جیانگ شی(ویب ڈیسک)چین کی میٹھے پانی کی سب سے بڑی جھیل پویانگ اپنے بلند پانی کے موسم کی سطح کے مقابلے میں 90 فیصد تک سکڑ گئی ہے اور پانی کی سطح انتہائی کم لیول پر پہنچ چکی ہے۔

مشرقی چین کے صوبہ جیانگ شی میں واقع شنگ زی ہائیڈرولوجیکل اسٹیشن پر اتوار کی صبح پانی کی سطح انتہائی کم حد سے بھی نیچے گر گئی جہاں پیمائش کے مطابق سطح محض 8 میٹر ریکارڈ کی گئی۔

اس سال پویانگ جھیل کی سطح پہلی بار 8 اگست کو 12 میٹر کی خشک سالی کی وارننگ لائن سے نیچے گئی جو گزشتہ برسوں کی اوسط کے مقابلے میں 87 دن پہلے ہے، اب تک جھیل 217 دن تک خشک سالی کی وارننگ لائن سے نیچے رہی ہے۔ ڈوچانگ کاؤنٹی میں واقع ایک قریبی واٹر سپلائی کمپنی کے پیداواری و عملیاتی شعبے کے سربراہ وانگ چون ہوا نے بتایاکہ کمپنی نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے بیرونی جھیل سے پانی پلانٹ کے انٹیک تک پہنچانے کے لیے 10 پمپ مکمل استعداد پر فعال کر دیے ہیں۔

کمپنی نے پینے کے پانی کے ذرائع کی نگرانی میں بھی اضافہ کیا ہے اور پانی کے معیار کے ٹیسٹ کی فریکوئنسی بڑھا دی ہے تاکہ قریبی علاقوں میں 1 لاکھ 60 ہزار شہری و دیہی رہائشیوں کو محفوظ پینے کا پانی فراہم کیا جا سکے۔2022 میں جھیل کی سطح 4.

6 میٹر کی ریکارڈ کم ترین سطح تک گر گئی تھی ۔ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ طویل عرصے تک کم پانی کی سطح سے سائبیرین کرین، اورینٹل اسٹارک اور وائٹ نیپڈ کرین سمیت سینکڑوں ہزاروں مہاجر پرندوں کے سردیوں میں قیام پر منفی اثر پڑے گا جبکہ فن لیس پورپوائز جیسی آبی حیات کی افزائش بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

جھیل کے گرد واقع مقامی حکومتیں صورتحال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہیں اور اثرات کو کم سے کم کرنے کے لیے درست آبی انتظامی اقدامات، چینلز کی کھدائی اور ماحولیاتی پانی کی فراہمی جیسے ہنگامی اقدامات کر رہی ہیں۔اپنے محفوظ قدرتی ماحولیاتی نظام کے باعث پویانگ جھیل ایشیا میں آبی پرندوں کے لیے اہم سرمائی قیام گاہ ہے۔ جھیل کی جانب پرندوں کی ہجرت کا عروجی دور عموماً دسمبر کے وسط سے جنوری کے اوائل تک رہتا ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

بجٹ 2026-27: جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکس میں بڑی کمی کی تجویز

وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ(Budget) میں جائیداد کی خرید و فروخت پر عائد ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی تجاویز تیار کر لی ہیں، جن کا مقصد ریئل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور معاشی سرگرمیوں میں اضافہ کرنا ہے۔

ذرائع کے مطابق بجٹ تجاویز کے تحت فائلرز کے لیے غیر منقولہ جائیداد کی خریداری پر عائد ٹیکس کی شرح موجودہ 1.5 فیصد سے کم کر کے 0.25 فیصد کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح جائیداد کی فروخت پر عائد ٹیکس کو 4.5 فیصد سے کم کر کے 1.5 فیصد کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت ان اقدامات کے ذریعے پراپرٹی مارکیٹ میں موجود جمود کو ختم کرنا چاہتی ہے تاکہ خرید و فروخت کی سرگرمیوں میں اضافہ ہو اور تعمیراتی شعبہ دوبارہ متحرک ہو سکے۔

تاہم ان تجاویز پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف ٹیکسوں میں مجوزہ کمی کی مخالفت کر رہا ہے اور اسے حکومتی آمدن پر ممکنہ اثرات کے تناظر میں دیکھ رہا ہے۔

مزیدپڑھیں:بحر اوقیانوس کے اوپر سیکیورٹی الرٹ، طیارہ پونے 4 گھنٹے بعد واپس لوٹ آیا

حکومتی حکام کا مؤقف ہے کہ ٹیکس شرحوں میں کمی سے جائیداد کے شعبے میں سرمایہ کاری بڑھے گی، جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں لین دین کا حجم بڑھنے سے مجموعی ٹیکس وصولیوں میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ حکومت کا یہ بھی خیال ہے کہ تعمیراتی سرگرمیوں کے فروغ سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور معیشت کے مختلف شعبوں کو فائدہ پہنچے گا۔

ذرائع کے مطابق ان تجاویز کے حتمی خدوخال آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات اور وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد آئندہ بجٹ میں شامل کیے جا سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • کم از کم ماہانہ اجرت کتنی ہونی چاہیے؟  نئے مالی سال کے لیے سفارش کردی گئی
  • راولپنڈی: گھر میں لاکھوں روپے کی چوری کا ڈراپ سین، قریبی رشتہ دار ہی ملوث نکلا
  • فیفا ورلڈکپ 2026 کا آغاز 12 جون سے
  • بجٹ 2026-27: جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکس میں بڑی کمی کی تجویز
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہوسکا، شہری رُل گئے
  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا