آئی ایم ایف نے پاکستان کو قرض کی اگلی قسط جاری کردی
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کو 1.2 ارب ڈالر کی قسط جاری کر دی ہے اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے آئی ایم ایف سے قرضے کی قسط ملنے کی تصدیق کردی ہے۔
حکام اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف سے 1.2 ارب ڈالر کی رقم مل گئی ہے ایک ارب ڈالر توسیعی فنڈ فسیلیٹی پروگرام کے تحت جاری کیے گئے۔
آئی ایم ایف نے 20 کروڑ ڈالرز کلائمٹ فناننسنگ کی مد میں جاری کئےواضح رہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ایگزیکٹو بورڈ نے پیر کے روز پاکستان کے لیے1.
آئی ایم ایف کے مطابق اس فیصلے کے بعد دونوں پروگراموں کے تحت مجموعی ادائیگیاں بڑھ کر تین اعشاریہ تین ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔
آئی ایم ایف نے اپنے بیان میں بتایا تھا کہ پاکستان نے ای ایف ایف کے تحت اصلاحاتی اقدامات میں نمایاں پیش رفت کی ہے جس کی بدولت ایک مشکل عالمی ماحول اور حالیہ تباہ کن سیلابوں کے باوجود معاشی استحکام برقرار رکھا گیاہے۔
مالیاتی کارکردگی مضبوط رہی اور مالی سال 2025 میں بنیادی سرپلس 1.3 فیصد ریکارڈ کیا گیا جو ہدف کے مطابق ہے۔
مہنگائی میں اضافہ ضرور ہوا مگر ادارے کا کہنا ہے کہ غذائی سپلائی میں خلل کے باعث یہ اضافہ عارضی ہے۔
زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر 14.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئے جو گزشتہ برس کے مقابلے میں نمایاں بہتری ہے اور آئندہ مالی سال میں مزید اضافے کی توقع ہے۔
ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس کے بعد ڈپٹی مینیجنگ ڈائریکٹر نائیجل کلارک کا بھی کہنا تھا کہ پاکستان کی معاشی اصلاحات نے مشکل حالات میں میکرو اکنامک استحکام کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
ان کے مطابق معاشی نمو میں بہتری، افراط زر کی توقعات میں کمی اور مالی و بیرونی خساروں میں کمی مثبت اشارے ہیں مگر عالمی غیر یقینی صورتحال کے تناظر میں پاکستان کو محتاط پالیسیوں کے ساتھ اصلاحات کی رفتار مزید تیز کرنا ہوگی تاکہ پائیدار اور نجی شعبے کی قیادت میں ترقی ممکن ہو سکے۔
Tagsپاکستان
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل آئی ایم ایف ارب ڈالر کے تحت
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
امریکا ایران جنگ، آبنائے ہرمز کی بندش، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت نے سابقہ ریکارڈ توڑ دیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ مئی کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد بھی عبور کر کی گئی جس سے عالمی معیشت، مہنگائی اور توانائی کی فراہمی کے حوالے سے نئے خدشات جنم لے رہے ہیں۔
عالمی معیار کے خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت میں جمعرات کو چھ فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد یہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی کیوں کہ سرمایہ کاروں نے اس خدشے سے خریداری بڑھا دی کہ اگر خطے میں جنگ مزید پھیلی تو عالمی تیل کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
قیمتوں میں اس غیرمعمولی اضافے کی بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی پر حملے ہیں۔ حوثیوں نے حالیہ دنوں میں سعودی آئل ٹینکروں اور دیگر تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا۔
بحیرہ احمر اور باب المندب عالمی تجارت کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتے ہیں جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ان حملوں کا ذمہ دار سمجھتا ہے کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا جواب میں حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف بڑی فوجی سزا دینے سے گریز نہیں کرے گا۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں ایندھن، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے جس سے مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
اگر کشیدگی بحیرہ احمر سے بڑھ کر آبنائے ہرمز تک پھیل گئی جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں۔