اٹھارویں ترمیم کا رول بیک تو ممکن ہی نہیں، ایسی کسی تجویز کی حمایت نہیں کر سکتے ، شازیہ مری
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
اٹھارویں ترمیم کا رول بیک تو ممکن ہی نہیں، ایسی کسی تجویز کی حمایت نہیں کر سکتے ، شازیہ مری WhatsAppFacebookTwitter 0 6 November, 2025 سب نیوز
کراچی (سب نیوز)پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شازیہ مری نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ اٹھارویں ترمیم کا رول بیک تو ممکن ہی نہیں، اگر آپ پیپلز پارٹی کی سپورٹ چاہتے ہیں تو اس طرح کی کسی بات میں پی پی شراکت داری نہیں کرسکتی۔
کراچی میں پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی مجلس عامہ کے اجلاس سے قبل شازیہ مری کا کہنا تھا کہ اٹھارویں ترمیم اور این ایف سی حصے پر ہمارا موقف واضح ہے ہم اس سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، پیپلز پارٹی صوبوں کو مضبوط دیکھنا چاہتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی صوبوں کو دیے گئے اختیارات کبھی واپس نہیں لے سکتی، ایسے کسی پروپوزل کی حمایت نہیں کرسکتے جس سے صوبوں کے اختیارات واپس لیے جائیں۔
شازیہ مری نے کہا کہ اگر آئینی ترمیم میں ایسی کوئی چیز ہے جس سے نظام، اداروں کے انتظامی طور پر کام اور لوگوں کو ریلیف فراہم کرنے میں بہتری آسکتی ہے تو سپورٹ کریں گے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستان نے ہندو برادری کے افراد کو داخلے سے روکنے کے الزامات مسترد کردیے پاکستان نے ہندو برادری کے افراد کو داخلے سے روکنے کے الزامات مسترد کردیے حکومت کا نیب ترمیمی بل 2023واپس لینے کا فیصلہ، سینیٹ اور قومی اسمبلی اجلاسوں کا ایجنڈا جاری پی ٹی آئی کے سابق رہنما متحرک، اسحاق ڈار، ایاز صادق اور فضل الرحمان سے ملاقاتوں کا فیصلہ ستائیسویں ترمیم، آئینی بینچ کی جگہ 9رکنی عدالت، ججز کی مدت 70سال، فیلڈ مارشل کو آئینی اختیارات دینے کی تجویز قومی اسمبلی سیکرٹیریٹ نے پارلیمنٹ ہائوس میں تعینات سی ڈی اے سٹاف کی واپسی کیلئے خط لکھ دیا معروف امریکی سیاستدان محمد عارف کی زہران ممدانی کو میئر نیوریاک منتخب ہونے پر مبارکبادCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اٹھارویں ترمیم پیپلز پارٹی شازیہ مری
پڑھیں:
آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔
بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔
حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔