Jasarat News:
2026-06-03@00:48:31 GMT

اے ڈی بی کے 540 ملین ڈالر کے دو منصوبوں کی منظوری

اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT

اے ڈی بی کے 540 ملین ڈالر کے دو منصوبوں کی منظوری

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے پاکستان میں سرکاری اداروں کی اصلاحات اور صوبہ سندھ کے ساحلی اضلاع میں قدرتی آفات سے نمٹنے کی صلاحیت بڑھانے کے لیے مجموعی طور پر 540 ملین ڈالر کے دو بڑے منصوبوں کی منظوری دے دی ہے،  اس منظوری میں 400 ملین ڈالر کا نتائج کی بنیاد پر دیا جانے والا قرض ایس او ای ٹرانسفارمیشن پروگرام کے لیے جبکہ 140 ملین ڈالر کا رعایتی قرض سندھ کوسٹل ریزیلینس سیکٹر پروجیکٹ کے لیے مختص کیا گیا ہے۔

اے ڈی بی کے مطابق پاکستان کے سرکاری اداروں میں کارپوریٹ گورننس اور بہتر کارکردگی سے متعلق دیرینہ مسائل کے حل کی طرف یہ اقدام ایک اہم پیشرفت ہے،  سرکاری تجارتی اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے سے ملکی معیشت کو استحکام ملے گا اور مؤثر انتظامی ڈھانچہ قائم ہو سکے گا۔

کنٹری ڈائریکٹر برائے پاکستان ایما فان نے کہا کہ 400 ملین ڈالر پر مشتمل اصلاحاتی پروگرام میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) جیسے بڑے ادارے کی تنظیمِ نو کو ترجیح دی جائے گی تاکہ اسے تجارتی بنیادوں پر مزید مستحکم اور مؤثر بنایا جاسکے،  یہ اے ڈی بی کا پاکستان میں پہلا مکمل نتائج سے منسلک قرض ہے، جس کے تحت گورننس، ادارہ جاتی اصلاحات، ڈیجیٹلائزیشن، سڑکوں کی حفاظت اور مالی پائیداری جیسے اہم پہلو بہتر بنائے جائیں گے۔

اے ڈی بی نے اصلاحاتی عمل کے مؤثر نفاذ کے لیے 7 لاکھ 50 ہزار ڈالر کی تکنیکی معاونت بھی منظور کی ہے، جس کے تحت ماہرین کی خدمات حاصل کی جائیں گی اور متعلقہ اداروں کی استعداد کار بڑھائی جائے گی، ان اقدامات کا مقصد سرکاری اداروں کو زیادہ مسابقتی بنانا، نجی شعبے کے فروغ میں مدد دینا اور ملک کی پائیدار و جامع اقتصادی ترقی کے لیے تعاون فراہم کرنا ہے۔

دوسری جانب 140 ملین ڈالر کا سندھ کوسٹل ریزیلینس سیکٹر پروجیکٹ بدین، سجاول اور ٹھٹھہ جیسے کمزور ساحلی اضلاع کو قدرتی آفات کے مقابلے کے لیے مضبوط بنانے پر مرکوز ہے۔ اس منصوبے کے تحت پانچ لاکھ سے زائد افراد کی زندگیوں میں بہتری، تقریباً ڈیڑھ لاکھ ہیکٹر زرعی اراضی کو تحفظ اور 22 ہزار ہیکٹر جنگلات کی بحالی ممکن ہو سکے گی۔

یہ منصوبہ نیشنل فلڈ پروٹیکشن پلان IV، سندھ کلائمیٹ چینج پالیسی اور اے ڈی بی کی اسٹریٹجی 2030 کے اہداف کے مطابق ہے اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے، گرین ہاؤس گیسوں میں کمی، حیاتیاتی تنوع کے فروغ اور غذائی تحفظ بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

اے ڈی بی کے مطابق یہ اقدامات 2030 تک فوڈ سسٹمز میں تبدیلی سے متعلق 40 بلین ڈالر کے بڑے ہدف کا حصہ ہیں جو پاکستان کی آب و ہوا سے متعلق ترجیحات اور ترقیاتی ضروریات کو تقویت دیں گے۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ملین ڈالر اے ڈی بی کے لیے

پڑھیں:

کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر

محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔

تفصیلات کے مطابق  انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔

انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ،  پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔

اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے  www.seccap.dgcs..gos.pk  کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔

ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔

ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری