اسلام آباد:(نیوزڈیسک) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے سیاسی کمیٹی کی ازسرنو تشکیل کردی ہے اور اس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا، جس میں سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کا نام شامل نہیں ہے۔پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین عمران خان کی جانب سے سلمان اکرم راجا کو نئی سیاسی کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی گئی تھی، جس کے بعد کمیٹی کی تشکیل کا نوٹیفکیشن سلمان اکرم راجا اور فردوس شمیم نقوی کے دستخط سے جاری کر دیا گیا ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی میں 23 اہم رہنماؤں کو شامل کیا گیا ہے، چیئرمین پی ٹی آئی گوہر علی خان، سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا بھی کمیٹی میں شامل ہیں۔

پی ٹی آئی سیاسی کمیٹی میں شامل دیگر رہنماؤں میں فردوس شمیم نقوی، شیخ وقاص اکرم، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی، سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجا ناصر عباس، قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی اور سابق اپوزیشن لیڈر عمر ایوب بھی شامل ہیں۔

سابق سینیٹ اپوزیشن لیڈر شبلی فراز، پنجاب اسمبلی اپوزیشن لیڈر معین قریشی، سابق اپوزیشن لیڈر پنجاب ملک احمد خان بھچر، اوورسیز چیپٹر سیکریٹری سجاد برکی، پنجاب کی چیف آرگنائزرز عالیہ حمزہ، جنید اکبر، حلیم عادل اور داؤد کاکڑ بھی کمیٹی کا حصہ ہیں۔

سیاسی کمیٹی میں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سے خالد خورشید اور سردار قیوم نیازی، سابق اسپیکر اسد قیصر، چیف وہپ قومی اسمبلی عامر ڈوگر، سینیٹ کوآرڈینیٹر فوزیہ ارشد، خواتین ونگ کی صدر کنول شوزب، اقلیتی ونگ کے صدر لال چند ملہی بھی کمیٹی کا حصہ ہیں۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ سیاسی کمیٹی پارٹی کا اعلیٰ ترین فیصلہ ساز فورم ہو گا، کمیٹی پارٹی فیصلوں اور پالیسی سازی کا اعلیٰ ترین فورم ہوگا اور پارلیمانی پارٹیوں کے لیے بنائی جانے والی پالیسیاں بھی مذکورہ کمیٹی مرتب کرے گی۔

پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی میں سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور شامل نہیں ہیں تاہم نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ مزید رہنماؤں کی شمولیت یا اخراج ضرورت کے تحت کیا جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: اپوزیشن لیڈر سیاسی کمیٹی پی ٹی ا ئی کمیٹی میں گیا ہے

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • آزاد کشمیر میں سیاسی سرگرمیاں تیز، نواز شریف آج میرپور میں جلسے سے خطاب کریں گے
  • اقوام متحدہ کی قیادت کس کے ہاتھ آئے گی؟ 4 خواتین اور 2 مرد دوڑ میں شامل
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم