روس کا یوکرین پر ہائپرسونک میزائل حملہ، لاکھوں گھر تاریکی میں، توانائی نظام لرز اٹھا
اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT
KYIV:
روس نے یوکرین پر ایک اور بڑے فضائی حملے میں ہائپرسونک میزائلوں اور ڈرونز کا استعمال کرتے ہوئے فوجی و توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ملک بھر میں بجلی کا نظام شدید متاثر ہو گیا اور دس لاکھ سے زائد گھروں کو اندھیرے کا سامنا کرنا پڑا۔
یوکرینی حکام کے مطابق ہفتے کی رات حملوں کی ایک طاقتور لہر نے توانائی اور صنعتی انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنایا، جس سے بجلی کی فراہمی بڑے پیمانے پر معطل ہو گئی۔
صدر ولودیمیر زیلنسکی نے بتایا کہ روسی افواج نے رات گئے 450 سے زائد ڈرونز اور کم از کم 30 میزائل داغے، جن کے نتیجے میں متعدد شہری تنصیبات کو نقصان پہنچا۔
یوکرین کے وزیر داخلہ کے مطابق ملک کے پانچ مختلف علاقوں میں حملے کیے گئے، جن میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے۔ ریسکیو ادارے آگ بجھانے اور بجلی بحال کرنے کے لیے مسلسل کارروائیاں کر رہے ہیں۔
دوسری جانب روسی وزارتِ دفاع نے حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ یہ کارروائی روس کے شہری اہداف پر یوکرینی حملوں کے جواب میں کی گئی۔
روسی حکام کے مطابق حملے میں یوکرین کی فوجی اور توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا اور اس دوران کنزال ہائپرسونک میزائل سمیت جدید ہتھیار استعمال کیے گئے۔
تازہ حملے نے ایک بار پھر یوکرین کے توانائی نظام کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے جبکہ سرد موسم کے دوران لاکھوں شہریوں کے لیے صورتحال مزید مشکل ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔