گورونانک کا 556 واں جنم دن، 2100 بھارتی سکھ یاتری پاکستان پہنچ گئے
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
لاہور، ننکانہ صاحب (خصوصی نامہ نگار، نامہ نگار) بابا گورو نانک دیو جی کے 556ویں جنم دن کے موقع پر تقریباً 2100 بھارتی سکھ یاتری پاکستان پہنچ گئے۔ واہگہ بارڈر پر ان کا شاندار استقبال کیا گیا، جہاں پردھان پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی سردار رمیش سنگھ اروڑہ، چیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈ ڈاکٹر ساجد محمود چوہان اور ایڈیشنل سیکرٹری شرائنز ناصر مشتاق نے مہمانوں کو گلدستے پیش کیے اور گرمجوشی سے خوش آمدید کہا۔ واہگہ بارڈر پر اکال تخت کے جتھہ دار کلدیپ سنگھ گرگاج نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ پاکستان میں ہمیشہ عزت و احترام سے نوازا جاتا ہے، پاکستان میں ہمارے گورو دوارے محفوظ اور اصل حالت میں موجود ہیں جس کے لیے وہ حکومت پاکستان، متروکہ وقف املاک بورڈ اور سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے شکرگزار ہیں۔ دہلی گوردوارہ مینجمنٹ کمیٹی کے جتھہ لیڈر رویندر سنگھ اور شرومنی گوردوارہ پربندھک کمیٹی نے بھی ویزے جاری کرنے پر حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔ پاکستان ہمارے گورو کی دھرتی ہے اور ہمیں اس سے بہت پیار ہے۔ پردھان پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی و صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور سردار رمیش سنگھ اروڑہ نے کہا کہ یاتریوں کا پرجوش استقبال دنیا کے سامنے پاکستان کا اقلیتوں کے احترام کا مثبت چہرہ پیش کرتا ہے۔ ایڈیشنل سیکرٹری شرائن ناصر مشتاق نے کہا کہ مہمانوں کے لیے فول پروف سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔ سکھ یاتریوں نے واہگہ بارڈر پر کرنسی تبدیل کروائیں، یاتریوں کو بسوں کے ٹکٹ فراہم کیے گئے، متروکہ وقف املاک بورڈ کی ٹیموں نے کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ فراہم کیے، یاتریوں کو بہترین لنگر فراہم کیا گیا اور رہائش کے لیے کمرے الاٹ کیے گئے اور ننکانہ روانہ کر دیا گیا۔ بابا گورو نانک جنم دن کی مرکزی تقریب آج 5 نومبر گورو دوارہ جنم استھان ننکانہ صاحب میں منعقد ہوگی۔ جس میں وفاقی و صوبائی وزراء مہمان خصوصی ہوں گے جبکہ مذہبی و اقلیتی رہنما شرکت کریں گے۔ دنیا بھر سے آئے سکھ یاتری اپنی مذہبی رسومات ادا کریں گے۔ بعد ازاں پالکی کا خصوصی جلوس بھی نکالا جائے گا جو اپنے مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا اختتام پذیر ہو گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔