جبری گمشدگی، عدلیہ کانیا میکنزم لانے کا فیصلہ، ملزم کی 24 گھنٹے میں مجسٹریٹ کے سامنے پیشی لازمی
اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی نے جبری گمشدگیوں کے مقدمات پر مؤثر ادارہ جاتی ردِعمل پر اتفاق کیا ہے۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کا اجلاس چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت ہوا، جس میں گرفتار ملزم کو 24 گھنٹے میں مجسٹریٹ کے سامنے پیش نہ کرنے پر نیا میکینزم لانے کا فیصلہ کیا گیا۔
اعلامیے کے مطابق کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ کمرشل مقدمات کے جلد فیصلوں کے لیے کمرشل لٹیگیشن کوریڈور نافذ کیا جائے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ فیصلوں کے لیے مقررہ ٹائم لائنز پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے۔
22دسمبر سے 7مارچ تک سردیوں کی تعطیلات، نوٹیفکیشن جاری
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
اسلام آباد میں دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقات میں توسیع، نیا شیڈول جاری
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وفاقی دارالحکومت میں دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقات کار میں توسیع کا فیصلہ کر لیا گیا ہے، یہ فیصلہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت ہونے والے کفایت شعاری سے متعلق اجلاس میں کیا گیا۔
اجلاس میں طے پایا کہ اسلام آباد میں دکانیں اور شاپنگ مالز اب رات 9 بجے تک کھلے رہ سکیں گے جبکہ شادی ہالز کو رات 10 بجے تک اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت ہوگی۔
اسی طرح ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں بھی نرمی کرتے ہوئے انہیں رات 11 بجے تک کھلا رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز کو مقررہ اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے تاکہ شہریوں کو سہولت فراہم کی جا سکے۔
اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ فارمیسیوں، اسپتالوں اور پیٹرول پمپس کو ان پابندیوں سے مکمل استثنیٰ حاصل ہوگا اور وہ معمول کے مطابق اپنی خدمات جاری رکھ سکیں گے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق نئے اوقات کار کا مقصد توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہے، جبکہ اس فیصلے پر عملدرآمد سے متعلق مزید ہدایات جلد جاری کی جائیں گی۔
مزید پڑھیں۔ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (بدھ) کا دن کیسا رہے گا ؟