سندھ سوشل سیکورٹی میں آکشنر کے استعمال پر پابندی
اشاعت کی تاریخ: 15th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سندھ ایمپلائز سوشل سیکورٹی انسٹی ٹیوشن میں لینڈ ریونیو ایکٹ کے استعمال کے دروان پرائیویٹ آکشنر کے استعمال کو ادارے کے سربراہ نے غیر قانونی عمل قرار دیتے ہوئے سیسی کے تمام لوکل ڈائریکٹوریٹ کو سختی کے ساتھ ہدایت کی ہے کہ وہ کسی بھی پرائیویٹ شخص یا ریٹائرڈ ملازم کو بطور اکشنر استعمال نہیں کریں گے
کافی عرصہ سے آجران کی یہ شکایت تھی کہ انہیں آکشنر یا غیر قانونی وارنٹ کے نام پر ہراساں کیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ حکومت سندھ کے گزٹ نوٹیفیکیشن کے تحت یہ اختیارات صرف گریڈ 18 کے ڈائریکٹر اور ڈپٹی ڈائریکٹر کو دیے گئے تھے کہ وہ لینڈ ریونیو ایکٹ کی سیکشن 81 یا 83 کے تحت ریکوری کی کارروائی کرسکتے ہیں۔
لیکن گزشتہ کئی سالوں سے کچھ نام نہاد عناصر آکشنر کا ٹائٹل استعمال کر کے فیکٹری مالکان کو ہراساں کررہے تھے، ان کے علاوہ سیسی کے کچھ ریٹائرڈ ملازمین بھی SESSI کے جاری کردہ ایک لیٹر کی بنیاد پر اپنا تعارف گورنمنٹ آکشنر کے طور پر کرواتے تھے جو کہ غیر قانونی عمل تھا، اس تمام عمل اور کارروائی کو اب کمشنر سیسی نے باقاعدہ طور پر غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔
آجران کی شکایات کی روشنی میں کمشنر سیسی نے باقاعدہ آرڈر نمبر 2025/50 بتاریخ 23 اکتوبر کو ایسے تمام عمل کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے خلاف ورزی کرنے والے فرد کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔
اگر آئندہ کوئی بھی شخص غیر قانونی قرار دیے گئے لائسنس کا استعمال کرتے ہوئے پایا گیا جو انہیں ماضی میں SESSI میں سرکاری نیلامی کے طور پر کام کرنے کی اجازت دیتا تھا۔ ایسے فرد کے خلاف پاکستان پینل کوڈ اور پریوینشن آف کرپشن ایکٹ 1947 کے تحت FIR درج کی جائے گی اور اس سلسلے میں کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔
ویب ڈیسک
گلزار
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
— فائل فوٹوسندھ ہائی کورٹ نے کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے لواحقین کے واجبات کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔
عدالت کے آئینی بینچ نے کے ڈی اے کے مرحوم افسر کے واجبات کی لواحقین کو عدم ادائیگی کے کیس کی سماعت کی۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کے ڈی اے نے واجبات تسلیم کرنے کے باوجود ادائیگی نہیں کی۔
عدالت کے استفسار پر کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ کے ڈی اے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرچکا ہے، ادائیگی میں تاخیر مالی مشکلات کے باعث ہوئی۔
کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ سندھ حکومت سے 5 ارب روپے کی گرانٹ طلب کی گئی ہے۔
کراچی سندھ ہائی کورٹ نے ایکسائز افسر کے خلاف 4 من سے...
جس پر عدالت نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق مرحوم افسر کے واجبات ان کی زندگی میں ادا نہیں کیے گئے، درخواست گزار قانونی وارث ہونے کے باعث واجبات کی حق دار ہیں، پینشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کسی ادارے کی صوابدید نہیں بلکہ قانونی حق ہے۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ واجبات کی بر وقت ادائیگی ریاستی اداروں کی آئینی ذمے داری ہے، ادارے کی مالی مشکلات ملازمین کو تسلیم شدہ حقوق سے محروم رکھنے کا جواز نہیں بن سکتیں، سرکاری ادارے مالی اور انتظامی امور بہتر انداز میں چلانے کے پابند ہیں، کے ڈی اے درخواست گزار کو واجبات کی مد میں 1 کروڑ 10 لاکھ روپے ادا کرے اور عمل درآمد رپورٹ رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو پیش کی جائے۔