Jasarat News:
2026-07-24@03:45:56 GMT

گٹر کی بدبو دار سیاست بند کرو

اشاعت کی تاریخ: 15th, December 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251215-03-8
اے ابن آدم کالم نگاری کوئی مذاق کام نہیں ہے، مجھے کالم نگاری کرتے کم از کم 30 سال ہوچکے ہیں, میں نے لسانیت و فرقہ واریت کے خلاف خوب لکھا، عوامی مسائل پر خوب لکھا اور جو پارٹی اقتدار میں آتی تو میری یہ کوشش ہوتی کہ اس کی اصلاح کی جائے اور اگر تنقید ضروری ہوتی تو ہمیشہ تنقید برائے تعمیر کو سامنے رکھ کر کرتا۔ کئی سال سے قارئین نے نوٹ کیا ہوگا کہ میں عوامی مسائل پر جب قلم اٹھاتا ہوں تو یہ ضرور تحریر کرتا ہوں کہ سب سیاسی جماعتوں کو آزما کر تو دیکھ لیا سوائے بربادی کے قوم کو کیا ملا، روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ لگانے والی پارٹی نے عوام کو سوائے مسائل کے کچھ نہیں دیا ان کے بڑے سے چھوٹے سب ارب پتی بن گئے اور عوام کو ان لوگوں نے بھکاری بنادیا، روزانہ کی بنیاد پر جھوٹ بولتے ہیں عوام کو بس سنہرے خواب دکھانے کے علاوہ کوئی ایسا کام نہیں کیا جو قابل تعریف ہو۔ بقول حافظ نعیم الرحمن پیپلز پارٹی ایک خاندان اور 40 وڈیروں کا نام ہے، گائوں، دیہات میں عوام کو محکوم بنایا ہوا ہے اور اب شہروں پر قبضہ کررہے ہیں اسی طرح چودھریوں، سرداروں اور چند خاندانوں نے قوم کو غلام ابن غلام بنا رکھا ہے۔ انگریز کی خدمت کے صلے میں جاگیریں لینے والے اور ان کی اولاد قوم پر مسلط ہے۔ افسر شاہی، استحصالی اور ظالم کے نظام میں عوام کو جڑا ہوا ہے، صرف اپنے اقتدار اور تسلط کو قائم رکھنے کے لیے تعلیم، معیشت، پارلیمنٹ، عدالت سمیت ہر شعبے کو تباہ و برباد کرکے رکھ دیا ہے۔ تمام پارٹیاں، خاندان، وراثت اور وصیت کے نام پر چل رہی ہیں، تمام پارٹیوں نے وڈیروں اور جاگیرداروں کو اپنے ساتھ ملایا ہوا ہے، صرف جماعت اسلامی واحد جماعت ہے جو ملک میں جاری اس ظلم کے نظام کو ختم کرسکتی ہے۔

پوری دنیا نے دیکھا کہ 21 سے 23 نومبر کو لاہور میں مینار پاکستان پر ملک کی تاریخ کا ایسا اجتماع منعقد ہوا جس کے نظام کو دیکھ کر دنیا حیران ہوگئی۔ یہ اجتماع دراصل ایک عوامی انقلاب کی نوید تھی جس کا عنوان تھا بدل دو نظام۔ اے ابن آدم یہ عنوان ملک و قوم کی ضرورت ہے۔ یہ محض عوامی جلسہ نہیں تھا۔ بلکہ یہ ایک فکری بیداری اور بیدارِ شعور کا مظہر تھا، اتنے بڑے اجتماع نے حکمرانوں کی نیندیں حرام کردی ہیں۔ شہر کے گردو نواح سے لے کر بادشاہی مسجد تک ہر جانب پھیلتے ہوئے انسانی سمندر نے ثابت کردیا کہ قوم کو اب حقیقی انقلاب کی طلب ہے۔ ہمارے ملک کی روایتی سیاست موروثی قیادت اور استحصالی نظام سے عوام تنگ آچکی ہے۔ حافظ صاحب نے فرمایا کہ اسلام میں کسی بھی مقدس ہستی کو کوئی استثنا حاصل نہیں، قانون سے کوئی بالاتر نہیں تو پھر ملک کا کوئی صدر، وزیراعظم، گورنر، آرمی چیف قانون سے بالاتر کیسے ہوسکتے ہیں۔ 27 ویں ترمیم جیسے فیصلوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ہمارے فیصلے اسلام کے مطابق نہیں بلکہ مراعات یافتہ طبقوں اور بیرونی طاقتوں کی خواہشات کے تحت کیے جاتے ہیں۔ آرٹیکل A-140کا مکمل نفاذ دراصل حقیقی جمہوریت کی پہلی شرط ہے جبکہ پنجاب کا موجودہ بلدیاتی ایکٹ عوامی نہیں بلکہ سیاسی قبضے کا نمونہ ہے، جلسے میں ایک روڈ میپ دیا گیا اگر اس روڈ میپ پر ایمانداری سے کام کیا جائے تو یہ روڈ میپ جو جماعت اسلامی نے دیا ہے یہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اتنا بڑا اجتماع اتنی خوب صورت سے ختم ہوا ایک ٹیم ورک دیکھنے کو ملا اپنی مدد آپ کے تحت سارے انتظامات کیے گئے تھے۔ جماعت اسلامی ایک حقیقی اور صحت مند جمہوریت کا قیام چاہتی ہے جس کے باشندے ذی شعور ہوں حکومت کا بدلنا اور بننا ان کی آرا مرض پر موقوف ہو۔

آج میرا پاکستان 78 برس کا ہوچکا مگر آج بھی ہم محکوم ہیں، اللہ کے کرم سے ہمارے پاس بہترین انسانی مادی اور معدنی وسائل موجود ہیں مگر افسوس کہ ان تمام وسائل پر ایک خاص طبقے نے قبضہ کررکھا اور عام آدمی کو اس کے حقوق دستیاب نہیں، اسے ہر طرف محرومیوں کا سامنا ہے وہ تعلیم، صحت، خوراک و رہائش جیسی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہے۔ جبکہ مراعات یافتہ خود ٹیکس تک دینے کو تیار نہیں اور عام آدمی پر ہر روز نت نئے اور بھاری ٹیکسوں کا بوجھ لادا جارہا ہے، بجلی کا بل اس کی سب سے بڑی مثال ہے اس کے علاوہ Prize Band پر جو انعامات نکلتے ہیں، اس پر تو 30 فی صد تک ٹیکس لیا جارہا ہے، یہ ظلم ہے ایک آدمی برسوں سے یہ Band رکھ رہا ہے اس کے ساتھ اگر میرا بڑا انعام نکل آیا تو میں بچوں کی شادی وغیرہ یا حج کروں گا مگر افسوس اس میں بھی حکومت ایک بڑا حصہ اپنے پاس رکھتی ہے، ابن آدم کہتا ہے کہ انعام کی رقم پر 5 فی صد ٹیکس تو سمجھ آتا ہے۔ ایسے بے شمار ظلم ہیں جو یہ عوام 78 سال سے برداشت کررہے ہیں مگر اب مجھے لگتا ہے حافظ نعیم الرحمن کے تاریخی خطاب کے بعد سے نظام میں تبدیلی کی بُو آرہی ہے۔

گلشن اقبال 13-D میں بنگلہ نمبر B-60 پر ہونے والا قبضہ اور اس بدمعاش کی بدمعاشی جس طریقے سے جماعت کے کارکنوں اور عوام نے نکالی یہ اُس نظام کی تبدیلی کی ابتدا ہے، نام نہاد وکیل جو ایک شریف آدمی کے گھر پر زبردستی قبضہ کرنا چاہ رہا تھا، اس کو عوام کی طاقت نے ایسا سبق سکھایا ہے کہ اب کوئی بھی کسی کے گھر، پلاٹ پر قبضہ کرنے سے پہلے 10 بار سوچے گا، گلشن کے ٹائون ناظم اور ان کی پوری ٹیم مبارک باد کی مستحق ہے۔ دوسرا واقعہ 3 سال کے فرشتے ابراہیم کا ہے جو نیپا چورنگی کے گٹر میں گر کر انتقال کرگیا، میں خود بھی وہاں موجود تھا، رات تک کوئی سرکاری ذمے دار موجود نہیں تھا۔ فاروق ستار آئے تو مشتعل عوام نے ان کو گالیاں دیں، ان کو گاڑی سے اُترنے کی بھی ہمت نہیں ہوئی۔ مرتضیٰ وہاب کو میڈیا نے بے پناہ ذلیل کیا یہ گٹر کی سیاست آج سے نہیں بلکہ بھٹو صاحب کے دور سے چل رہی ہے۔ ماں باپ کے سامنے معصوم ابراہیم کا گٹر میں گر جانا ماں کی آہ اور اس ماں کا تڑپنا دل ہلا رہا تھا۔ بقول میرے دوست شبیر ارمان لوگ کہتے ہیں کہ یہ مافیاز کا شہر ہے، میں کہتا ہوں یہ بھیڑیوں کی شکار گاہ بن چکا ہے جہاں صبح و شام معصوم غریب شہری ان کا شکار ہوتے رہتے ہیں اور کوئی شکاریوں کو گرفت کرنے والا نہیں ہے۔ ڈاکو، ڈکیت، ڈمپرز انہیں قتل کرتے ہیں، کچل دیتے ہیں، ناجائز منافع خور انہیں الگ لوٹتے ہیں، حرام خور راشی افسران ان کو الگ لوٹتے ہیں، سرکاری عوامی سہولت نام کی حد تک ہیں، عملی طور پر شہری ان سرکاری سہولتوں کے لیے ترستے ہیں، یہ شہر نہ ہوا جہنم ہوگیا۔ جس کو دیکھو کہتا پھرتا ہے کراچی ہمارا ہے، کراچی کے دعوے دار بے شمار ہیں لیکن اس کا اپنا غمگسار کوئی نہیں، کراچی والوں کو آخری امید اب جماعت اسلامی سے ہے۔ اے ابن آدم کراچی منی پاکستان ہے، خدارا اس چھوٹے پاکستان کو ملک کا جھومر بنائیں، کلنک کا ٹیکہ نہیں، گٹر کی سیاست کرنے والوں کا تو حشر نشر ہوگیا یہ ابتدا ہے نظام کو بدلنے کی کراچی والوں اب وقت آگیا ہے ان چوروں سے حساب کتاب لینے کا۔

شجاع صغیر سیف اللہ

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جماعت اسلامی عوام کو

پڑھیں:

طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم

ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ  کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔

متعلقہ مضامین

  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • پیٹرول کی قیمتیں روزانہ بدلنے کا نظام، عوام خوش یا پریشان؟
  • حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار