مسلم کالونی، تجاوزات آپریشن، اربوں مالیتی 700 کنال سرکاری اراضی واگزار
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
اسلام آباد (نیوزڈیسک) آپریشن کے نتیجے میں غیر قانونی طور پر تعمیر شدہ گھروں کو مسمار کیا گیا،مسلم کالونی میں غیر قانونی تعمیرات آپریشن میں 200 ارب مالیت کی سرکاری اراضی واگزار
سی ڈی اے انفورسمنٹ اور ضلعی انتظامیہ اسلام آباد کا مسلم کالونی میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف مشترکہ آپریشن کیا گیا۔
ضلعی انتظامیہ اسلام آباد کی جانب سے غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن کی تفصیلات جاری کی گئیں۔ غیر قانونی قبضے میں لی گئی 700 کینال سرکاری اراضی واگزار کروا لی گئی۔
آپریشن کے نتیجے میں غیر قانونی طور پر تعمیر شدہ گھروں کو مسمار کیا گیا جبکہ آپریشن سے قبل مقامی رہائشیوں کو متعدد نوٹسز جاری کیے گئے۔ علاقے میں مزید غیر قانونی آبادکاری کا عمل بھی جاری تھا۔
آپریشن کی نگرانی اسسٹنٹ کمشنر اور سی او ایم سی آئی کی جانب سے کی گئی۔ آپریشن سے قبل جگہ خالی کرنے کے لیے اعلانات بھی کروائے گئے۔
مقامی افراد سے اپیل ہے کہ آپریشن ٹیمز کے ساتھ تعاون کیا جائے، ضلعی انتظامیہ
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
امتحان میں کامیابی کے باوجود عبدالمجید نوکری سے محروم، عمر کی حد رکاوٹ بن گئی
بھارتی ریاست کیرالہ(Kerala) سے ایک غیر معمولی اور حیران کن واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک شخص کو سرکاری نوکری کا تقرری نامہ امتحان دینے کے 21 سال بعد جاری کیا گیا، تاہم اس وقت تک وہ عمر کی قانونی حد عبور کر چکا تھا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق عبدالمجید نے 2005 میں جونیئر عربی ٹیچر کی آسامی کے لیے امتحان دیا تھا۔ وہ اس امتحان میں کامیاب امیدواروں کی فہرست میں بھی شامل تھے، تاہم اس وقت انہیں تقرری نہیں مل سکی۔ سرکاری فہرست کی مدت تین سال تھی جو 2008 میں ختم ہو گئی، مگر اس دوران خالی آسامی کو پر نہیں کیا جا سکا۔
طویل عرصے تک معاملہ التوا میں رہنے کے بعد 24 اپریل 2026 کو اچانک عبدالمجید کو تقرری نامہ جاری کر دیا گیا۔ لیکن چونکہ اس وقت تک ان کی عمر 60 سال ہو چکی تھی، اس لیے وہ سرکاری ملازمت کے لیے قانونی طور پر اہل نہیں رہے اور ملازمت سنبھال نہیں سکے۔
یہ صورتحال نہ صرف ایک فرد کے لیے مایوسی کا باعث بنی بلکہ سرکاری نظام کی سست روی اور انتظامی تاخیر پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ عبدالمجید کا کہنا ہے کہ اگر انہیں بروقت تقرری مل جاتی تو وہ برسوں پہلے اپنی ذمہ داریاں سنبھال چکے ہوتے اور ان کا کیریئر مختلف ہوتا۔
مزیدپڑھیں:فیفا ورلڈکپ 2026 کا آغاز 12 جون سے
مزید دلچسپ اور متنازع پہلو اس وقت سامنے آیا جب ان کے تعلیمی ریکارڈ میں تاریخ پیدائش 27 مئی 1966 درج ہے، جبکہ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کی اصل تاریخ پیدائش 27 مئی 1967 ہے۔ ان کے مطابق اگر سرکاری ریکارڈ میں ایک سال کی درستگی کر دی جائے تو وہ اب بھی ملازمت کے اہل ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے اس حوالے سے ریاستی وزیر تعلیم اور قانونی ماہرین کو باضابطہ درخواستیں بھی جمع کروائی ہیں، جن میں انصاف فراہم کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔
یہ واقعہ سوشل میڈیا پر بھی زیر بحث ہے، جہاں صارفین کی بڑی تعداد نے سرکاری نظام میں طویل تاخیر اور انتظامی ناکامی پر تنقید کی ہے، جبکہ کچھ لوگوں نے متاثرہ شخص سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔