امریکی ریاستوں کی اے آئی ریگولیشن محدود، ٹرمپ نے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کردیے
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کی شب ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت ریاستوں کی مصنوعی ذہانت (AI) کمپنیوں کو ریگولیٹ کرنے کی صلاحیت محدود ہو جائے گی۔
وائٹ ہاؤس کی ویب سائٹ پر جاری بیان کے مطابق اس حکم نامے کا مقصد ’کم سے کم بوجھ کے ساتھ قومی پالیسی فریم ورک کے ذریعے امریکا کی عالمی اے آئی برتری کو برقرار رکھنا اور بڑھانا‘ ہے۔
ایگزیکٹو آرڈر میں کہا گیا ہے کہ ’امریکی اے آئی کمپنیوں کو جیتنے کے لیے آزادانہ طور پر جدت لانے کی ضرورت ہے، اور ضرورت سے زیادہ ریاستی قوانین اس مقصد کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔‘
ٹرمپ نے دستخطی تقریب میں کہا کہ اے آئی کمپنیاں امریکا میں کام کرنا چاہتی ہیں اور بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری بھی آ رہی ہے، لیکن اگر انہیں 50 مختلف ریاستوں سے الگ الگ منظوری لینا پڑے تو یہ ممکن نہیں رہے گا۔
اے آئی لِٹیگیشن ٹاسک فورس قائم کرنے کی ہدایتایگزیکٹو آرڈر کے تحت اٹارنی جنرل پام بونڈی کو 30 دن کے اندر ‘AI Litigation Task Force’ تشکیل دینے کی ہدایت کی گئی ہے، جس کا واحد مقصد ایسے ریاستی قوانین کو چیلنج کرنا ہوگا جو وفاقی حکومت کی کم ریگولیشن پالیسی سے مطابقت نہیں رکھتے۔
یہ بھی پڑھیے صدر ٹرمپ کا ’اے آئی معیشت‘ کا اعلان، توانائی و ٹیکنالوجی کے شعبے میں 100 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری
اس میں موجودہ ریاستی قوانین میں ترمیم کا امکان بھی شامل ہے، جبکہ کامرس سیکریٹری ہاورڈ لٹ نِک کو ایسے قوانین کی نشاندہی کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے جو ’اے آئی ماڈلز کو ان کے سچ پر مبنی آؤٹ پٹ میں تبدیلی پر مجبور کرتے ہیں‘۔ یہ ٹرمپ کی اُس مہم سے مطابقت رکھتا ہے جس کے تحت وہ ’ووک اے آئی‘ کے خلاف اقدام کر رہے ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ نے وفاقی فنڈنگ کو بطور دباؤ بھی استعمال کیا ہے تاکہ ریاستیں اپنے سخت قوانین نافذ نہ کریں۔ نئے حکم نامے کے تحت وفاقی اے آئی قانون ریاستی قوانین پر بالادست ہوگا، تاہم بچوں کے تحفظ سے متعلق ریاستی قوانین اس سے متاثر نہیں ہوں گے۔
کانگریس کی مخالفت اور ریاستوں کا ردِعملیہ ایگزیکٹو آرڈر اس وقت سامنے آیا ہے جب کانگریس نے جولائی اور نومبر میں اسی نوعیت کی قومی پالیسی بنانے کی تجویز مسترد کردی تھی۔
ناقدین اس اقدام کو اے آئی پر مؤثر قانون سازی روکنے کی کوشش قرار دے رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ کانگریس ایک ایسی وسیع پالیسی نہیں بنا سکتی جو ریاستوں کے مخصوص حالات سے مطابقت رکھتی ہو۔
یہ بھی پڑھیے وائٹ ہاؤس کا نیا اے آئی پلان: ضوابط میں نرمی، جدید ٹیکنالوجی کی راہ ہموار
دوسری جانب ٹیک کمپنیوں نے ریاستی ریگولیشن کم کرنے کی کوششوں کی حمایت کی ہے، جس سے گوگل، اوپن اے آئی اور دیگر کمپنیاں فائدہ اٹھائیں گی۔ ان کمپنیوں نے ایک سپر پی اے سی کے ذریعے مہم بھی چلائی ہے، جس کے پاس اگلے سال کے مڈٹرم انتخابات پر اثر انداز ہونے کے لیے 100 ملین ڈالر تک کا بجٹ موجود ہے۔
ایگزیکٹو آرڈر کو کیلیفورنیا اور نیویارک جیسے ڈیموکریٹک ریاستوں کو اے آئی پر مؤثر ریگولیشن نافذ کرنے سے روکنے کی کوشش بھی سمجھا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اے آئی کمپنیاں.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اے ا ئی کمپنیاں ایگزیکٹو آرڈر ریاستی قوانین کرنے کی اے آئی کے تحت
پڑھیں:
امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل تیرہویں رات بھی فضائی حملے کیے ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف ’بہت بڑے حملے‘ کا فیصلہ کرنے کے قریب ہیں۔ دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکی جارحیت میں مزید اضافہ ہوا تو اس کی قیمت واشنگٹن کو پہلے سے کہیں زیادہ چکانا پڑے گی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق تازہ کارروائی 2 گھنٹے سے زائد جاری رہی، جس کے دوران ایران کے فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کی عسکری صلاحیت، بالخصوص ساحلی نگرانی، فضائی دفاع اور فوجی انفراسٹرکچر کو مزید کمزور کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا کشیدگی پھر شدت اختیار کرگئی، کیا مشرق وسطیٰ ایک بڑی جنگ کے دہانے پر ہے؟
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ایران نے ابھی تک ’کافی تکلیف نہیں دیکھی‘ اور وہ ایک بڑے پیمانے کے حملے کے بارے میں فیصلہ کرنے کے قریب ہیں۔ امریکی صدر کے اس بیان نے خطے میں کشیدگی مزید بڑھا دی ہے اور عالمی سطح پر خدشات میں اضافہ ہوا ہے کہ جنگ مزید وسیع ہو سکتی ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’بے معنی جارحیت‘ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ اس سے امریکا کو زیادہ بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ ملک اپنی خودمختاری اور دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
???? 13TH STRAIGHT NIGHT OF POUNDING IRAN.
U.S. forces just completed another round of strikes on Iranian military targets.
Command centers.
Drone storage.
Communication networks.
Coastal surveillance.
Maritime capabilities.
AMERICA KEEPS WINING ✌️???????????????? https://t.co/0y5aM7FeEr pic.twitter.com/0AWYpSnco6
— Xander Xand (@Xander24Xand) July 24, 2026
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران تہران، خنداب، خرم آباد، کنارک اور جاسک سمیت مختلف شہروں میں دھماکوں، میزائل حملوں اور فضائی دفاعی نظام کی سرگرمیوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ بعض علاقوں میں فضائی دفاعی نظام نے آنے والے اہداف کو روکنے کی کوشش کی، تاہم نقصانات کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں۔
دوسری جانب برطانیہ نے اعلان کیا ہے کہ اگر اس کے مفادات یا سرزمین کو کسی بھی قسم کا خطرہ لاحق ہوا تو اس کی مسلح افواج دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ یہ بیان ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی اس وارننگ کے بعد سامنے آیا، جس میں کہا گیا تھا کہ اگر امریکی بمبار طیارے برطانوی اڈوں سے ایران پر حملوں کے لیے استعمال ہوئے تو ان اڈوں کو بھی ممکنہ اہداف سمجھا جا سکتا ہے۔
???????? U.S. STRIKES IRAN FOR 13TH CONSECUTIVE NIGHT
The U.S. military has launched another round of strikes against Iran, marking the 13th consecutive night of attacks.
CENTCOM: “US forces started another night of strikes against Iranian military targets at 6:45 p.m. ET (2245 GMT)… pic.twitter.com/iDXtuU2CJE
— Mossad Commentary (@MOSSADil) July 24, 2026
بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق جنگ کے پھیلنے سے عالمی توانائی منڈی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھنے کے باعث خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جبکہ عالمی منڈیوں میں بھی غیر یقینی صورتحال دیکھی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے تو عالمی تجارت اور تیل کی سپلائی بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکا ہے جہاں مزید عسکری کارروائیاں پورے خطے کو ایک بڑے بحران میں دھکیل سکتی ہیں۔ انہوں نے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کی کوششیں تیز کی جائیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا ایران خلیج صدر ٹرمپ مشرق وسطیٰ