چارسدہ کا ماحول دوست سروس اسٹیشن: صفائی اور پانی کی بچت ایک ساتھ
اشاعت کی تاریخ: 15th, December 2025 GMT
آبِ حیات کو ضائع نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اسے دوبارہ قابلِ استعمال بنایا جانا چاہیے، کیونکہ ملک میں پانی کی سطح مسلسل نیچے جا رہی ہے۔ ایسے میں چارسدہ میں ایک ماحول دوست سروس اسٹیشن قائم کیا گیا ہے، جہاں نہ صرف صفائی کی جاتی ہے بلکہ پانی کے تحفظ پر بھی بھرپور توجہ دی جاتی ہے۔
مزید پڑھیں:پاکستان میں ماحول دوست تعمیرات وقت کی اہم ضرورت ہیں، احسن اقبال
’اب آپ کی گاڑیوں کو وہ صفائی ملے گی جو نہ صرف شاندار ہے بلکہ ہمارے ماحول کے لیے بھی ذمہ دار ہے۔‘
وہاں پر موجود ایک ذمہ دار نے ’وی نیوز‘ کو بتایا کہ اس سروس اسٹیشن میں ہم صرف گاڑیاں نہیں دھوتے، بلکہ پانی بھی بچاتے ہیں۔
مزید پڑھیں:پاکستان میں تیار کردہ ماحول دوست فٹبالز آئندہ چیمپئنز لیگ کا حصہ ہوں گی
ان کے مطابق یہاں جدید ترین واٹر ری سائیکلنگ ٹیکنالوجی نصب کی گئی ہے، جہاں استعمال شدہ پانی کو فلٹر کیا جاتا ہے اور دوبارہ ٹینک میں جمع کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ استعمال شدہ پانی مکمل طور پر صاف کیا جاتا ہے اور پھر اسے دوبارہ گاڑی دھونے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر 50 سے زیادہ گاڑیاں مکمل طور پر صاف کی جاتی ہیں، اور ہمارا مقصد بالکل واضح ہے کہ پانی کا ضیاع نہ ہو۔
’یہ صرف کاروبار نہیں، بلکہ ہماری زمین اور ماحول کے لیے ایک وعدہ ہے۔‘ مزید جانیے سعید وزیر کی اس رپورٹ میں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews جدید مشینری چارسدہ ماحول دوست سروس اسٹیشن وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: چارسدہ ماحول دوست سروس اسٹیشن وی نیوز سروس اسٹیشن کیا جاتا ہے ماحول دوست کے لیے
پڑھیں:
ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔
سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔
ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔