اکشے کھنہ کے وائرل ڈانس سے عمران خان اور جاوید میانداد کا تعلق؟ پرانی ویڈیو سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
بالی ووڈ فلم دھریندر کے ایک منظر نے سوشل میڈیا پر بھونچال برپا کر رکھا ہے۔ فلم میں رحمان ڈکیت کا کردار ادا کرنے والے اکشے کھنہ جب گاڑی سے اُتر کر ہاتھ ہلانے کے بعد اچانک روایتی رقص شروع کرتے ہیں تو ناظرین حیران رہ گئے۔
کسی اسکرپٹ یا پلان کے بغیر شوٹ ہونے والا یہ لمحہ اتنی تیزی سے وائرل ہوا کہ ہر پلیٹ فارم پر صرف اسی کی بات ہو رہی ہے۔
لیکن کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔ اکشے کے رقص کی ویڈیو وائرل ہوتے ہی، ان کے والد اور لیجنڈری اداکار ونود کھنہ کی ایک پرانی ویڈیو بھی دوبارہ منظر عام پر آگئی۔
یہ ویڈیو 1989 کے ایک چیریٹی کنسرٹ کی ہے، جہاں ونود کھنہ، ریکھا اور دو مشہور پاکستانی کرکٹر عمران خان اور جاوید میانداد بھی اسٹیج پر رقص کرتے نظر آرہے ہیں۔
فلمی مداحوں نے دونوں ویڈیوز ساتھ رکھ کر دیکھا تو انہیں باپ اور بیٹے کے رقص میں حیرت انگیز مماثلت نظر آئی۔ یہی مشابہت اب سوشل میڈیا کا موضوع بن چکی ہے۔
ایک صارف نے ایکس پر لکھا ’’اب سمجھ آیا… اکشے کھنہ نے دھریندر میں اپنے والد کو کاپی کیا ہے!‘‘
یہ تبصرہ فوری وائرل ہوگیا اور لوگ دونوں کلپس ملا کر شیئر کرنے لگے۔ اکشے کھنہ کا یہ انٹری سین پہلے ہی دھماکا خیز انداز میں مقبول تھا، لیکن ونود کھنہ کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد بحث نے نیا رنگ پکڑ لیا ہے۔ مداحوں کا کہنا ہے کہ فلمی پردہ ہو یا اسٹیج کنسرٹ، کھنہ خاندان کے رقص میں وہی دبدبہ اور توانائی جھلکتی ہے، جو نسل در نسل منتقل ہوتی آئی ہے۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل اکشے کھنہ
پڑھیں:
سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔(جاری ہے)
علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔