آر ٹی انڈیا نے شہباز شریف سے متعلق پوسٹ حذف کر دی
اشاعت کی تاریخ: 15th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251215-01-2
نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر آر ٹی انڈیا نے وزیراعظم شہباز شریف کے حوالے سے شائع کی گئی ایک پوسٹ حذف کر دی ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ وزیراعظم روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کیلیے انتظار کرتے رہے۔ آر ٹی انڈیا نے وضاحت میں کہا ہے کہ یہ پوسٹ واقعات کی غلط عکاسی ہو سکتی تھی۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب وزیراعظم شہباز شریف ترکمانستان کے شہر اشک آباد میں ایک بین الاقوامی فورم میں شرکت کیلیے موجود تھے۔ فورم کے موقع پر وزیراعظم نے متعدد عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں، جن میں ترک صدر رجب طیب اردوان، ایرانی صدر مسعود پزشکیان، تاجکستان کے صدر امام علی رحمان، کرغزستان کے صدر صدر جپاروف اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن شامل تھے۔ وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے سوشل میڈیا پر ایک وڈیو شیئر کی، جس میں وزیراعظم شہباز شریف کو روسی صدر پیوٹن سے مصافحہ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے ان ملاقاتوں کو خوشگوار اور مثبت قرار دیا۔ وزیراعظم کے ترجمان برائے خارجہ میڈیا مشرف زیدی نے بھی وڈیو شیئر کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کی تمام عالمی رہنماؤں کے ساتھ ملاقاتیں مفید رہیں۔ اسی وڈیو کو پاکستان میں روسی سفارتخانے کی جانب سے بھی شیئر کیا گیا۔ تاہم آر ٹی انڈیا نے ایک مختلف وڈیو کے ساتھ یہ تاثر دیا تھا کہ وزیراعظم نے پیوٹن سے ملاقات کیلیے طویل انتظار کیا، جسے بعد ازاں حذف کر دیا گیا۔ بعد میں جاری وضاحتی بیان میں آر ٹی انڈیا نے اعتراف کیا کہ پوسٹ حقائق کی غلط ترجمانی پر مبنی ہو سکتی تھی۔ دوسری جانب روسی خبر رساں ایجنسی کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف بعد ازاں صدر پیوٹن اور ترک صدر اردوان کی ملاقات میں شامل بھی ہوئے تھے۔ اس معاملے پر وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے کہا کہ ایک بھارتی میڈیا ادارے کی جانب سے جھوٹی خبر شائع کر کے پھر اسے حذف کرنا خود اس کی ساکھ پر سوالیہ نشان ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: وزیراعظم شہباز شریف ا ر ٹی انڈیا نے
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔