پیدائش، اموات، شادی اور طلاق کا آن لائن اندراج، شہریوں کی مشکل آسان
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
راودلشاد:پاکستان کی پہلی ای رجسٹریشن سہولت کا آغاز, محکمہ بلدیات پنجاب نے نادرا کے اشتراک سے سی آر ایم ایس ایپ لانچ کر دی.
وزیر بلدیات ذیشان رفیق نے ای رجسٹریشن ایپ کا باضابطہ افتتاح کیا, سیکرٹری بلدیات شکیل احمد، سی او او نادرا سید عبدالسلام، سپیشل سیکرٹری ارشد بیگ, ڈی جی نادرا پنجاب فضہ شاہد، ڈی جی لوکل گورنمنٹ احمد کمال مان نے شرکت کی۔
ایپ کے ذریعے پیدائش، اموات، شادی اور طلاق کا آن لائن اندراج ہوسکے گا، وزیر بلدیات ذیشان رفیق کا کہنا تھا کہ شہریوں کو گھر بیٹھے اندراج کی ای رجسٹریشن کی سہولت میسر آ گئی ہے۔
کشمیر میں بارش نہ ہونے کے سبب خشک سالی, خطرے کی گھنٹی بجا دی گئی
نادرا ڈیٹا سسٹم کے ساتھ لنک ہونے سے خودبخود وہاں اندراج ہو جائیگا، محکمہ بلدیات اور نادرا کے درمیان ای رجسٹریشن کا معاہدہ طے پایا تھا۔
چند ماہ میں منفرد ایپ تیار کر لی گئی، سرٹیفیکیٹ بھی مل سکے گا،شادی، اموات، پیدائش، طلاق کا اندراج کرنے سے درست ڈیٹا جمع ہوگا۔
یہ سسٹم پنجاب بھر میں یونین کونسل کی سطح تک منسلک ہوگا، دورافتادہ علاقوں میں رجسٹریشن کیلئے موبائل سروس شروع کریں گے، حکومت شہریوں کا انتظار کرنے کی بجائے خود ان تک پہنچے گی۔
انگاروں پر چلنے والے آٹھ انسانوں کے ساتھ "سوشل میڈیا انصاف" کے بعد کیا ہوا؟
نادرا نے ای رجسٹریشن کرانے والوں کو خودبخود فارم ب کا نمبر الاٹ کرنے کا اعلان کیا۔
سی او او نادرا عبدالسلام کا کہنا تھا کہ اگلے مرحلے میں ایپ میں برتھ اور ڈیتھ نوٹیفکیشن کا ٹُول شامل ہوگا،لیڈی ہیلتھ ورکرز کو بھی اس سسٹم سے منسلک کیا ہے۔
سیکرٹری لوکل گورنمنٹ نے ایپ سے آگاہی کے لئے بھرپور عوامی مہم چلانے کی ہدایت کردی۔
سیکرٹری بلدیات شکیل احمد کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل سسٹم سے شہریوں کیلئے گھر بیٹھے سہولت فراہم کر دی گئی،دفاتر کے چکر لگانے اور تاخیر کی زحمت سے نجات ملے گی۔
موٹروے ایم 5 بند
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
حکومت کاچینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)حکومتِ پاکستان نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سرکاری دستاویزات کے مطابق 95.049 ملین روپے مالیت کی یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکرٹریٹ کے استعمال کیلئےحاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود، ماہرین اور دیگر اہم شخصیات کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے، اسی مقصد کے تحت نئی بلٹ پروف گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سٹاک مارکیٹ میں مندی، انڈیکس ایک لاکھ 70 ہزار پوائنٹس کی حد کھو بیٹھا
دستاویزات کے مطابق یہ گاڑی پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم دو ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنہیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا جن کی خریداری کا عمل جاری ہے۔
سی پیک سیکرٹریٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث بروقت بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔
دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ نجی مارکیٹ سے بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کرنا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔
ٹرمپ کو بغیر سوچے سمجھے جارحیت کی قیمت چکانا پڑے گی: عباس عراقچی
حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
حکومت کو تین ٹویوٹا ڈیلرز کی جانب سے قیمتیں موصول ہوئیں، جن میں ٹویوٹا سینٹرل موٹرز نے 95.049 ملین روپے، ٹویوٹا پورٹ قاسم نے 95.25 ملین روپے اور ٹویوٹا سوسائٹی نے 95.45 ملین روپے کی پیشکش کی، حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
دستاویزات کے مطابق سی پیک سیکرٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ فنڈز دستیاب نہیں تھے، جس کے بعد وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث خریداری کا آرڈر جاری نہیں ہو سکا۔
پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی نئی قیمت کا اعلان
وزارت نے فنڈز کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں سے رقم مختص کی، جن میں سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے ایک کروڑ 88 لاکھ روپے، وفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے ایک کروڑ 10 لاکھ روپے اور پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے ایک کروڑ 60 لاکھ روپے شامل ہیں، ان فنڈز میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے تھے۔