گوہر علی سے محمود اچکزئی تک—پی ٹی آئی نے وسیع ترین سیاسی کمیٹی تشکیل دے کر میدان گرم کردیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
پاکستان تحریک انصاف نے 23 رکنی سیاسی کمیٹی تشکیل دے دی۔اعلامیے کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی گوہرعلی خان، سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کمیٹی میں شامل ہیں۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخواسہیل آفریدی، فردوس شمیم نقوی، شیخ وقاص اکرم، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمودخان اچکزئی اور مجلس وحدتِ مسلمین کے علامہ راجا ناصر عباس بھی سیاسی کمیٹی میں شامل ہیں۔عمرایوب، شبلی فراز، اپوزیشن لیڈرپنجاب اسمبلی معین ریاض قریشی، ملک احمد خان بھچر، سجاد برکی، عالیہ حمزہ، جنید اکبر، حلیم عادل اور داؤد کاکڑ، آزادکشمیراورگلگت بلتستان کے نمائندے خالد خورشید اورسردارقیوم نیازی بھی کمیٹی میں شامل ہیں۔اسدقیصر، عامرڈوگر، فوزیہ ارشد، کنول شوذب، لال چند ملہی بھی پی ٹی آئی سیاسی کمیٹی میں شامل ہیں۔اعلامیے کے مطابق پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی پارلیمانی ونگز اور اسمبلیوں کےلیے پالیسی لائن طےکرےگی، پارٹی کے تجربہ کاراراکین پر مشتمل سب کمیٹیاں بھی تشکیل دی جائیں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کمیٹی میں شامل ہیں سیاسی کمیٹی پی ٹی آئی
پڑھیں:
آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
آزاد جموں و کشمیر کے شہر میرپور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ 47 روز سے معطل انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صرف موبائل انٹرنیٹ بحال کیا گیا ہے، جبکہ وائی فائی انٹرنیٹ سروس بلنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد بحال کی جائے گی۔
یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں 5 جون 2026 کو انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی تھیں۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا تھا جب جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک شروع کرتے ہوئے 9 جون کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔
بعد ازاں 5 جون کو ایکشن کمیٹی کے ایک مرکزی رکن پر مبینہ حملے اور مظاہرین و سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد حکومت نے کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جبکہ اسی روز پورے آزاد کشمیر میں بغیر پیشگی اطلاع انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی تھی۔
اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اور الیکشن کمیشن کی جانب سے انٹرنیٹ بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ میرپور میں سروس جلد بحال ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ سروس جلد بحال کر دی جائے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات قریب ہیں۔ الیکشن کمیشن پہلے ہی سکیورٹی اور انتخابی انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے انتخابات تین مراحل میں کرانے کا اعلان کر چکا ہے۔
شیڈول کے مطابق پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن، دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی۔دوسری جانب کالعدم ایکشن کمیٹی کا راولاکوٹ میں احتجاج تاحال جاری ہے۔ کمیٹی کے اہم مطالبات میں مہاجرینِ مقبوضہ کشمیر کے لیے آزاد کشمیر اسمبلی میں مختص 12 نشستوں کے خاتمے سمیت دیگر آئینی اور انتظامی امور شامل ہیں۔