امریکی ویزا پروگرام کیلئے نئی فیس کا اطلاق، 20 امریکی ریاستوں نے صدر پر مقدمہ دائر کردیا
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
20 امریکی ریاستوں نے H-1B ویزا پروگرام پر عائد کی گئی نئی 1 لاکھ ڈالر فیس کے اطلاق پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے خلاف مقدمہ دائر کردیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق نئی فیس تقریباً 100,000 مقرر کی گئی ہے جو ویزا پروگرام کے تحت نئے درخواست دہندگان پر لاگو ہوگی۔ ریاستوں کا کہنا ہے کہ یہ فیس وفاقی قانون اور اندرونی قوانین جیسے Administrative Procedure Act اور کانگریس کی منظوری کے بغیر نافذ کی گئی، جس سے یہ غیر قانونی اور نقصان دہ ہے۔
ریاستوں کا کہنا ہے کہ اس فیس سے تعلیم، صحت، تحقیق اور دیگر اہم خدمات میں کارکنوں کی فراہمی مشکل ہوجائے گی، کیونکہ بہت سی یونیورسٹیاں، اسپتال اور عوامی ادارے H-1B کارکنوں پر انحصار کرتے ہیں۔
ریاستوں کے وکیلوں نے دلیل دی ہے کہ فیس امریکی عوام یا مخصوص شعبوں پر غير منصفانہ بوجھ ڈالے گی اور وفاقی قانون کے تحت عائد کردہ ضوابط سے تجاوز کرتی ہے۔
یہ مقدمہ وفاقی عدالت میں دائر کیا گیا ہے جس میں ریاستی اٹارنی جنرل نے عدالتی حکم کی درخواست بھی کی ہے تاکہ پالیسی کو نافذ کرنے سے روکا جاسکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔