وادی تیراہ: سیکورٹی، انتظامی اورسہولیات کافقدان ہے، آئی جی ایف سی
اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251214-08-9
وادی تیراہ (مانیٹر نگ ڈ یسک )وادی تیراہ میں سہولیات کا فقدان،سیکورٹی اور انتظامی چیلنجز نے ناقص گورننس کو بے نقاب کردیا، وادی تیراہ میں ابتر صورتحال صوبائی حکومت کی نااہلی اور بدانتظامی کی بدترین مثال ہے، 60 کلومیٹر تک انتظامیہ،پولیس، اسپتال اور اسکول موجود نہیں، حکومتی نااہلی کا فائدہ دہشتگرد و جرائم پیشہ اٹھا رہے ہیں۔ آئی جی ایف سی خیبرپختونخوا نارتھ نے کہا کہ فرنٹیئر کور کے پاس تقریبا 717 کلومیٹرکی پاک افغان سرحد موجود ہے جس میں برف پوش اور سنگلاخ پہاڑ بھی ہیں، باڑ لگا کرآزادانہ نقل و حرکت اور دراندازی کے خلاف رکاوٹ کھڑی کی گئی ہے، دواتوئی میں ایک تنگ راستہ ہے لیکن وہاں پر کوئی چیکنگ نہیں کی جا سکتی کیوں کہ ہمارے پاس اختیار نہیں،اس وقت پوری آبادی کی نگرانی کیلیے صرف 3پولیس اہلکار موجود ہیں۔ونگ کمانڈر کرنل وقاص نے بتایا کہ وادی تیراہ میں 60 کلومیٹر تک ضلعی انتظامیہ،پولیس یا اسپتال موجود نہیں ہے،وادی تیراہ کے علاقے میں کوئی سرکاری اسکول نہیں اور نہ اساتذہ ہیں، جب بچے پڑھیں گے نہیں تو ان میں شعور کیسے آئے گا؟۔ایف سی کے زیر اہتمام 16 اسکول ہیں جن میں ایف سی نے خود اساتذہ کو بھرتی کیا ہے۔ ونگ کمانڈر نے کہا کہ وادی تیراہ میں کوئی اسپتال نہیں ، لوگ ایک انجکشن کیلیے بھی ایف سی کے پاس آتے ہیں، فرنٹیئر کور مقامی افراد کیلیے فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد بھی کرتی ہے۔ونگ کمانڈر نے بتایا کہ وادی تیرہ میں منشیات فروشی کا مسئلہ بہت بڑا ہے جن میں فتنہ الخوارج ملوث ہے، فتنہ الخوارج منشیات اور بھتہ سے اکٹھی کی گئی رقم سیکورٹی فورسز اور عوام کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔ وادی تیراہ میں بدانتظامی اور مقامی حکومت کی نااہلی کا فائدہ شدت پسند اور جرائم پیشہ گروہ اٹھا رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: وادی تیراہ میں ایف سی
پڑھیں:
موضوع: کربلا میں خواتین کا کردار اور ھم
دین و دنیا پروگرام اسلام ٹائمز کی ویب سائٹ پر ہر جمعہ نشر کیا جاتا ہے، اس پروگرام میں مختلف دینی و مذہبی موضوعات کو خصوصاً امام و رہبر کی نگاہ سے، مختلف ماہرین کے ساتھ گفتگو کی صورت میں پیش کیا جاتا ہے۔ ناظرین کی قیمتی آراء اور مفید مشوروں کا انتظار رہتا ہے۔ متعلقہ فائیلیں پروگرام: دین و دنیا
موضوع: کربلا میں خواتین کا کردار اور ھم
مہمان: عالمہ رافعہ منیر
میزبان : مولانا سید تقی زیدی
پیش کار و مدیر: سید انجم رضا
پیشکش: آئی ٹائمز ٹی وی اسلام ٹائمز اردو
خلاصہ گفتگو:
کربلا میں عشق کے دو بلند ترین مینار ہیں: ایک سرورِ شہداء امام حسین علیہ السلام کی قربانی کا جلوہ، اور دوسرا اس آفتابِ عصمت کی تابناکی، جس کا نام حضرت زینب سلام اللہ علیہا ہے۔ یہیں پر خواتین کا کردار تاریخ کی سب سے درخشاں داستان بن کر ابھرتا ہے۔ بی بی زینبؑ نے نہ صرف اپنی آنکھوں سے بھائی کے لہو کا منظر دیکھا، بلکہ اپنی گفتار اور استقامت سے عاشورہ کی نہضت کو ابدی زندگی عطا کی، یزید کی باطل حکومت کو جوابِ شافی دیا اور اسے اخلاقی شکست کا مزہ چکھایا۔ کربلائی خواتین نے اپنے شوہروں، بھائیوں اور بچوں کو حوصلہ دیا کہ وہ اپنے امام کی راہ میں سبقت کریں؛ چنانچہ چھوٹے سے چھوٹے طفلِ شیرخوار نے بھی لبِ تشنہ سے قربانی کا یہ پیغام جگا دیا کہ عشقِ حسینی میں کسی کو کسی کی پروا نہیں، بس جلوۂ حق ہے اور اس کی خاطر ہر چیز فدا۔
یہ انفرادی جہاد ہی نہیں، بلکہ خواتین کا اجتماعی کردار بھی معاشرے کی تشکیل میں ناقابلِ فراموش حیثیت رکھتا ہے۔ شہیدِ امت، رہبر معظم انقلاب نے بارہا اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ معاشرہ خواتین کے کردار کے بغیر اپنی پختگی اور تکمیل نہیں پا سکتا۔ لہٰذا خواتین کو اپنے ہر شعبۂ زندگی، خاص طور پر علم و تعلیم کے میدان میں کمال حاصل کرنا چاہیے، کیونکہ بعض ذمہ داریاں ایسی ہیں جنہیں مرد انجام نہیں دے سکتے، مگر ایک باہوش، باصلاحیت اور تربیت یافتہ عورت انہیں بہترین انداز میں سرانجام دے سکتی ہے۔ یہی وہ راہ ہے جو کربلا کی درسگاہ سے نکلتی ہے اور ہر دور کی خواتین کو اپنی داخلی قوت کو پہچاننے اور اپنے معاشرتی فرائض کو پورا کرنے کا پیغام دیتی ہے۔