج عقرب ، سیارہ مریخ، 23 اکتوبر سے 22 نومبر
ایک راستہ بند ہوگیا ہے تو کیوں پریشان ہو رہے ہیں۔ آج شام تک روحانی مدد حاصل ہوگی اور غیر متوقع ذریعے سے آپ کے لئے نیا راستہ بن جائے گا، انشاءاللہ۔
برج قوس ، سیارہ مشتری، 23 نومبر سے 20 دسمبر
آج اچھا دن ہے آپ کی بڑی رکاوٹ دور ہوگی جس بات کو لے کر اتنے دنوں سے پریشان چلے آ رہے تو وہ ایسے سیدھی ہوگی کہ بے ساختہ اللہ پاک کا شکر ادا کریں گے۔
برج جدی ، سیارہ زحل، 21 دسمبر سے 19 جنوری
اپنے غصے پر قابو رکھیں زبان سے کوئی ایسی بات نہ نکل جائے جو آپ کے لئے بڑی پریشانی کا باعث بن جائے۔ خاص طور پر گھریلو ماحول کو خراب ہونے سے بچنا ہے۔
برج دلو ، سیارہ زحل، 20 جنوری سے 18 فروری
جہاں اور جس کام میں بھی ہاتھ ڈالتے ہیں اُس میں ناکامی ہوتی ہے۔ آپ کو فوری نوید استخارے کی ضرورت ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کسی نے بندش کر دی ہو۔
سیارہ مشتری، 19 فروری سے 20 مارچ
زحل چند دنوں تک زائچے میں قیام کرے گا یہ رکاوٹوں اور مشکلات کو ہوا دیتا ہے۔ آپ نے بہت سنبھل کر چلنا ہے اور چند دنوں تک روزانہ کے حساب سے صدقہ دینا ہے۔