سرکاری ملازمین کے اثاثے پبلک کرنے سے متعلق قانون سازی کر چکے، وزیر خزانہ WhatsAppFacebookTwitter 0 13 December, 2025 سب نیوز

لاہور (آئی پی ایس )وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ سرکاری ملازمین کے اثاثے پبلک کرنے سے متعلق قانون سازی کر چکے ہیں، آئی ایم ایف نے سرکاری ملازمین کے اثاثے سامنے لانے کا کہا ہے، یہ اضافی شرط نہیں عملی اقدام ہے۔لاہور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگلے سال کا بجٹ ایف بی آر نہیں پالیسی ساز بنائے گا، ہر سیکٹر ایکسپورٹ کرے، ہم خدمت کے لیے حاضر ہیں۔

محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ پاسکو کو ہم بند کر رہے ہیں، یہ ادارہ کرپشن کا گڑھ تھا، فاٹا پاٹا میں مال فروخت نہیں ہو رہا، واپس آرہا ہے اور یہاں فروخت ہو رہا ہے، اچھے اقدامات کو سراہیں، ملک چلے گا، معیشت چلے گی اور ملک کو آگے لے کر جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ فارمل سیکٹر نے ہمیں کہا ہے کہ نان کمپلائنس سیکٹر کے پیچھے جائیں، پرائیویٹ سیکٹر کو ملک کو لیڈ کرنا ہوگا۔ نوکریاں پیدا کرنا سرکار کا کام نہیں ، یہ کام پرائیویٹ سیکٹر کا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اسٹارٹ اپس اور نوجوان کاروباری افراد کے لیے سازگار ماحول حکومت کی ترجیح ہے، ڈیجیٹل معیشت اور ای کامرس سے کاروباری سرگرمیوں میں وسعت آئی، ٹیکس نیٹ میں توسیع، ٹیکس دہندگان کو سہولت دینے کا اعتماد بڑھا، خود کار نظام سے ٹیکس وصولی میں شفافیت اور اعتماد میں اضافہ خوش آئند ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیر اعظم کی معاشی ٹیم کی محنت اور کاوشوں کی بدولت بدعنوانی میں نمایاں حد تک کمی آئی، این ایف سی ایوارڈ پر پچھلے ہفتے اجلاس ہوا، سرمایہ کاروں اور تاجروں کا اعتماد بحال ہونے سے بزنس کو فروغ ملا، چاروں صوبائی وزرائے خزانہ سے بہت اچھے ماحول میں بات ہوئی۔محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ این ایف سی کے 8 گروپ میں سے 2 وفاق اور 6 صوبوں کے پاس ہیں، اگلے سال کا بجٹ ایف بی آر نہیں بنائے گا۔انہوں نے بتایا کہ کراچی چیمبر کی طرح لاہور میں بھی ریسرچ سیل بنائیں۔ وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ مہنگائی ابھی قابو میں ہے۔قومی ایئر لائن کی نیلامی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ قومی ایئر لائن کی نیلامی 23 دسمبر کو ہو گی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرصرف فیض حمید کو گرفتار کرنے اور سزا دینے سے انصاف نہیں ہوسکتا، جاوید لطیف صرف فیض حمید کو گرفتار کرنے اور سزا دینے سے انصاف نہیں ہوسکتا، جاوید لطیف پاکستان عمران خان سے متعلق رپورٹس پر فوری اور موثر کارروائی کرے، نمائندہ اقوام متحدہ فیض حمید کے سازشی عناصر اب بھی عمران کو اقتدار میں لانا چاہتے ہیں، خواجہ آصف کا دعویٰ فرخ خان پاکستان مسلم لیگ شعبہ خواتین کی مرکزی صدر مقرر پاکستان بحران سے نکل آیا، معاشی اشاریے بہتر ہو چکے ہیں،وزیراعظم وزیرِاعظم کے پیوٹن سے ملاقات کے انتظار کی خبر غلط نکلی، آر ٹی انڈیا نے پوسٹ ڈیلیٹ کر دی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: سرکاری ملازمین کے اثاثے محمد اورنگزیب کا کہنا کا کہنا تھا کہ

پڑھیں:

بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے

لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.

(جاری ہے)

سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں.

شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی .

ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.

متعلقہ مضامین

  • سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ
  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن