WE News:
2026-07-24@09:04:24 GMT

کنڈوم کی مدد سے معدے سے لائٹر نکالنے کا انوکھا طبی عمل

اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT

کنڈوم کی مدد سے معدے سے لائٹر نکالنے کا انوکھا طبی عمل

چین کے صوبہ سیچوان کے شہر چینگدو میں ایک شخص اس وقت شدید حیرت میں مبتلا ہو گیا جب طبی معائنے کے دوران انکشاف ہوا کہ اس نے جوانی میں جو لائٹر نگلا تھا، وہ گزشتہ 30 برس سے اس کے جسم میں موجود تھا۔

حیران کن طور پر 3 دہائیوں سے زائد عرصے تک اس ’غیر انسانی شے‘ نے اسے کوئی خاص تکلیف نہیں دی، تاہم ایک ماہ قبل اسے پیٹ میں مسلسل درد اور سوجن کا سامنا کرنا پڑا۔

یہ بھی پڑھیں: کتے کے حملے کا نشانہ بننے والی خاتون کس عذاب سے گزر رہی ہے؟

متاثرہ شخص نے علامات کے بعد اسپتال سے رجوع کیا۔ اسپتال میں کیے گئے گیسٹرواسکوپی معائنے کے دوران ڈاکٹروں نے ایک سیاہ رنگ کی مستطیل شکل کی شے دریافت کی جو اس کے نظامِ ہاضمہ میں پھنسی ہوئی تھی، جس کی بعد میں شناخت لائٹر کے طور پر ہوئی۔

A Chinese man who had forgotten about swallowing a cigarette lighter 30 years ago, as a dare, was shocked to find it still worked after being removed by doctors.

https://t.co/qMcGBD6yS7 #offbeat #weirdnews #China #Asia #funny pic.twitter.com/bgEUM5yGda

— Spooky (@OddityCentral) December 11, 2025

دوست سے شرط کے دوران لائٹر نگلا

ڈینگ نے بتایا کہ اس نے یہ لائٹر 1991 یا 1992 میں دوستوں کے ساتھ ایک محفل کے دوران نگلا تھا۔

’ہم شراب پی رہے تھے اور میں نے ایک دوست سے شرط لگائی۔ میں نے کہا اگر وہ لائٹر نگل سکتا ہے تو میں بھی نگل لوں گا۔ پھر میں نے ایک ہی گھونٹ میں لائٹر نگل لیا۔‘

اس وقت اس نے اس واقعے کو سنجیدہ نہیں لیا اور یہ سمجھا کہ لائٹر قدرتی طور پر جسم سے خارج ہو جائے گا، مگر وہ کئی دہائیوں تک بغیر کسی نمایاں مسئلہ پید اکیے بغیر اس کے جسم میں موجود رہا۔

لائٹر نکالنے کے لیے ڈاکٹروں کو کنڈوم استعمال کرنا پڑا

ابتدائی طور پر ڈاکٹر اس کیس پر حیران رہ گئے اور اس شے کو نکالنے میں مشکلات پیش آئیں۔ لائٹر انتہائی ہموار تھا، جس کے باعث فورسپس کے ذریعے اسے پکڑنا ممکن نہیں ہو رہا تھا۔

چند ناکام کوششوں کے بعد طبی ٹیم نے ایک منفرد طریقہ اختیار کیا۔ اینڈوسکوپ کی مدد سے مریض کے معدے میں کنڈوم داخل کیا گیا، پھر لائٹر کو احتیاط سے کنڈوم کے اندر منتقل کیا گیا اور فورسپس کے ذریعے اسے مسٹر ڈینگ کے منہ کے راستے باہر نکال لیا گیا۔

یہ پورا عمل تقریباً 20 منٹ میں مکمل ہوا

30 سال بعد بھی لائٹر سالم حالت میں موجود

حیرت انگیز طور پر لائٹر 30 سال تک معدے میں رہنے کے باوجود ساختی طور پر سالم تھا۔ اس کی لمبائی تقریباً 7 سینٹی میٹر تھی اور اس پر سیاہ تہہ جمی ہوئی تھی، جو غالباً معدے کے تیزاب کے طویل اثرات کا نتیجہ تھی۔

مزید حیرت کی بات یہ تھی کہ لائٹر کے اندر اب بھی کچھ مقدار میں سیال موجود تھا۔

ڈاکٹروں کی وارننگ

ڈاکٹروں نے خبردار کیا کہ اگر لائٹر کے اندر موجود سیال معدے کے تیزاب کے ساتھ ردِعمل کرتا تو یہ جان لیوا ثابت ہو سکتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی غیر انسانی اشیا کو فوری طور پر نکال دینا چاہیے، کیونکہ اس سے آنتوں میں سوراخ جیسے سنگین مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

اپنی جوانی کی نادانی پر غور کرتے ہوئے مسٹر ڈینگ نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یقین تھا کہ یہ خود ہی نکل جائے گا لیکن لائٹر کبھی باہر ہی نہیں نکلا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پیٹ چین چینگدو درد سوجن سیچوان کنڈوم لائٹر معدے

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پیٹ چین چینگدو کنڈوم لائٹر کے دوران نے ایک

پڑھیں:

قاتل وہیل کا انوکھا طرز عمل: دیوہیکل دشمن کی لاش کو زور دار ٹکریں مارنے کی وجہ کیا ہے؟

سائنس دانوں نے پہلی بار قاتل وہیل (اورکا) کے ایک ایسے غیرمعمولی رویے کا مشاہدہ کیا ہے جس میں وہ مردہ سن فش کو زور دار ٹکر مار کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: لاکھوں سال پرانا وہیل مچھلیوں کا وسیع و عریض قبرستان دریافت، سائنسدان حیران

اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق محققین بتاتے ہیں کہ یہ عمل یا تو خوراک کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کرنے کے لیے کیا جاتا ہے یا پھر ممکن ہے کہ اورکا محض تفریح کے لیے ایسا کرتی ہوں۔

امریکی غیر سرکاری تنظیم ’بینیتھ دی ویوز‘ کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک اورکا وہیل سن فش کی دم کو پکڑے ہوئے ہے جبکہ دوسری پوری طاقت کے ساتھ اس پر حملہ کرتی ہے جس کے نتیجے میں مچھلی کے ٹکڑے بکھر جاتے ہیں۔

محقق کیتھرین آئرس کے مطابق یہ سن فش پہلے ہی مردہ تھی اس لیے یہ شکار کرنے کا عمل نہیں تھا۔

Killer whales: orcas blow fish to bits, study finds.

Video from US-based NGO Beneath The Waves shows an orca holding the tail of a sunfish, while another whale charges with full force into the already dead fish, which explodes into pieces – possibly an attempt to turn the fish… pic.twitter.com/ZK4ZUnSzMH

— AFP News Agency (@AFP) July 23, 2026

انہوں نے بتایا کہ ممکن ہے اورکا وہیل مچھلی کو کھانے میں آسانی کے لیے چھوٹے حصوں میں تقسیم کر رہی ہوں تاہم یہ بھی ممکن ہے کہ وہ صرف کھیل رہی ہوں، کیونکہ اورکا وہیل اپنے شکار کے ساتھ کھیلنے کے لیے مشہور ہیں۔

قاتل وہیل۔

کیتھرین آئرس نے کہا کہ اورکا اکثر اپنے شکار کو ٹکڑوں میں تقسیم کرکے اپنے گروہ کے دیگر ارکان خصوصاً بچوں اور کم عمر وہیلوں کے ساتھ بھی بانٹتی ہیں۔

یہ غیرمعمولی مناظر سال 2024 اور سال 2025 کے دوران خلیج کیلیفورنیا میں دو مختلف مواقع پر ریکارڈ کیے گئے جن کی تفصیلات سائنسی جریدے فرنٹیئرز اِن ایتھولوجی میں شائع ہونے والی تحقیقی رپورٹ میں پیش کی گئی ہیں۔

مزید پڑھیے: جرمنی میں ساحل پر پھنسے ہمپ بیک وہیل کو بچانے کی دوڑ، ریسکیو آپریشن جاری

تنظیم اوشن کیئر کے ڈائریکٹر برائے سائنس مارک پیٹر سیمنڈز نے اس رویے کو انسانوں کی اجتماعی دعوتوں سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ جیسے لوگ کھانے کے دوران سماجی روابط بھی قائم رکھتے ہیں اسی طرح اورکا وہیلوں میں بھی خوراک بانٹنے کا عمل سماجی تعلقات کا حصہ ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ شاید یہ اسی طرح ہو جیسے کسی رسمی دعوت میں میزبان گوشت کاٹ کر دوسروں میں تقسیم کرتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اورکا وہیل دنیا کے ذہین ترین سمندری شکاریوں میں شمار ہوتی ہیں اور شکار کے لیے نہایت پیچیدہ حکمت عملیاں استعمال کرتی ہیں۔

اس سے قبل بھی انہیں برف کے بڑے ٹکڑوں پر موجود سیل مچھلیوں کو گرانے کے لیے اجتماعی طور پر لہریں پیدا کرتے دیکھا جا چکا ہے تاکہ انہیں آسانی سے شکار کیا جا سکے۔

تحقیقی رپورٹس میں یہ بھی سامنے آ چکا ہے کہ بعض اورکا وہیل مردہ سالمن مچھلیوں کو اپنے سروں پر رکھتی ہیں تاہم اس عجیب رویے کی وجہ اب تک معلوم نہیں ہو سکی۔

مزید پڑھیں: ممبئی ساحل پر پھنسا 26 فٹ لمبا وہیل کا بچہ ریسکیو کے باوجود دم توڑ گیا

گزشتہ سال شائع ہونے والی ایک اور تحقیق کے مطابق سیلش سی میں رہنے والی شدید خطرے سے دوچار اورکا وہیلوں کو سمندری گھاس کے ٹکڑے توڑ کر ایک دوسرے کی صفائی اور جسم رگڑنے کے لیے بطور آلے استعمال کرتے بھی دیکھا گیا تھا۔

سن فش۔

ویسٹرن آسٹریلیا کی کرٹن یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والی سائنس دان ریبی کا ویلارڈ جو اس تحقیق کا حصہ نہیں تھیں نے کہا کہ یہ مشاہدہ ایک بار پھر ثابت کرتا ہے کہ اورکا وہیل انتہائی ذہین مخلوق ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امید ہے اس طرح کی تحقیقات لوگوں میں ان طاقتور سمندری شکاریوں کے لیے مزید احترام پیدا کریں گی۔

تحقیق کے مطابق سن فش دنیا کی سب سے بڑی ہڈی والی مچھلیوں میں شمار ہوتی ہے جس کا وزن 2 ہزار کلوگرام تک ہو سکتا ہے۔ اس کا چپٹا جسم اور منفرد ساخت اسے دیگر مچھلیوں سے ممتاز بناتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستانی سمندر میں وہیل اور ڈولفن کی 27 اقسام کی موجودگی خوش آئند ہے، وفاقی وزیر بحری امور

ماہرین نے واضح کیا کہ سن فش عام طور پر اس طرح ٹکڑوں میں نہیں بکھرتی جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اورکا وہیل کی ٹکر غیرمعمولی طور پر طاقتور تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اورکا وہیل دلچسپ تحقیق سن فش قاتل وہیل کلر وہیل وہیل پر تحقیق وہیل کی سن فش کو ٹکر

متعلقہ مضامین

  • قاتل وہیل کا انوکھا طرز عمل: دیوہیکل دشمن کی لاش کو زور دار ٹکریں مارنے کی وجہ کیا ہے؟