جدید ریفریجریشن کی سہولت سے بہت پہلے سعودی عرب کے صحرائی علاقوں میں پانی کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے ایک سادہ مگر مؤثر ایجاد استعمال کی جاتی تھی جسے قِربہ کہا جاتا ہے۔ یہ روایتی مشکیزہ جانوروں کی کھال سے تیار کیا جاتا تھا اور نسلوں تک صحرائی زندگی کا لازمی حصہ رہا ہے۔

سعودی پریس ایجنسی (SPA) کی حالیہ رپورٹ کے مطابق قِربہ کو عموماً کھلی فضا میں، لکڑی کے سادہ 3 پایوں والے اسٹینڈ پر لٹکایا جاتا تھا۔ بخارات کے قدرتی عمل کے ذریعے اس میں موجود پانی ٹھنڈا رہتا تھا، جو سخت صحرائی موسم میں مقامی لوگوں کی خود انحصاری اور ذہانت کی عکاسی کرتا ہے۔

مزید پڑھیں: جاپانی کمپنی نے گاڑیوں کو ٹھنڈا رکھنے والا ’کول پینٹ‘ تیار کرلیا

ورثہ جاتی آلات کے ماہر محمد الشومر نے بتایا کہ قِربہ کی مختلف اقسام مختلف مقاصد کے لیے استعمال ہوتی تھیں۔ السعن (بکری یا بھیڑ کی کھال سے تیار کردہ) پانی ذخیرہ اور ٹھنڈا کرنے کے لیے استعمال ہوتا تھا، الصمیل لسی کو محفوظ رکھنے کے کام آتا تھا، العکہ خالص مکھن کے لیے مخصوص تھا، جبکہ الشکوة ایک ہمہ گیر قِربہ تھا جس میں دودھ، مکھن، ترش لسی اور شہد تک رکھا جاتا تھا۔

قِربہ بنانے کے عمل میں کھال کو چربی یا گھی سے نرم کیا جاتا، پھر اسے مخصوص سائز میں کاٹ کر بڑی سوئی سے سیا جاتا تھا۔ اس کا منہ اوپر کی جانب کھلا ہوتا جبکہ نیچے کی ٹانگیں پکڑنے یا باندھنے کے لیے استعمال کی جاتی تھیں۔

مزید پڑھیں: کھانے سے پہلے آم کو پانی میں بھگونا کیوں ضروری؟

اگرچہ یہ مشکیزہ ماضی میں طویل صحرائی سفر کے لیے ناگزیر تھا، تاہم آج بھی قِربہ اپنی پائیداری کے باعث استعمال میں ہے اور بعض اوقات گاڑیوں کے باہر لٹکا کر پینے کے پانی کو ٹھنڈا رکھا جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق قِربہ جیسی روایتی ایجادات میں دوبارہ دلچسپی سعودی عرب کی اس وسیع تر کوشش کا حصہ ہے جس کے تحت قومی ورثے کو محفوظ اور اجاگر کیا جا رہا ہے، تاکہ ثقافتی تبدیلی کے اس دور میں ماضی کی دانش کو مستقبل سے جوڑا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

spa پانی کو ٹھنڈا رکھنے سعودی عرب طویل صحرائی سفر.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: طویل صحرائی سفر جاتا تھا کو ٹھنڈا کے لیے

پڑھیں:

مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ

ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔

یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔

تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔

اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔

محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔

تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔

تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔

تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔


 

متعلقہ مضامین

  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ