حکومت سے رابطہ‘ کچھ تجاویز پر غوروخوض جاری رہے گا: شازیہ مری
اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT
اسلام آباد‘ لاہور‘ لندن (نمائندہ خصوصی + این این آئی + نوائے وقت رپوٹر) مرکزی ترجمان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز شازیہ مری نے 27ویں آئینی ترمیم پر بیان میں کہا کہ پیپلز پارٹی نے صوبائی خودمختاری کے عزم کو دہرایا، آرٹیکل 160(3)(a) میں کسی بھی ترمیم کو مسترد کر دیا گیا، پیپلز پارٹی نے آرٹیکل 243 سے متعلق تجویز کی حمایت کا اعلان کیا، پیپلز پارٹی نے آئینی عدالت کے قیام کی تائید کی، پیپلز پارٹی حکومت سے رابطے میں رہے گی۔ کچھ تجاویز پر غور و خوض جاری رہے گا، پیپلز پارٹی اٹھارویں ترمیم اور صوبائی خودمختاری کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔ احسن اقبال نے کہا 27 ویں آئینی ترمیم کیلئے اتفاق رائے ہو چکا‘ صوبائی خود مختاری ختم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 243 کے حوالے سے جو باتیں چل رہی ہیں کہ تمام افواج کے سپریم کمانڈر فیلڈ مارشل عاصم منیر ہوں گے، ایسا نہیں ہے، تمام افواج کے سپریم کمانڈر صدرِ مملکت ہی رہیں گے، اس میں کوئی ترمیم نہیں ہو رہی۔27ویں آئینی ترمیم لازمی ہے، بعض آئینی ترامیم ضروری ہوتی ہیں، جیسے 26ویں آئینی ترمیم لانا ناگزیر تھا، اس ترمیم کے ذریعے وہ ججز جو اپنی مرضی سے پک اینڈ چوز کرتے تھے اب وہ اختیار پارلیمنٹ کے پاس آ گیا ہے۔ ایک انٹرویو میں انہوںنے کہا کہ آرٹیکل 243 کے حوالے سے بحث جاری ہے لیکن میرے مطابق آرٹیکل 243 میں کوئی ترمیم نہیں ہو رہی، ایک انٹرویو میں وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال نے کہا کابینہ کے اجلاس میں بلدیاتی حکومتوں پر ایم کیو ایم کا مجوزہ بل زیرغور آیا۔ وزیراعظم نے نا صرف منظور کیا بلکہ سپورٹ بھی کیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی نے کہا
پڑھیں:
امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے خاتمے سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں غلط اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ یہ اطلاعات درست نہیں ہیں کہ ایران اور امریکا نے چند روز قبل ایک دوسرے سے بات چیت بند کردی ہے۔
ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور گفتگو کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، اور آج بھی بات چیت ہوئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ان مذاکرات کا انجام کیا ہوگا، اس حوالے سے کوئی کچھ نہیں جانتا، تاہم ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کسی نہ کسی صورت ایک معاہدہ کیا جائے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران گزشتہ 47 برس سے اسی طرز پر معاملات چلا رہا ہے اور یہ صورتحال مزید جاری نہیں رہ سکتی۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی بدستور برقرار ہے، اور پاکستان دونوں ممالک میں معاہدہ کرانے کے لیے بھرپور سفارتکاری کررہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews امریکا ایران مذاکرات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ معاہدہ وی نیوز