پاکستان آثارِ قدیمہ کی تحقیق، تحفظ اور تعلیم کے فروغ کیلئے پرعزم ہے: وزیر قومی ورثہ
اشاعت کی تاریخ: 15th, December 2025 GMT
اسلام آباد (خبر نگار) وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی نے سوات میں اطالوی آثارِ قدیمہ مشن کی 70ویں سالگرہ کے موقع پر تقریب میں بطور مہمانِ خصوصی اور کلیدی مقرر شرکت کی۔ جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیر اس وقت اٹلی کے سرکاری دورے پر ہیں جہاں وہ آئی سی سی آر او ایم کی جنرل اسمبلی میں پاکستان کے وفد کی قیادت کررہے ہیں۔ وفاقی وزیر نے پاکستان اور اٹلی کے درمیان آثارِ قدیمہ اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے حوالے سے دیرینہ شراکت داری کو سراہا اور اسے مشترکہ تاریخی ورثے کے تحفظ کے لیے نہایت اہم قرار دیا۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعاون، تعلیمی تبادلوں اور ادارہ جاتی روابط کو مزید فروغ دینے کے لیے جاری اقدامات پر بھی روشنی ڈالی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان آثارِ قدیمہ کی تحقیق، تحفظ اور تعلیم کے فروغ کے لیے پرعزم ہے اور اس شعبے میں اٹلی کے ساتھ تعاون کو وسعت دینے کا خواہاں ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: وفاقی وزیر
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔