کچھ لوگ عمران خان کواقتدارمیں لاناچاہتےہیں،جاوید لطیف
اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT
لاہور:مسلم لیگ ن کے رہنما جاوید لطیف کا کہنا ہے کہ اداروں میں کچھ لوگ ہیں جو عمران خان کو اقتدار میں لانا چاہتے ہیں۔
پروگرام ’سوال یہ ہے‘ میں گفتگو کرتے ہوئے ن لیگی رہنما جاوید لطیف نے کہا کہ آج بھی کہتا ہوں کہ عمران خان کے لیے سہولت کاری موجود ہے۔
جاوید لطیف نے کہا کہ سہولت کاری کی کھڑکی اب بھی کھلی ہے جو کل کو ایک دروازہ بھی بن سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فیض حمید نے جن سے فیصلے لیے وہ آج کئی بڑے نام بن چکے یا بااختیار ہوچکے، ان کے ساتھ دیگر لوگوں کو بھی کٹہرے میں کھڑا کرنا چاہیے۔
ن لیگی رہنما نے کہا کہ نواز شریف نے گوجرانوالہ میں جن پانچ لوگوں کا نام لیا تھا وہ اس وقت طاقت میں تھے، عمران خان، فیض حمید پراجیکٹ میں کون کون لوگ تھے ان کو سامنے لایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ فیصلے میں لکھا ہے کہ فیض حمید کے خلاف اور بھی چیزوں کی تفتیش ہونی ہیں، یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ فیض حمید اکیلے یہ کام نہیں کرسکتے تھے۔
جاوید لطیف نے کہا کہ اللہ اللہ کرکے احتساب شروع ہوگیا تو اسے پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔