افغان سرزمین سے دہشتگردی کا مسلسل خطرہ خطے کیلئے بڑا چیلنج ہے، نمائندہ خصوصی محمد صادق
اشاعت کی تاریخ: 15th, December 2025 GMT
تہران:
افغانستان کے لیے پاکستان کے نمائندہ خصوصی محمد صادق نے کہا ہے کہ افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی کا مسلسل خطرہ خطے کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں نمائندہ خصوصی محمد صادق نے کہا کہ آج ایران کی میزبانی میں منعقد ہونے والے افغانستان کے لیے ہمسایہ ممالک اور روس کے خصوصی نمائندوں کے اجلاس میں شرکت کی۔
ان کا کہنا تھا کہ اجلاس میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے میں نے تمام شریک ممالک کی اس رائے سے اتفاق کیا کہ افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی کا مسلسل خطرہ خطے کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔
محمد صادق نے کہا کہ میں نے زور دیا کہ افغانستان کے عوام پہلے ہی بہت زیادہ تکالیف برداشت کر چکے ہیں اور وہ ایک بہتر مستقبل کے حق دار ہیں، لہٰذا یہ ناگزیر ہے کہ موجودہ قائم مقام حکمران عوام کی مشکلات میں کمی کے لیے عملی اقدامات کریں۔
انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں سب سے پہلا اور اہم قدم یہ ہونا چاہیے کہ افغان سرزمین کو بلا امتیاز ہر قسم کے دہشت گردوں سے پاک کیا جائے۔
Participated in the Meeting of Special Representatives for Afghanistan of the Neighbouring Countries + Russia, hosted by Iran, today.
In my remarks, I agreed with the assessment of all participating countries that the continued threat of terrorism emanating from Afghan soil is a… pic.twitter.com/HlMZllFtMH — Mohammad Sadiq (@AmbassadorSadiq) December 14, 2025
نمائندہ خصوصی نے مزید کہا کہ میں نے یہ نکتہ بھی واضح کیا کہ صرف وہی افغانستان جو دہشت گردوں کو پناہ نہ دے، ہمسایہ اور علاقائی ممالک میں اعتماد پیدا کر سکتا ہے تاکہ وہ افغانستان کے ساتھ بامعنی طور پر روابط استوار کریں۔
انہوں نے کہا کہ اس صورت میں ملک کی وسیع معاشی اور علاقائی روابط کی صلاحیت کو بروئے کار لانے میں مدد مل سکے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: افغانستان کے افغان سرزمین نے کہا کہ کہ افغان کے لیے
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔