لاہور میں پانی کو دوبارہ قابل استعمال بنانے کا منصوبہ منظور
اشاعت کی تاریخ: 15th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور (نمائندہ جسارت) لاہور میں پہلے سرفیس واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ منصوبے کی منظوری دے دی گئی۔لاہور میں بی آر بی کینال پر سرفیس واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ لگایا جائے گا، جس کی 52ویں پی ڈی ڈبلیو پی اجلاس میں منظوری دی گئی، ایشین انفرااسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کے تعاون سے منصوبہ مکمل کیا جائے گا، جس سے یومیہ54 ملین گیلن سرفیس واٹر کو قابل استعمال بنایا جا سکے گا۔اس منصوبے سے مغلپورہ، باغبانپورہ، فتح گڑھ اور شادی پورہ کی آبادی مستفید ہو سکے گی۔ اس کے علاوہ لاہور کے 17 لاکھ سے زائد شہری بھی استفادہ کرسکیں گے۔واٹر ٹریٹمنٹ منصوبہ سال2031ء تک مکمل کیا جائے گا اور 120 ایکڑ اراضی پر سرفیس واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کی تنصیب کی جائے گی، 5 میگا واٹ سولر انرجی سسٹم کے ذریعے بجلی کی پیداوار بھی کی جا سکے گی۔سیکرٹری ہاؤسنگ نورالامین مینگل نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر اہم منصوبوں کا آغاز کیا جا رہا ہے، جلد منصوبہ ایکنک سے منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا، صوبے بھر میں آلودہ پانی کو قابل استعمال بنانے پر اہم پیش رفت جاری ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: واٹر ٹریٹمنٹ سرفیس واٹر جائے گا
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔