پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں پانی کو دوبارہ قابل استعمال بنانے کا منصوبہ منظور
اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور: پنجاب کے صوبائی دارالحکومت میں پہلے سرفیس واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ منصوبے کی منظوری دے دی گئی۔
لاہور میں بی آر بی کینال پر سرفیس واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ لگایا جائے گا، جس کی 52ویں پی ڈی ڈبلیو پی اجلاس میں منظوری دی گئی، ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کے تعاون سے منصوبہ مکمل کیا جائے گا جس سے یومیہ54 ملین گیلن سرفیس واٹر کو قابل استعمال بنایا جا سکے گا۔
اس منصوبے سے مغلپورہ، باغبانپورہ، فتح گڑھ اور شادی پورہ کی آبادی مستفید ہو سکے گی، اس کے علاوہ لاہور کے 17 لاکھ سے زائد شہری بھی استفادہ کرسکیں گے۔
واٹر ٹریٹمنٹ منصوبہ سال 2031 تک مکمل کیا جائے گا اور 120 ایکڑ اراضی پر سرفیس واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کی تنصیب کی جائے گی، 5 میگا واٹ سولر انرجی سسٹم کے ذریعے بجلی کی پیداوار بھی کی جا سکے گی۔
سیکرٹری ہاؤسنگ نورالامین مینگل نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر اہم منصوبوں کا آغاز کیا جا رہا ہے، جلد منصوبہ ایکنک سے منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا، صوبے بھر میں آلودہ پانی کو قابل استعمال بنانے پر اہم پیش رفت جاری ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: واٹر ٹریٹمنٹ سرفیس واٹر جائے گا
پڑھیں:
پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کےلیے ڈرون مانیٹرنگ شروع کردی گئی ہے۔ ترجمان پنجاب حکومت کا کہنا ہے ڈرون مانیٹرنگ سے سیلابی ریلے کی آمد کی نشاندہی ممکن ہوگی۔
ترجمان پنجاب حکومت کے مطابق وزیراعلیٰ مریم نواز کی ہدایت پر تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی ڈرون سرویلنس شروع کردی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ تریموں بیراج میں ڈرون سرویلنس کے دوران واٹر لیول نارمل پایا گیا، پاکپتن میں دریائے راوی اور ستلج میں بھی واٹر لیول کی ڈرون مانیٹرنگ کی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ سرگودھا میں دریائے چناب کے طالب والا پل پر ڈرون مانیٹرنگ میں پانی کا بہاؤ نارمل پایا گیا۔ ہیڈسدھنائی پر ڈرون مانیٹرنگ سے پانی کے بہاؤ کا جائزہ لیا گیا۔
ترجمان پنجاب حکومت کے مطابق ہیڈ مرالہ میں ڈرون سرویلنس کے دوران پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 74 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ منڈی بہاؤالدین کے رسول بیراج پر بھی پانی کا مانیٹر کیا گیا۔