ای رجسٹریشن ایپ کے ذریعے پیدائش، اموات، شادی اور طلاق کا آن لائن اندراج ہو سکے گا۔ وزیر بلدیات ذیشان رفیق نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سی آر ایم ایس ایپ وزیراعلی کے ڈیجیٹل پنجاب ویژن کی تکمیل کی جانب اہم قدم ہے۔ شہریوں کو گھر بیٹھے اندراج کی ای رجسٹریشن کی سہولت میسر آ گئی ہے۔ نادرا ڈیٹا سسٹم کے ساتھ لنک ہونے سے خودبخود وہاں بھی اندراج ہو جائے گا۔ اسلام ٹائمز۔ پنجاب میں پاکستان کی پہلی ای رجسٹریشن سہولت کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ محکمہ بلدیات پنجاب نے نادرا کے اشتراک سے سول رجسڑیشن مینجمنٹ سسٹم (سی آر ایم ایس) ایپ لانچ کر دی۔ وزیر بلدیات ذیشان رفیق نے تقریب کے دوران ای رجسٹریشن ایپ کا باضابطہ افتتاح کیا۔ اس موقع پر سیکرٹری لوکل گورنمنٹ شکیل احمد میاں، سی او او نادرا سید عبدالسلام، سپیشل سیکرٹری ارشد بیگ، ڈی جی نادرا پنجاب مسز فضہ شاہد اور ڈی جی لوکل گورنمنٹ احمد کمال مان بھی موجود تھے۔ ای رجسٹریشن ایپ کے ذریعے پیدائش، اموات، شادی اور طلاق کا آن لائن اندراج ہو سکے گا۔ وزیر بلدیات ذیشان رفیق نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سی آر ایم ایس ایپ وزیراعلی کے ڈیجیٹل پنجاب ویژن کی تکمیل کی جانب اہم قدم ہے۔ شہریوں کو گھر بیٹھے اندراج کی ای رجسٹریشن کی سہولت میسر آ گئی ہے۔ نادرا ڈیٹا سسٹم کے ساتھ لنک ہونے سے خودبخود وہاں بھی اندراج ہو جائے گا۔

ذیشان رفیق نے کہا کہ اس حوالے سے محکمہ بلدیات اور نادرا میں ای رجسٹریشن کا معاہدہ طے پایا تھا۔ خوشی ہے کہ چند ماہ کے اندر منفرد فیچرز کی حامل ایپ تیار کر لی گئی جس میں پیدائش، موت، شادی یا طلاق کا سرٹیفیکیٹ بھی مل سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں ترقی یافتہ ممالک کے برابر چل رہا ہے۔ ذیشان رفیق نے کہا کہ شادی، اموات، پیدائش، طلاق کا شفاف انداز میں اندراج کرنے سے درست ڈیٹا جمع ہوگا۔ یہ سسٹم پنجاب بھر میں یونین کونسل کی سطح تک منسلک ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ اکیسویں صدی آئی ٹی کی صدی ہے اور ہر شعبہ ڈیجیٹل ہو رہا ہے۔ نادرا کے تعاون پر شکر گزار ہیں۔ شہریوں کی خدمت ہی ہمارا مشن ہے۔ وزیر بلدیات نے کہا کہ دور افتادہ علاقوں میں نادرا کی طرز پر رجسٹریشن کیلئے موبائل سروس شروع کریں گے۔

حکومت شہریوں کا انتظار کرنے کی بجائے خود ان تک پہنچے گی۔ عوامی خدمت میں پنجاب نے رول ماڈل بن کر دکھایا ہے۔ تقریب سے خطاب میں نادرا کے چیف آپریٹنگ آفیسر سید عبدالسلام نے چیئرمین نادرا کی طرف سے اعلان کیا کہ ای رجسٹریشن کرانے والوں کو خودبخود فارم ب کا نمبر الاٹ کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگلے مرحلے میں ایپ میں برتھ اور ڈیتھ نوٹیفکیشن کا ٹُول بھی شامل ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ لیڈی ہیلتھ ورکرز کو بھی اس سسٹم سے منسلک کیا ہے۔ سیکرٹری لوکل گورنمنٹ شکیل احمد میاں نے ایپ سے آگاہی کیلئے بھرپور عوامی مہم چلانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹل سسٹم سے شہریوں کیلئے گھر بیٹھے سہولت فراہم کر دی گئی۔ دفاتر کے چکر لگانے اور تاخیر کی زحمت سے نجات ملے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ذیشان رفیق نے وزیر بلدیات اندراج ہو نے کہا کہ انہوں نے طلاق کا

پڑھیں:

جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ

ملک میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات کے لیے جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو جعلی دواؤں سے محفوظ بنانا اور دوا سازی کے شعبے میں شفافیت اور نگرانی کو مزید موثر بنانا ہے۔منگل کے روز وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نئے نظام کے نفاذ کے لیے ڈرگ لیبلنگ اور پیکنگ رولز میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد ایک جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا.جس کے ذریعے ادویات کی تیاری سے لے کر صارف تک پہنچنے کے پورے عمل کی نگرانی اور تصدیق ممکن ہو سکے گی۔وزیر صحت کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان سے جعلی، نقلی اور ناقص معیار کی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ملک میں دستیاب ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور تصدیق کیا جا سکے گا.جس سے ادویات کے نظام میں شفافیت، تحفظ اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔نئے ضوابط کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کی پیکنگ پر معیاری ٹو ڈی (2D) بارکوڈز اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ ادارے ادویات کی نقل و حرکت پر پیداواری مرحلے سے لے کر صارف تک مسلسل نظر رکھ سکیں گے، جبکہ جعلی مصنوعات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد عوام کسی بھی دوا کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ، قیمت اور تصدیقی حیثیت سمیت دیگر اہم معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے مریضوں کو بہتر اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی اور دواسازی کے شعبے پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔اس منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کرے گی جو دوا ساز صنعت کے لیے تفصیلی تکنیکی رہنما اصول بھی جاری کرے گی تاکہ نئے نظام سے مطابقت پیدا کرنے میں آسانی ہو۔ اعلامیے کے مطابق اس سلسلے میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس پہلے ہی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ منتقلی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ڈیجیٹل نظام روایتی نگرانی کے طریقوں کی جگہ لے کر ادویات کی فراہمی کے پورے نظام کو زیادہ محفوظ اور معیاری بنائے گا۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کو خطے کے ان ممالک کی صف میں شامل کرے گا جہاں ادویات کی نگرانی اور ریگولیشن کے جدید ترین نظام رائج ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی دیوار ثابت ہوگا اور عوامی صحت، انسانی جانوں اور دواسازی کے نظام پر اعتماد کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • کراچی، محسن نقوی کا صفورا میں واقع نادرا میگا سینٹر کا اچانک دورہ
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے