Jasarat News:
2026-07-24@14:47:06 GMT

یقین سے شک تک

اشاعت کی تاریخ: 15th, December 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251215-03-7
ہماری فکری اور تہذیبی شکست کا آغاز کسی بیرونی حملے یا فوجی یلغار سے نہیں ہوا تھا۔ یہ شکست اْس دن شروع ہوئی جب ہم نے یہ فرض کر لیا کہ کائنات کا اصل مرکز انسان ہے اور خدا محض ایک اخلاقی حوالہ یا روحانی سہارا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب علم کا محور بدل گیا، یقین سے وابستہ دنیا تحلیل ہونے لگی اور شک کے دروازے کھل گئے۔ کبھی علم کا مقصد معرفت تھا، کائنات کے پردوں کے پیچھے موجود حکمت کو سمجھنا، زندگی کے رموز کو جاننا اور اپنے وجود کے اسرار تک پہنچنا۔ مگر آج علم کا مقصد صرف سہولت ہے، آسائش ہے اور انسان کے ظاہری جسم کی ضروریات پوری کرنا ہے۔ علم کا رشتہ روح سے نہیں رہا، جیب سے رہ گیا ہے۔ جب سے انسان نے یہ تصور اپنا لیا کہ جو دکھائی نہ دے وہ حقیقت نہیں، جو ماپا نہ جائے وہ علمی نہیں، جو تجربے میں نہ آئے وہ معتبر نہیں اسی دن سے غیب غیر علمی ٹھیرا، روح مشکوک ہو گئی، اور خدا کا ذکر انفرادی عقیدے کی حد تک محدود کر دیا گیا۔ یقین کو دقیانوسی کہا گیا اور وحی کو غیر سائنسی قرار دے دیا گیا۔ یہ چھوٹی سی فکری سرکشی آگے چل کر پوری تہذیب کی بنیادیں ہلا گئی۔ انسان نے خود کو عقل ِ کل سمجھ کر کائنات میں وہ مقام حاصل کرنا چاہا جو کبھی صرف خالق کے لیے مخصوص تھا، اور اسی جدوجہد میں وہ اپنی حقیقت سے بہت دور نکل گیا۔

جب علم کو لذت کا خادم بنا دیا جائے تو علم اپنی روح کھو دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جدید یونیورسٹیاں دانش گاہیں نہیں رہیں، مہارت فیکٹریاں بن گئی ہیں۔ اب طالب علم اس لیے نہیں پڑھتا کہ اسے دنیا کی حقیقت سمجھنی ہے، بلکہ اس لیے پڑھتا ہے کہ اسے ایک اچھی نوکری چاہیے، زیادہ کمائی چاہیے، بہتر سہولتیں چاہئیں۔ اس سوچ نے علم کو سطحی بنا دیا ہے۔ پہلے فلسفہ انسان کے باطن میں اُترا کرتا تھا، اب انسان لیپ ٹاپ کے سامنے بیٹھ کے اپنے ہی وجود پر سوال اٹھانے سے ڈرتا ہے۔ پہلے مطالعہ انسان کو وسعت دیتا تھا، اب زیادہ تر لوگ وہی پڑھتے ہیں جو اْن کی خواہشات کو تقویت دے۔ پہلے علم انسان کو آسمان تک لے جاتا تھا، آج علم انسان کو زمین سے باندھ کر رکھتا ہے، جہاں وہ اپنے جسم کو تندرست رکھنے، اپنی خواہشات کو پورا کرنے اور اپنی دولت بڑھانے میں ہی الجھا رہتا ہے۔ یہ تبدیلی صرف ذہن تک محدود نہیں رہی، ہمارے رشتوں، تعلقات اور معاشرت تک بھی اُتر آئی۔ جو نکاح کبھی روحانی میثاق تھا، دو انسانوں کا خدا کی رضا کے تحت باہم جڑ جانا تھا، آج وہ ایک سماجی کنٹریکٹ بن کر رہ گیا ہے۔ ایسا کنٹریکٹ جس کا مقصد اخلاقی ذمے داری نہیں بلکہ باہمی سہولت ہے۔ جب دو لوگ ایک دوسرے سے سہولت لینا شروع کر دیتے ہیں، تو محبت پیچھے رہ جاتی ہے اور خود غرضی آگے آ جاتی ہے۔ اسی لیے جدید دور میں رشتے مضبوط نہیں رہے۔ ازدواجی تعلق کا درجہ گھٹ کر ’’partnership‘‘ رہ گیا ہے، اور partnership کا اصول ہی یہ ہے کہ جہاں فائدہ ختم، وہاں تعلق ختم۔

بچوں کی پرورش بھی ایک روحانی ذمے داری کے بجائے تکنیکی مسئلہ بن گئی ہے۔ پہلے ماں باپ کی قربانیوں میں عظمت تھی، آج انہیں غیر ضروری مشقت سمجھا جاتا ہے۔ پہلے والدین کی خدمت زندگی کا امتحان تھی، آج یہ ایک جذباتی بوجھ محسوس ہونے لگی ہے۔ والدین اولڈ ہومز میں منتقل کر دیے جاتے ہیں اور بچوں کو ڈے کیئرز میں۔ کبھی گھر ایک روحانی دائرہ تھا، آج وہ چار دیواری ہے جس میں لوگ ایک ساتھ رہتے تو ہیں مگر دل ایک نہیں ہوتا۔

اخلاقیات کا بحران بھی اسی فکری تبدیلی کی پیداوار ہے۔ جب انسان خیر و شر کے پیمانے وحی کے بجائے عقل کے سپرد کر دیتا ہے تو ہر فرد اپنی اخلاقیات خود بنانے لگتا ہے۔ ایک انسان کہتا ہے کہ لذت سب سے بڑی خیر ہے، دوسرا کہتا ہے آزادی خیر ہے، تیسرا کہتا ہے خواہش خیر ہے، اور چوتھا کہتا ہے کوئی خیر سرے سے موجود ہی نہیں۔ اس افراتفری میں ایسے اعمال جنہیں کبھی انسانیت کی تاریخ میں بدترین جرم سمجھا گیا؛ مثلاً ہم جنس پرستی، جنسی انارکی، خاندانی ڈھانچے کی توڑ پھوڑ، اور حتیٰ کہ حیاء کے بنیادی تصور کی بے حرمتی انہیں ’’حق‘‘ اور ’’انسانی آزادی‘‘ کا نام دے دیا گیا۔ جب خیر کا تصور مسخ ہو جائے تو برائی اپنے چہرے پر میک اپ کر لیتی ہے اور معاشرہ اسے حسن سمجھنے لگتا ہے۔

سیاست اور ریاست بھی اسی فکری تحلیل کی زد میں آئیں۔ پہلے ریاست کا مقصد انسانوں میں عدل قائم کرنا، اخلاقیات کو مضبوط کرنا اور معاشرے کو اعلیٰ اقدار کی طرف لے جانا تھا۔ مگر جدید ریاست کا مقصد عوام کی خواہشات پوری کرنا ہے، خواہ وہ خواہشات کتنی ہی ناپختہ، سطحی یا انسانیت دشمن کیوں نہ ہوں۔ پہلے قانون وحی سے پھوٹتا تھا، اب قانون بازار سے نکلتا ہے۔ پہلے اخلاقیات ریاست سے بالاتر اصول تھی، اب اخلاقیات کو ریاست کی ضرورتوں کے مطابق ڈھالا جاتا ہے۔ عوام اگر کل کو یہ فیصلہ کر لیں کہ نکاح کی کوئی ضرورت نہیں، خاندان غیر ضروری ہے، لذت انسانی حق ہے اور مادہ زندگی کا مقصد ہے، تو جدید ریاست ان خواہشات کو قانون بنا دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج قانون کا سرچشمہ اخلاقیات نہیں بلکہ معاشی مفادات ہیں۔

انسانی نفسیات پر اس تہذیبی بگاڑ کے اثرات سب سے زیادہ واضح ہیں۔ روح کو بھوک لگے تو جسم کبھی سیر نہیں ہو سکتا، مگر جدید انسان نے پوری توجہ جسم کو دے دی ہے اور روح کو بھول گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج دنیا بھر میں بے چینی، ڈپریشن، تنہائی، ذہنی خلفشار اور بے مقصدیت کی شرح تاریخ میں سب سے زیادہ ہے۔ انسان کے پاس دولت ہے، آسائشیں ہیں، ٹیکنالوجی ہے، علاج ہیں مگر دل میں سکون نہیں۔ کبھی عبادت روحانی بالیدگی کا ذریعہ تھی، اب لوگ روح کے خلا کو meditational apps, motivational videos اور self-help کتابوں سے بھرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر یہ عارضی مرہم ہیں، زخم جوں کا توں رہتا ہے کیونکہ زخم کا تعلق جسم سے نہیں روح سے ہے۔

اسلام کے نزدیک دنیا ایک عارضی پڑاؤ ہے۔ انسان یہاں اپنی صلاحیتوں کو آزمانے بھیجا گیا ہے، امتحان دینے کے لیے، اور اپنے اندر چھپی ہوئی اخلاقی توانائی کو بیدار کرنے کے لیے۔ مگر جدیدیت نے دنیا کو دائمی حقیقت بنا دیا ہے، جس کے نتیجے میں انسان نے اپنی تمام توانائیاں صرف اس مختصر زندگی کے گرد مرکوز کر لیں۔ پہلے انسان دنیا کو ایک ذریعہ سمجھتا تھا، آج اسے مقصد سمجھ بیٹھا ہے۔ اسی لیے جدید انسان دنیا کو جتنا حاصل کرتا ہے، دنیا اتنی ہی اس کے اندر خلا پیدا کرتی ہے۔ وہ چیزیں بڑھاتا ہے مگر خود کم ہوتا جاتا ہے۔ یہی وہ بنیادی تہذیبی ٹکراؤ ہے جس نے آج انسانیت کو دو راستوں پر کھڑا کر دیا ہے۔ ایک راستہ وہ ہے جو انسان کو اس کی اصل طرف لے جاتا ہے اپنے خالق کی طرف، اپنے مقصد ِ وجود کی طرف، اپنے باطن کی روشنی کی طرف۔ دوسرا راستہ وہ ہے جو انسان کو خواہشات کی غلامی میں گرفتار کرتا ہے، جہاں سب کچھ ہے مگر سکون نہیں، کامیابی ہے مگر مقصد نہیں، علم ہے مگر بصیرت نہیں۔

آخر میں اصل سوال یہی ہے کہ ہم کس راستے کے مسافر ہیں؟ وہ راستہ جو انسان کو بلند کرتا ہے، یا وہ جو انسان کو اس کے اپنے نفس کا غلام بنا دیتا ہے؟ ہم اس دنیا کی ظاہری روشنی میں کھو رہے ہیں یا اندر کی تاریکی کو دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں؟ ہماری دوڑ ترقی کے نام پر ہے یا بھاگنے کے نام پر؟ ہم اپنی روح کو جگانا چاہتے ہیں یا اسے نیند میں رکھ کر دنیا کی جھوٹی چمک پر تکیہ کرنا چاہتے ہیں؟ یہ وہ فیصلے ہیں جو قوموں کو مراتب دیتے ہیں یا زوال۔ اور آج انسانیت اس دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ہر قدم یا تو اسے اوپر لے جا سکتا ہے یا سیدھا اندھیرے میں دھکیل سکتا ہے۔ فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہم اپنی اگلی نسل کو کون سی دنیا دے کر جانا چاہتے ہیں وہ دنیا جس میں انسان اپنے ربّ، اپنی فطرت اور اپنی حقیقت سے جڑا ہوا ہو، یا وہ دنیا جس میں انسان خواہشات کا غلام ہو کر خود کو بھی بھول جائے اور خدا کو بھی۔

محمد ادریس لاشاری سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جو انسان کو جاتا ہے کہتا ہے کا مقصد ہے اور کی طرف ہے مگر علم کا گیا ہے

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اگر آپ ذہین ہیں تو اس لاکر کا درست کوڈ بتایئے؟
  • قدیم انجینیئرنگ سے دنیا حیران، 2 ہزار سال پرانا چینی تالا جسے کھولنے کے لیے محض چابی نہیں بڑا دماغ بھی چاہیے
  • پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ نے عام انسان کی زندگی کو اجیرن بنا دیا
  • میں نے اپنی قبر تیار کروا رکھی ہے، لیجنڈ گلوکار عطا اللہ عیسیٰ خیلوی کا انکشاف
  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • زندگی کا مقصد
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پیٹرول پمپس اونرز ایسوسی ایشن کاکل کی ہڑتال مؤخر کرنے کا اعلان