Jasarat News:
2026-07-24@01:31:24 GMT

نواب شاہ یوسی 8 میں گندگی کے ڈھیر؛ چیئرمین اور کونسلرزکےخلاف بینرز لگ گئے

اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT

‍‍‍‍‍‍

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

نواب شاہ: منو آباد، غریب آباد اور غلام رسول شاہ کالونی یوسی 8 کے رہائشیوں نے منتخب نمائندوں کی کارکردگی مسترد کر دی ۔صفائی ستھرائی نہ ہونے پر پی پی قیادت سے ایکشن لینے کا مطالبہ کردیا۔

علاقہ مکینوں نے چیئرمین ارشد قریشی اور کونسلرز کے خلاف احتجاجی بینرز لگادیئے جس میں کہا گیا کہ ماہانہ 12 لاکھ روپے کس مد میں خرچ کیے جا رہے ہیں جبکہ زمین پر کام صفر ہے؟۔

https://jasarat.

com/wp-content/uploads/2025/12/WhatsApp-Video-2025-12-14-at-8.53.05-AM.mp4

عوام نے بینرز کے ذریعے پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے منتخب نمائندوں کی غفلت اور مبینہ کرپشن کا نوٹس لے کر علاقے کی حالتِ زار بہتر بنائے۔

ویب ڈیسک عادل سلطان

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی

بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔

عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔

Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy

— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 2026

59 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔

اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔

سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔

متعلقہ مضامین