مکمل ادائیگی کے باوجود عوام کو گیس میٹرز نہ لگنے پر قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی برہم
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
اسلام آباد:
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کی ذیلی کمیٹی نے مکمل ادائیگی کے باوجود عوام کو گیس کے میٹرز نہ لگانے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے معاملہ دوبارہ ڈی سے سی کو بھیجنے کی ہدایت کردی۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی سید نوید قمر کی زیر صدارت پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس ہوا جہاں بتایا گیا کہ سوئی سدرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) نے پیسے پورے لے لیے ہیں لیکن گیس کنیکشن نہیں لگائے۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ صارفین کے ڈیمانڈ نوٹس اور فوری فیس جمع ہونے کے باوجود میٹرز نصب نہیں کیے گئے، جس پر پبلک اکاؤنٹس کی ذیلی کمیٹی کی جانب سے ایس این جی پی ایل پر برہمی کا اظہار کیا گیا۔
آڈٹ حکام نے بریفنگ میں بتایا کہ اوگرا کے معیار کے تحت کنیکشن درخواستوں پر فوری کارروائی نہیں کی گئی، 71 ہزار 892 درخواستیں 27 نومبر 2021 سے قبل جمع ہوئیں، گیس میٹرز کے لیے فیسز فوری جمع کی گئیں لیکن میٹرز نصب نہ ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ 3 ہزار 28 مقامات پر سروس لائن بچھا دی گئی مگر میٹرز نہیں لگائے گئے، 14 ہزار صارفین کی فوری فیس کے باوجود میٹرز نہ لگ سکے، نئے کنکشنز پر پابندی کے باوجود فوری فیس والے کیسز نمٹانے کی ہدایات پر عمل نہیں ہو سکا۔
آڈٹ حکام نے بتایا کہ صارفین کو بروقت گیس کنکشن کی فراہمی میں تاخیر کی گئی، ایس این جی پی ایل نے صارفین کو سروس ڈیلیوری میں سنگین غفلت کی، ایس این جی پی ایل نے اوگرا کے سروس اسٹینڈرڈز کی خلاف ورزی کی۔
کنوینیئر کمیٹی نوید قمر نے کہا کہ جس نے آپ پر اعتماد کرکے پیسے دیے ان کا کیا قصور ہے، یہ تو ہٹ دھرمی ہے کہ آپ پیسے دے دو ہم اپنی مرضی سے کنیکشن لگائیں گے، ایسا تو کنٹریکٹرز کرتے ہیں، سرکاری ادارے بھی ایسا کرنے لگ جائیں تو کیا بنے گا۔
بعد ازاں پی اے سی ذیلی کمیٹی نے معاملے کو دوبارہ ڈی اے سی میں لے جانے کی ہدایت کر دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایس این جی پی ایل ذیلی کمیٹی کے باوجود میٹرز نہ
پڑھیں:
اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے شہدا کے لواحقین کو اعلان کردہ معاوضہ پیکج نہ ملنے کے معاملے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ درخواست 25 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شہدا کے لواحقین کو حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پیکج تاحال نہیں ملا۔
اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی پیکج دیا گیا ہے تو وہ تمام متاثرہ لواحقین کو ملنا چاہیے۔
انہوں نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کو آگاہ کرے کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا ہے یا نہیں۔
سماعت کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف شہدا کے لواحقین کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے مذکورہ درخواست کو خارج کر دیا تھا۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews جواب طلب سپریم کورٹ عدم ادائیگی معاوضہ پیکج وفاقی حکومت وی نیوز