اے ڈی بی کے 540 ملین ڈالر کے دو منصوبوں کی منظوری
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے پاکستان میں سرکاری اداروں کی اصلاحات اور صوبہ سندھ کے ساحلی اضلاع میں قدرتی آفات سے نمٹنے کی صلاحیت بڑھانے کے لیے مجموعی طور پر 540 ملین ڈالر کے دو بڑے منصوبوں کی منظوری دے دی ہے، اس منظوری میں 400 ملین ڈالر کا نتائج کی بنیاد پر دیا جانے والا قرض ایس او ای ٹرانسفارمیشن پروگرام کے لیے جبکہ 140 ملین ڈالر کا رعایتی قرض سندھ کوسٹل ریزیلینس سیکٹر پروجیکٹ کے لیے مختص کیا گیا ہے۔
اے ڈی بی کے مطابق پاکستان کے سرکاری اداروں میں کارپوریٹ گورننس اور بہتر کارکردگی سے متعلق دیرینہ مسائل کے حل کی طرف یہ اقدام ایک اہم پیشرفت ہے، سرکاری تجارتی اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے سے ملکی معیشت کو استحکام ملے گا اور مؤثر انتظامی ڈھانچہ قائم ہو سکے گا۔
کنٹری ڈائریکٹر برائے پاکستان ایما فان نے کہا کہ 400 ملین ڈالر پر مشتمل اصلاحاتی پروگرام میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) جیسے بڑے ادارے کی تنظیمِ نو کو ترجیح دی جائے گی تاکہ اسے تجارتی بنیادوں پر مزید مستحکم اور مؤثر بنایا جاسکے، یہ اے ڈی بی کا پاکستان میں پہلا مکمل نتائج سے منسلک قرض ہے، جس کے تحت گورننس، ادارہ جاتی اصلاحات، ڈیجیٹلائزیشن، سڑکوں کی حفاظت اور مالی پائیداری جیسے اہم پہلو بہتر بنائے جائیں گے۔
اے ڈی بی نے اصلاحاتی عمل کے مؤثر نفاذ کے لیے 7 لاکھ 50 ہزار ڈالر کی تکنیکی معاونت بھی منظور کی ہے، جس کے تحت ماہرین کی خدمات حاصل کی جائیں گی اور متعلقہ اداروں کی استعداد کار بڑھائی جائے گی، ان اقدامات کا مقصد سرکاری اداروں کو زیادہ مسابقتی بنانا، نجی شعبے کے فروغ میں مدد دینا اور ملک کی پائیدار و جامع اقتصادی ترقی کے لیے تعاون فراہم کرنا ہے۔
دوسری جانب 140 ملین ڈالر کا سندھ کوسٹل ریزیلینس سیکٹر پروجیکٹ بدین، سجاول اور ٹھٹھہ جیسے کمزور ساحلی اضلاع کو قدرتی آفات کے مقابلے کے لیے مضبوط بنانے پر مرکوز ہے۔ اس منصوبے کے تحت پانچ لاکھ سے زائد افراد کی زندگیوں میں بہتری، تقریباً ڈیڑھ لاکھ ہیکٹر زرعی اراضی کو تحفظ اور 22 ہزار ہیکٹر جنگلات کی بحالی ممکن ہو سکے گی۔
یہ منصوبہ نیشنل فلڈ پروٹیکشن پلان IV، سندھ کلائمیٹ چینج پالیسی اور اے ڈی بی کی اسٹریٹجی 2030 کے اہداف کے مطابق ہے اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے، گرین ہاؤس گیسوں میں کمی، حیاتیاتی تنوع کے فروغ اور غذائی تحفظ بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
اے ڈی بی کے مطابق یہ اقدامات 2030 تک فوڈ سسٹمز میں تبدیلی سے متعلق 40 بلین ڈالر کے بڑے ہدف کا حصہ ہیں جو پاکستان کی آب و ہوا سے متعلق ترجیحات اور ترقیاتی ضروریات کو تقویت دیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ملین ڈالر اے ڈی بی کے لیے
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔