محمد عرفان واجبات کے ساتھ بحال
اشاعت کی تاریخ: 15th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
محمد عرفان عرصہ تین سال سے حیثیت مشین آپریٹر سائٹ میں واقع میسرز خاص سوکس نٹ وائر میں مستقل ملازم تھا۔ ادارے میں منیمم ویجز کے مطابق تنخواہ نہیں دی جاتی تھی جس پر مزدوروں نے کئی بار درخواست کی مگر اس کا کوئی نتیجہ نہیں آیا۔ محمد عرفان کی جانب سے بار بار یاد دہانی پر ناراض ہو کر انتظامیہ نے زبانی ملازمت سے برخاست کیا۔ انہوں نے سندھ لیبر کورٹ میں مقدمہ دائر کیا، کمپنی کی طرف سے کہا گیا کہ اس کو غیرحاضری کی بنیاد پر تحریری طور پر نکالا گیا۔ عدالت میں دونوں فریقین کی گواہی کے بعد سندھ کورٹ کے معزز جج محمد یاسین قادری نے کمپنی کے موقف کو غلط قرار دیتے ہوئے محمد عرفان کو واجبات کے ساتھ بحال کیا اور بحالی میں ناکامی کی صورت 2لاکھ روپے کمپنسیشن دینے کا فیصلہ دیا۔ اسی عدالت نے میسرز جان ٹیکس کے مزدور شیر محمد خان کی زبانی برطرفی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کمپنی کو حکم دیا کہ وہ ایک لاکھ روپے کمپنسیشن شیر محمد کو ادا کرے۔ دونوں مزدوروں کی پیروی باچا فضل منان ایڈوکیٹ نے کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: محمد عرفان
پڑھیں:
فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
فرانس میں قائم ایک نفسیاتی اسپتال نے ذہنی صحت کے علاج کے لیے ایک غیرمعمولی طریقہ اختیار کیا ہے، جہاں مریضوں کے ڈپریشن، اضطراب اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے گدھوں کی مدد لی جا رہی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ منصوبہ فرانس میں اپنی نوعیت کا واحد تجربہ سمجھا جاتا ہے۔ دارالحکومت پیرس کے مضافات میں سرسبز و شاداب ماحول اور تاریخی عمارتوں سے گھرا ویل ایورارڈ اسپتال مریضوں کو روایتی طبی علاج کے ساتھ ایک منفرد اور پُرسکون تجربہ بھی فراہم کر رہا ہے۔
اس پروگرام کے تحت مریض گدھوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، انہیں سیر کرواتے ہیں، ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور جذباتی تعلق قائم کرتے ہیں۔ حالیہ سیشن کے دوران بھی متعدد مریضوں نے گدھوں کے ساتھ خوشگوار وقت گزارا اور رخصت ہوتے ہوئے انہیں گلے لگا کر محبت کا اظہار کیا۔
60 سالہ مریضہ نیتھلی کے مطابق گدھوں کے ساتھ وقت گزارنے سے انہیں ویسا ہی سکون ملتا ہے جیسا کسی پُرسکون دوا کے استعمال سے حاصل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جانوروں کے ذریعے ہونے والا یہ علاج ذہنی آسودگی فراہم کرتا ہے اور وقتی طور پر تمام پریشانیاں ختم دیتا ہے۔
فرانس کے سرکاری نظامِ صحت کے تحت یہ سیشنز مریضوں کو بغیر کسی معاوضے کے فراہم کیے جاتے ہیں۔ عموماً ہر مریض کو ایک مخصوص گدھے کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے تاکہ وقت کے ساتھ دونوں ایک دوسرے کی عادات اور مزاج سے واقف ہو سکیں۔
اس یونٹ میں خدمات انجام دینے والی نرس آڈرے سیفار کے مطابق نیتھلی کی حالت میں چند ملاقاتوں کے بعد ہی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں وہ جسمانی معذوری کے باعث وہیل چیئر سے نکلنے پر آمادہ نہیں تھیں، لیکن گدھے کے ساتھ تعلق نے ان میں اعتماد پیدا کیا اور اب وہ نہ صرف چیئر سے اٹھتی ہیں بلکہ اپنے جانور کے ساتھ کھڑی بھی ہوتی ہیں۔
دوسری جانب 52 سالہ مریض جیروم کا کہنا ہے کہ اس منفرد پروگرام نے ان کے احساسِ تنہائی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔