وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان نے کہا کہ سکولوں میں بچوں کو تعلیم کیلئے بہترین ماحول کی فراہمی اور سکول نہ جانے والے بچوں کی بنیادی وجوہات کو حل کرنے سے ان بچوں کو معاشرے کا کار آمد شہری بنایا جاسکتا ہے، جس پر کام کرنے کیلئے غیر سرکاری اداروں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حاجی گلبر خان سے جرمن ادارے KNH کی پروگرام منیجر برائے پاکستان اور انڈونیشیا سلک وورمین (Silk Woermann)، کنٹری ڈائریکٹر شہزادی کرن اور جنرل منیجر جی بی آر ایس پی اشفاق احمد نے ملاقات کی۔ اس موقع پر پروگرام منیجر KNH نے گلگت بلتستان میں جی بی آر ایس پی کے تعاون سے بچوں کی صحت، تعلیم اور کم عمری میں محنت مشقت کرنے والے بچوں کی فلاح و بہبود کے حوالے سے جاری پروگرام پر تفصیلی بریفنگ دی۔ وزیر اعلیٰ نے KNH کی جانب سے سکولوں سے باہر بچوں کو تعلیم کی جانب راغب کرنے اور مقامی بھکاریوں کو باعزت اور کارآمد شہری بنانے کیلئے جاری پروگرام کو سراہتے ہوئے صوبائی حکومت کی جانب سے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے سوشل ویلفیئر، لیبرڈیپارٹمنٹ اور محکمہ تعلیم بچوں کی تعلیم اور کم عمری میں محنت مشقت کی روک تھام پر کام کر رہے ہیں، ان محکموں کے باہمی تعاون سے کام کرنے سے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔ سکولوں میں بچوں کو تعلیم کیلئے بہترین ماحول کی فراہمی اور سکول نہ جانے والے بچوں کی بنیادی وجوہات کو حل کرنے سے ان بچوں کو معاشرے کا کار آمد شہری بنایا جاسکتا ہے، جس پر کام کرنے کیلئے غیر سرکاری اداروں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سکولوں میں بچوں کو سماجی کام کے حوالے سے بھی آگاہی فراہم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہمارے نوجوان خود کو ایک ذمہ داری شہری ثابت کر سکیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: وزیر اعلی تعلیم کی بچوں کو بچوں کی کی جانب

پڑھیں:

حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔

مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔

(جاری ہے)

مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔                                                                           

متعلقہ مضامین

  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی