پیوٹن سے ملاقات میں انتظار پر جھوٹی خبر؟ آر ٹی انڈیا نے وزیراعظم شہباز شریف سے متعلق پوسٹ حذف کر دی
اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر آر ٹی انڈیا نے وزیرِاعظم شہباز شریف کے حوالے سے شائع کی گئی ایک پوسٹ حذف کر دی ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ وزیراعظم روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کے لیے انتظار کرتے رہے۔
آر ٹی انڈیا نے وضاحت میں کہا ہے کہ یہ پوسٹ واقعات کی غلط عکاسی ہو سکتی تھی۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب وزیراعظم شہباز شریف ترکمانستان کے شہر اشک آباد میں ایک بین الاقوامی فورم میں شرکت کے لیے موجود تھے۔
فورم کے موقع پر وزیراعظم نے متعدد عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں، جن میں ترک صدر رجب طیب اردوان، ایرانی صدر مسعود پزشکیان، تاجکستان کے صدر امام علی رحمان، کرغزستان کے صدر صدر جپاروف اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن شامل تھے۔
وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں وزیراعظم شہباز شریف کو روسی صدر پیوٹن سے مصافحہ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے ان ملاقاتوں کو خوشگوار اور مثبت قرار دیا۔ وزیراعظم کے ترجمان برائے خارجہ میڈیا مشرف زیدی نے بھی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کی تمام عالمی رہنماؤں کے ساتھ ملاقاتیں مفید رہیں۔
Prime Minister of Pakistan @CMShehbaz at Ashgabad.
Warm and cordial exchanges with President of Russia Vladimir Putin @kremlinrussia_E , President of Turkey @RTErdogan and President of… pic.twitter.com/J72d0OcA3T — Attaullah Tarar (@TararAttaullah) December 12, 2025
اسی ویڈیو کو پاکستان میں روسی سفارتخانے کی جانب سے بھی شیئر کیا گیا۔ تاہم آر ٹی انڈیا نے ایک مختلف ویڈیو کے ساتھ یہ تاثر دیا تھا کہ وزیراعظم نے پیوٹن سے ملاقات کے لیے طویل انتظار کیا، جسے بعد ازاں حذف کر دیا گیا۔
بعد میں جاری وضاحتی بیان میں آر ٹی انڈیا نے اعتراف کیا کہ پوسٹ حقائق کی غلط ترجمانی پر مبنی ہو سکتی تھی۔ دوسری جانب روسی خبر رساں ایجنسی کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف بعد ازاں صدر پیوٹن اور ترک صدر اردوان کی ملاقات میں شامل بھی ہوئے تھے۔
اس معاملے پر وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے کہا کہ ایک بھارتی میڈیا ادارے کی جانب سے جھوٹی خبر شائع کر کے پھر اسے حذف کرنا خود اس کی ساکھ پر سوالیہ نشان ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: وزیراعظم شہباز شریف آر ٹی انڈیا نے سے ملاقات پیوٹن سے
پڑھیں:
آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
آزاد جموں و کشمیر کے شہر میرپور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ 47 روز سے معطل انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صرف موبائل انٹرنیٹ بحال کیا گیا ہے، جبکہ وائی فائی انٹرنیٹ سروس بلنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد بحال کی جائے گی۔
یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں 5 جون 2026 کو انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی تھیں۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا تھا جب جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک شروع کرتے ہوئے 9 جون کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔
بعد ازاں 5 جون کو ایکشن کمیٹی کے ایک مرکزی رکن پر مبینہ حملے اور مظاہرین و سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد حکومت نے کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جبکہ اسی روز پورے آزاد کشمیر میں بغیر پیشگی اطلاع انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی تھی۔
اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اور الیکشن کمیشن کی جانب سے انٹرنیٹ بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ میرپور میں سروس جلد بحال ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ سروس جلد بحال کر دی جائے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات قریب ہیں۔ الیکشن کمیشن پہلے ہی سکیورٹی اور انتخابی انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے انتخابات تین مراحل میں کرانے کا اعلان کر چکا ہے۔
شیڈول کے مطابق پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن، دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی۔دوسری جانب کالعدم ایکشن کمیٹی کا راولاکوٹ میں احتجاج تاحال جاری ہے۔ کمیٹی کے اہم مطالبات میں مہاجرینِ مقبوضہ کشمیر کے لیے آزاد کشمیر اسمبلی میں مختص 12 نشستوں کے خاتمے سمیت دیگر آئینی اور انتظامی امور شامل ہیں۔