Jasarat News:
2026-06-03@05:58:19 GMT

یقین سے شک تک

اشاعت کی تاریخ: 15th, December 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251215-03-7
ہماری فکری اور تہذیبی شکست کا آغاز کسی بیرونی حملے یا فوجی یلغار سے نہیں ہوا تھا۔ یہ شکست اْس دن شروع ہوئی جب ہم نے یہ فرض کر لیا کہ کائنات کا اصل مرکز انسان ہے اور خدا محض ایک اخلاقی حوالہ یا روحانی سہارا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب علم کا محور بدل گیا، یقین سے وابستہ دنیا تحلیل ہونے لگی اور شک کے دروازے کھل گئے۔ کبھی علم کا مقصد معرفت تھا، کائنات کے پردوں کے پیچھے موجود حکمت کو سمجھنا، زندگی کے رموز کو جاننا اور اپنے وجود کے اسرار تک پہنچنا۔ مگر آج علم کا مقصد صرف سہولت ہے، آسائش ہے اور انسان کے ظاہری جسم کی ضروریات پوری کرنا ہے۔ علم کا رشتہ روح سے نہیں رہا، جیب سے رہ گیا ہے۔ جب سے انسان نے یہ تصور اپنا لیا کہ جو دکھائی نہ دے وہ حقیقت نہیں، جو ماپا نہ جائے وہ علمی نہیں، جو تجربے میں نہ آئے وہ معتبر نہیں اسی دن سے غیب غیر علمی ٹھیرا، روح مشکوک ہو گئی، اور خدا کا ذکر انفرادی عقیدے کی حد تک محدود کر دیا گیا۔ یقین کو دقیانوسی کہا گیا اور وحی کو غیر سائنسی قرار دے دیا گیا۔ یہ چھوٹی سی فکری سرکشی آگے چل کر پوری تہذیب کی بنیادیں ہلا گئی۔ انسان نے خود کو عقل ِ کل سمجھ کر کائنات میں وہ مقام حاصل کرنا چاہا جو کبھی صرف خالق کے لیے مخصوص تھا، اور اسی جدوجہد میں وہ اپنی حقیقت سے بہت دور نکل گیا۔

جب علم کو لذت کا خادم بنا دیا جائے تو علم اپنی روح کھو دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جدید یونیورسٹیاں دانش گاہیں نہیں رہیں، مہارت فیکٹریاں بن گئی ہیں۔ اب طالب علم اس لیے نہیں پڑھتا کہ اسے دنیا کی حقیقت سمجھنی ہے، بلکہ اس لیے پڑھتا ہے کہ اسے ایک اچھی نوکری چاہیے، زیادہ کمائی چاہیے، بہتر سہولتیں چاہئیں۔ اس سوچ نے علم کو سطحی بنا دیا ہے۔ پہلے فلسفہ انسان کے باطن میں اُترا کرتا تھا، اب انسان لیپ ٹاپ کے سامنے بیٹھ کے اپنے ہی وجود پر سوال اٹھانے سے ڈرتا ہے۔ پہلے مطالعہ انسان کو وسعت دیتا تھا، اب زیادہ تر لوگ وہی پڑھتے ہیں جو اْن کی خواہشات کو تقویت دے۔ پہلے علم انسان کو آسمان تک لے جاتا تھا، آج علم انسان کو زمین سے باندھ کر رکھتا ہے، جہاں وہ اپنے جسم کو تندرست رکھنے، اپنی خواہشات کو پورا کرنے اور اپنی دولت بڑھانے میں ہی الجھا رہتا ہے۔ یہ تبدیلی صرف ذہن تک محدود نہیں رہی، ہمارے رشتوں، تعلقات اور معاشرت تک بھی اُتر آئی۔ جو نکاح کبھی روحانی میثاق تھا، دو انسانوں کا خدا کی رضا کے تحت باہم جڑ جانا تھا، آج وہ ایک سماجی کنٹریکٹ بن کر رہ گیا ہے۔ ایسا کنٹریکٹ جس کا مقصد اخلاقی ذمے داری نہیں بلکہ باہمی سہولت ہے۔ جب دو لوگ ایک دوسرے سے سہولت لینا شروع کر دیتے ہیں، تو محبت پیچھے رہ جاتی ہے اور خود غرضی آگے آ جاتی ہے۔ اسی لیے جدید دور میں رشتے مضبوط نہیں رہے۔ ازدواجی تعلق کا درجہ گھٹ کر ’’partnership‘‘ رہ گیا ہے، اور partnership کا اصول ہی یہ ہے کہ جہاں فائدہ ختم، وہاں تعلق ختم۔

بچوں کی پرورش بھی ایک روحانی ذمے داری کے بجائے تکنیکی مسئلہ بن گئی ہے۔ پہلے ماں باپ کی قربانیوں میں عظمت تھی، آج انہیں غیر ضروری مشقت سمجھا جاتا ہے۔ پہلے والدین کی خدمت زندگی کا امتحان تھی، آج یہ ایک جذباتی بوجھ محسوس ہونے لگی ہے۔ والدین اولڈ ہومز میں منتقل کر دیے جاتے ہیں اور بچوں کو ڈے کیئرز میں۔ کبھی گھر ایک روحانی دائرہ تھا، آج وہ چار دیواری ہے جس میں لوگ ایک ساتھ رہتے تو ہیں مگر دل ایک نہیں ہوتا۔

اخلاقیات کا بحران بھی اسی فکری تبدیلی کی پیداوار ہے۔ جب انسان خیر و شر کے پیمانے وحی کے بجائے عقل کے سپرد کر دیتا ہے تو ہر فرد اپنی اخلاقیات خود بنانے لگتا ہے۔ ایک انسان کہتا ہے کہ لذت سب سے بڑی خیر ہے، دوسرا کہتا ہے آزادی خیر ہے، تیسرا کہتا ہے خواہش خیر ہے، اور چوتھا کہتا ہے کوئی خیر سرے سے موجود ہی نہیں۔ اس افراتفری میں ایسے اعمال جنہیں کبھی انسانیت کی تاریخ میں بدترین جرم سمجھا گیا؛ مثلاً ہم جنس پرستی، جنسی انارکی، خاندانی ڈھانچے کی توڑ پھوڑ، اور حتیٰ کہ حیاء کے بنیادی تصور کی بے حرمتی انہیں ’’حق‘‘ اور ’’انسانی آزادی‘‘ کا نام دے دیا گیا۔ جب خیر کا تصور مسخ ہو جائے تو برائی اپنے چہرے پر میک اپ کر لیتی ہے اور معاشرہ اسے حسن سمجھنے لگتا ہے۔

سیاست اور ریاست بھی اسی فکری تحلیل کی زد میں آئیں۔ پہلے ریاست کا مقصد انسانوں میں عدل قائم کرنا، اخلاقیات کو مضبوط کرنا اور معاشرے کو اعلیٰ اقدار کی طرف لے جانا تھا۔ مگر جدید ریاست کا مقصد عوام کی خواہشات پوری کرنا ہے، خواہ وہ خواہشات کتنی ہی ناپختہ، سطحی یا انسانیت دشمن کیوں نہ ہوں۔ پہلے قانون وحی سے پھوٹتا تھا، اب قانون بازار سے نکلتا ہے۔ پہلے اخلاقیات ریاست سے بالاتر اصول تھی، اب اخلاقیات کو ریاست کی ضرورتوں کے مطابق ڈھالا جاتا ہے۔ عوام اگر کل کو یہ فیصلہ کر لیں کہ نکاح کی کوئی ضرورت نہیں، خاندان غیر ضروری ہے، لذت انسانی حق ہے اور مادہ زندگی کا مقصد ہے، تو جدید ریاست ان خواہشات کو قانون بنا دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج قانون کا سرچشمہ اخلاقیات نہیں بلکہ معاشی مفادات ہیں۔

انسانی نفسیات پر اس تہذیبی بگاڑ کے اثرات سب سے زیادہ واضح ہیں۔ روح کو بھوک لگے تو جسم کبھی سیر نہیں ہو سکتا، مگر جدید انسان نے پوری توجہ جسم کو دے دی ہے اور روح کو بھول گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج دنیا بھر میں بے چینی، ڈپریشن، تنہائی، ذہنی خلفشار اور بے مقصدیت کی شرح تاریخ میں سب سے زیادہ ہے۔ انسان کے پاس دولت ہے، آسائشیں ہیں، ٹیکنالوجی ہے، علاج ہیں مگر دل میں سکون نہیں۔ کبھی عبادت روحانی بالیدگی کا ذریعہ تھی، اب لوگ روح کے خلا کو meditational apps, motivational videos اور self-help کتابوں سے بھرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر یہ عارضی مرہم ہیں، زخم جوں کا توں رہتا ہے کیونکہ زخم کا تعلق جسم سے نہیں روح سے ہے۔

اسلام کے نزدیک دنیا ایک عارضی پڑاؤ ہے۔ انسان یہاں اپنی صلاحیتوں کو آزمانے بھیجا گیا ہے، امتحان دینے کے لیے، اور اپنے اندر چھپی ہوئی اخلاقی توانائی کو بیدار کرنے کے لیے۔ مگر جدیدیت نے دنیا کو دائمی حقیقت بنا دیا ہے، جس کے نتیجے میں انسان نے اپنی تمام توانائیاں صرف اس مختصر زندگی کے گرد مرکوز کر لیں۔ پہلے انسان دنیا کو ایک ذریعہ سمجھتا تھا، آج اسے مقصد سمجھ بیٹھا ہے۔ اسی لیے جدید انسان دنیا کو جتنا حاصل کرتا ہے، دنیا اتنی ہی اس کے اندر خلا پیدا کرتی ہے۔ وہ چیزیں بڑھاتا ہے مگر خود کم ہوتا جاتا ہے۔ یہی وہ بنیادی تہذیبی ٹکراؤ ہے جس نے آج انسانیت کو دو راستوں پر کھڑا کر دیا ہے۔ ایک راستہ وہ ہے جو انسان کو اس کی اصل طرف لے جاتا ہے اپنے خالق کی طرف، اپنے مقصد ِ وجود کی طرف، اپنے باطن کی روشنی کی طرف۔ دوسرا راستہ وہ ہے جو انسان کو خواہشات کی غلامی میں گرفتار کرتا ہے، جہاں سب کچھ ہے مگر سکون نہیں، کامیابی ہے مگر مقصد نہیں، علم ہے مگر بصیرت نہیں۔

آخر میں اصل سوال یہی ہے کہ ہم کس راستے کے مسافر ہیں؟ وہ راستہ جو انسان کو بلند کرتا ہے، یا وہ جو انسان کو اس کے اپنے نفس کا غلام بنا دیتا ہے؟ ہم اس دنیا کی ظاہری روشنی میں کھو رہے ہیں یا اندر کی تاریکی کو دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں؟ ہماری دوڑ ترقی کے نام پر ہے یا بھاگنے کے نام پر؟ ہم اپنی روح کو جگانا چاہتے ہیں یا اسے نیند میں رکھ کر دنیا کی جھوٹی چمک پر تکیہ کرنا چاہتے ہیں؟ یہ وہ فیصلے ہیں جو قوموں کو مراتب دیتے ہیں یا زوال۔ اور آج انسانیت اس دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ہر قدم یا تو اسے اوپر لے جا سکتا ہے یا سیدھا اندھیرے میں دھکیل سکتا ہے۔ فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہم اپنی اگلی نسل کو کون سی دنیا دے کر جانا چاہتے ہیں وہ دنیا جس میں انسان اپنے ربّ، اپنی فطرت اور اپنی حقیقت سے جڑا ہوا ہو، یا وہ دنیا جس میں انسان خواہشات کا غلام ہو کر خود کو بھی بھول جائے اور خدا کو بھی۔

محمد ادریس لاشاری سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جو انسان کو جاتا ہے کہتا ہے کا مقصد ہے اور کی طرف ہے مگر علم کا گیا ہے

پڑھیں:

سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک

حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔

ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔

اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔

آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔

موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔

یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔

حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔

عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔

بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔

وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔

متعلقہ مضامین

  • 99 ووٹ لے کر بنگلہ دیش نے دنیا کو حیران کردیا، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی صدارت جیت لی
  • کشمیر کا وہ گاوٴں جس کے باسی فون چارج کرنے کے لیے 45 کلومیٹر دور جاتے ہیں
  • جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
  • دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی 
  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا