پاکستان کیلئے 540 ملین ڈالر کے دو منصوبوں کی منظوری
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
سرکاری اداروں کی اصلاحات کیلئے 400 ملین ڈالر کا نتائج کی بنیاد والا قرضہ شامل
سندھ کے ساحلی اضلاع میں قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے کردار ادا کریگا،اے ڈی بی
ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے پاکستان میں سرکاری اداروں کی اصلاحات اور صوبہ سندھ کے ساحلی اضلاع میں قدرتی آفات سے نمٹنے کی صلاحیت بڑھانے کے لیے مجموعی طور پر 540 ملین ڈالر کے دو منصوبوں کی منظوری دے دی ہے۔ان میں 400 ملین ڈالر کا نتائج کی بنیاد پر دیا جانے والا قرض ایس او ای ٹرانسفارمیشن پروگرام کے لیے ہے، جبکہ 140 ملین ڈالر کا رعایتی قرض سندھ کوسٹل ریزیلینس سیکٹر پروجیکٹ کے لیے مختص کیا گیا ہے۔اس حوالے سے اے ڈی بی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق ایس او ای اصلاحاتی پروگرام پاکستان کے سرکاری اداروں میں کارپوریٹ گورننس اور کارکردگی سے متعلق دیرینہ مسائل کے حل کی جانب ایک اہم پیشرفت ہے۔اے ڈی بی کی کنٹری ڈائریکٹر برائے پاکستان ایما فان کے مطابق یہ پروگرام پاکستان کے تجارتی سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے اور ملکی معاشی استحکام میں مدد دینے میں اہم کردار ادا کرے گا۔انہوں نے بتایا کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی جیسے بڑے اور پیچیدہ ادارے کی تنظیمِ نو اور تجارتی خطوط پر استوار کرنے کو ترجیح دی جائے گی، یہ پروگرام سرکاری شعبے میں انتظامی اصلاحات کے لیے اے ڈی بی کا پہلا مکمل طور پر نتائج سے منسلک قرض ہے۔بینک گزشتہ کئی برسوں سے پاکستان میں ایس او ای اصلاحات کی معاونت کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں 2023 میں ایس او ای ایکٹ اور پالیسی کا نفاذ، مرکزی مانیٹرنگ یونٹ کا قیام اور عوامی خدمت کے معاہدوں کا اجرا جیسے اہم اقدامات ممکن ہوئے۔ نتائج کی بنیاد پر یہ حکمتِ عملی گورننس، ادارہ جاتی صلاحیت، ڈیجیٹلائزیشن، سڑکوں کی حفاظت اور مالیاتی پائیداری میں مزید بہتری لانے میں مدد دے گی۔اے ڈی بی نے 7 لاکھ 50 ہزار ڈالر کی تکمیلی تکنیکی معاونت بھی منظور کی ہے تاکہ اصلاحات کے مؤثر نفاذ کے لیے ماہرین کی خدمات اور استعداد کار میں اضافہ کیا جا سکے۔ ان اقدامات کا مقصد سرکاری اداروں کو زیادہ مسابقتی اور مضبوط بنانا، نجی شعبے کی ترقی کو فروغ دینا اور پاکستان کی پائیدار و جامع اقتصادی ترقی میں تعاون فراہم کرنا ہے۔دوسری جانب سندھ کوسٹل ریزیلینس سیکٹر پروجیکٹ کا مقصد بدین، سجاول اور ٹھٹھہ جیسے کمزور اور پسماندہ ساحلی اضلاع کو قدرتی آفات کے مقابلے کے قابل بنانا ہے۔ یہ منصوبہ پانچ لاکھ سے زائد افراد کی زندگیوں میں بہتری، ڈیڑھ لاکھ ہیکٹر زرعی اراضی کے تحفظ اور 22 ہزار ہیکٹر جنگلات کی بحالی میں مدد دے گا۔یہ نتائج پاکستان کے نیشنل فلڈ پروٹیکشن پلان IV، سندھ کلائمیٹ چینج پالیسی اور اے ڈی بی کی اسٹریٹجی 2030 کے اہداف سے ہم آہنگ ہیں۔منصوبہ گرین ہاؤس گیسوں میں کمی، حیاتیاتی تنوع کے فروغ اور غذائی تحفظ کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا، جو 2030 تک فوڈ سسٹمز کی تبدیلی کے لیے اے ڈی بی کے 40 بلین ڈالر کے ہدف کا حصہ ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: سرکاری اداروں ملین ڈالر ایس او ای اے ڈی بی کے لیے
پڑھیں:
مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
اسلام آباد، منیلا (خبر نگار خصوصی) نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان علاقائی امن، استحکام اور تعاون کے فروغ کے لیے آسیان ریجنل فورم کے ذریعے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پْرعزم ہے۔ اسحاق ڈار نے 33 ویں آسیان ریجنل فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی اور علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مؤثر کثیرالجہتی تعاون ناگزیر ہے۔ جموں و کشمیر کے تنازعے کا منصفانہ حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے۔ پاکستان مسئلہ کشمیر کے پرامن اور منصفانہ حل کی حمایت جاری رکھے گا، جبکہ عالمی برادری کو حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ اسحاق ڈار نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو تشویشناک اور اشتعال انگیز اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاہدے سے متعلق یکطرفہ اقدامات 25 کروڑ پاکستانیوں کے مفادات کو متاثر کر سکتے ہیں۔ غزہ کی انسانی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کی غیر متزلزل حمایت جاری رکھے گا۔ پاکستان 1967ء سے پہلے کی سرحدوں پر مشتمل آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا حامی ہے۔انہوں نے دہشتگردی کو عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار سے زائد جانوں کی قربانیاں دے چکا ہے اور ہر قسم کی دہشتگردی کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے، جبکہ افغانستان میں امن سے علاقائی تجارت، روابط اور ترقی کو فروغ ملے گا۔ نائب وزیراعظم نے جنوبی بحیرہ چین کے تنازعات کے پرامن حل کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک چین پالیسی کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کو ترقی پذیر ممالک کے لیے بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ و سینیٹر اسحاق ڈار نے عمان ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق فلپائن میں آسیان ریجنل فورم کی سائیڈ لائنز پر ملاقات ہوئی، دونوں رہنمائوں نے دوطرفہ تعاون کی مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ملاقات کے دوران اعلیٰ سطح تبادلوں، تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ کو مزید مستحکم بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے فلپائن میں مختلف ملکوں کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں کیں۔ وزرائے خارجہ نے امریکہ ایران کے درمیان ثالثی پر پاکستان کے کردار کو سراہا اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے کیلئے مذاکرات پر زور دیا، اسحاق ڈار نے برطانیہ کے سیکرٹری آف سٹیٹ برائے خارجہ سے ملاقات کی دونوں رہنماؤں نے پاک برطانیہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔ ملاقات میں خطے کی سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ ونٹسن پیٹرز سے ملاقات کی۔ دونوں ملکوں نے تجارت، سرمایہ کاری اور کھیل کے شعبے میں تعاون پراتفاق کیا۔ ملاقات میں خطے اور عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے آسٹریلیا کے وزیر خارجہ سے بھی ملاقات کی جس میں مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار آسیان ریجنل فورم میں شرکت کے بعد کرغزستان روانہ ہو گئے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اجلاس 23 اور 24 جولائی کو ہوگا، اسحاق ڈار اجلاس کے موقع پر رکن ملکوں کے وزرائے خارجہ سے دو طرفہ ملاقاتیں کریں گے۔؎