’میں کوئی بڑا اداکار نہیں‘ سلمان خان کا چونکا دینے والا اعتراف
اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT
سعودی عرب کے شہر جدہ میں منعقد ہونے والے ریڈ سی فلم فیسٹیول میں بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان کی موجودگی حسبِ معمول توجہ کا مرکز بنی رہی۔
تاہم اس موقع پر سلمان خان نے ایک ایسا بیان دیا جس نے مداحوں کو حیران اور محظوظ کر دیا۔ اداکار نے عاجزی سے کہا کہ وہ خود کو کوئی بڑا یا شاندار اداکار نہیں سمجھتے۔
یہ بھی پڑھیں:
فلم فیسٹیول کے دوران ایک انٹرایکٹو سیشن میں سلمان خان نے 3 دہائیوں پر محیط اپنے فلمی کیریئر پر گفتگو کی۔
شہرت، کامیابیوں یا اپنی وراثت پر بات کرنے کے بجائے انہوں نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ موجودہ دور میں اداکاری کا فن ہی ختم ہوتا جا رہا ہے۔
https://Twitter.
اپنے اداکاری کے انداز پر بات کرتے ہوئے 59 سالہ سلمان خان نے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ وہ کوئی بہت ہی کمال کا اداکار ہیں۔
’آپ مجھے کچھ بھی کرتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں لیکن اداکاری کرتے ہوئے نہیں، اداکاری مجھ سے ہوتی ہی نہیں، جیسا محسوس ہوتا ہے ویسا ہی کر لیتا ہوں، بس یہی ہے۔‘
مزید پڑھیں:
ان کے اس بیان پر محفل میں قہقہے گونج اٹھے۔
میزبان کے سوال پر جب حاضرین سے رائے لی گئی تو سب نے خوش دلی سے ’نہیں‘ میں جواب دیا۔
اس پر سلمان خان نے مزید کہا کہ کبھی کبھی جب وہ روتے ہیں تو انہیں لگتا ہے لوگ ان پر ہنس رہے ہوتے ہیں۔
ریڈ سی فلم فیسٹیول کے 5ویں ایڈیشن میں سلمان خان نے اداکار و فلم ساز ادریس ایلبا کو ریڈ سی آنریری ایوارڈ پیش کیا۔
مزید پڑھیں:
بعد ازاں وہ ادریس ایلبا اور اداکار ایڈگر رامی ریز کے ہمراہ گولڈن گلوبز گالا ڈنر میں تصاویر بنواتے بھی نظر آئے۔
اسی موقع پر سلمان خان کی ہالی ووڈ اسٹار جانی ڈیپ سے ریڈ کارپٹ پر غیر متوقع ملاقات بھی ہوئی۔
سلمان خان نے مختلف فلمی صنعتوں کے درمیان بڑھتے ہوئے ثقافتی تبادلے کو سراہا اور سعودی عرب سے اپنی محبت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یہاں آنا بہت پسند ہے اور وہ اب اکثر اس ملک کا دورہ کرتے ہیں۔
بولی ووڈ کے محاذ پر سلمان خان حال ہی میں ایکشن تھرلر فلم سکندر میں رشمیکا مندانا کے ساتھ نظر آئے۔ اس کے بعد انہوں نے آریان خان کی سیریز ’دی باسٹرڈ آف بولی ووڈ‘ میں مختصر کردار ادا کیا اور ٹی وی ریئلٹی شو بگ باس 19 کی میزبانی بھی کی۔
آئندہ دنوں میں وہ فلم بیٹل آف گلوان میں اداکارہ چترانگدا سنگھ کے ساتھ جلوہ گر ہوں گے، جس کی ہدایت کاری اپورو لکشیا کر رہے ہیں۔ یہ فلم 2020 کے گلوان ویلی تنازعے پر مبنی ہو گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ادریس ایلبا بولی ووڈ جدہ سعودی عرب سلمان خان ہالی ووڈ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ادریس ایلبا بولی ووڈ ہالی ووڈ کرتے ہوئے کہا کہ
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔