جوڈیشل پالیسی ساز کمیٹی کا جبری گمشدگیوں کے مقدمات پر مؤثر ادارہ جاتی ردعمل پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
جوڈیشل پالیسی ساز کمیٹی کا جبری گمشدگیوں کے مقدمات پر مؤثر ادارہ جاتی ردعمل پر اتفاق WhatsAppFacebookTwitter 0 13 December, 2025 سب نیوز
اسلام آباد: (آئی پی ایس) چیف جسٹس پاکستان کی زیر صدارت نیشنل جوڈیشل پالیسی ساز کمیٹی کا 56واں اجلاس ہوا ہے جس میں جبری گمشدگیوں کے مقدمات پر مؤثر ادارہ جاتی ردعمل پر اتفاق کیا گیا۔
اعلامیہ کے مطابق تمام ہائی کورٹس کے چیف جسٹسز نے پالیسی ساز کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کی، وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان بھی شریک ہوئے۔
جوڈیشل پالیسی ساز کمیٹی کے اعلامیہ میں کہا گیا کہ جبری گمشدگیوں کے مقدمات پر مؤثر ادارہ جاتی ردعمل پر اتفاق کیا گیا، گرفتار ملزم کو 24 گھنٹے میں مجسٹریٹ کے سامنے پیش نہ کرنے پر نیا میکنزم لانے کا فیصلہ کیا گیا۔
جوڈیشل کمیٹی نے کمرشل مقدمات کے جلد فیصلوں کیلئے کمرشل لٹی گیشن کوریڈور نافذ کرنے کا فیصلہ کیا، ایف بی آر میں اسکریننگ کمیٹی اور غیر ضروری مقدمات کے خاتمے پر اتفاق کیا گیا، مقدمات کے فیصلوں کیلئے مقررہ ٹائم لائنز پر سختی سے عملدرآمد کا فیصلہ کیا گیا۔
اعلامیہ میں بتایا گیا کہ لاہور ہائی کورٹ نے 4 لاکھ 65 ہزار سے زائد مقدمات نمٹا کر ریکارڈ قائم کر دیا، اجلاس میں پشاور ہائی کورٹ میں وراثتی مقدمات اور ڈبل ڈاکٹ نظام کی تعریف کی گئی، 2019 تک کے تمام پرانے وراثتی کیسز 30 دن میں نمٹانے کی ہدایت کی گئی۔
اعلامیہ کے مطابق ماڈل ٹرائل کورٹس کی کارکردگی قابلِ تحسین ہے اور لاہور ہائی کورٹ سرفہرست رہی، ضلعی عدلیہ میں اصلاحات کیلئے سفارشات 30 دن میں مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی، جیل اصلاحات پر صوبائی حکومتوں سے مشاورت کا فیصلہ کیا گیا۔
نیشنل جوڈیشل پالیسی ساز کمیٹی کے اجلاس میں عدالتی نظام میں مصنوعی ذہانت اے آئی کے استعمال کیلئے قومی گائیڈ لائنز تیار کر لی گئی ہیں، تمام ضلعی عدالتوں میں ای فائلنگ کے فوری آغاز کی منظوری دی گئی۔
کمیٹی نے سندھ ہائی کورٹ کو ای فائلنگ اقدامات پر سراہا، خواتین اور خاندانی سہولت مراکز کے قیام کی اصولی منظوری دی، ایکسیس ٹو جسٹس فنڈ کے تحت 2 ارب 58 کروڑ روپے سے زائد فنڈز جاری کئے گئے اور عدالتوں کی سولرائزیشن کیلئے صوبائی حکومتوں سے اضافی فنڈز لینے کی ہدایت کی گئی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپنجاب بھر کے تمام تعلیمی اداروں میں موسم سرما کی تعطیلات کا اعلان پنجاب بھر کے تمام تعلیمی اداروں میں موسم سرما کی تعطیلات کا اعلان انتہا پسندانہ نظریات اور تقسیم پسند قوتوں سے نمٹنے کےلیے مکمل تیار ہیں، فیلڈ مارشل ’چین سے جنگ ہوئی تو امریکہ بری طرح ہارے گا‘: پینٹاگون کی خفیہ رپورٹ لیک غزہ میں طوفانی بارشوں نے تباہی مچا دی، بچوں سمیت 14 فلسطینی جان کی بازی ہار گئے عمران پراجیکٹ کے انچارج فیض حمید کیخلاف مزید قانونی کارروائی ہوگی: خواجہ آصف وطن سے بے مثال وفا کی عظیم داستان، نیا نغمہ ’’پاک سرزمینیوں‘‘ جاریCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: جوڈیشل پالیسی ساز کمیٹی کا فیصلہ کیا ہائی کورٹ کیا گیا کی گئی
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔