فیض حمید کے ساتھ 2 حاضر سروس برگیڈیرز کو بھی سزا ہوئی ہے، جاوید لطیف کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما میاں جاوید لطیف نے دعویٰ کیا ہے کہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ فیض حمید کے ساتھ 2 حاضر سروس برگیڈیرز کو بھی سزا ہوئی ہے۔
نجی نیوز چینل اے آر وائی کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میں شروع سے کہتا آیا ہوں کہ سہولت کاری موجود ہے اب تو دوسرے لوگ بھی کہہ رہے ہیں اور آج وزیر دفاع نے بھی کہا کہ اداروں کے اندر کچھ لوگ موجود ہیں جو عمران خان کو اقتدار میں لانا چاہتے ہیں۔
اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’میری اطلاعات کے مطابق فیض حمید کے ساتھ دو حاضر سروس برگیڈیر کو بھی سزا ہوئی ہے‘۔
میں شروع سے کہتا آیا ہوں کہ سہولت کاری موجود ہے اب تو دوسرے لوگ بھی کہہ رہے ہیں اور آج وزیر دفاع نے بھی کہا کہ اداروں کے اندر کچھ لوگ موجود ہیں جو عمران خان کو اقتدار میں لانا چاہتے ہیں، میری اطلاعات کے مطابق فیض حمید کے ساتھ دو حاضر سروس برگیڈیر کو بھی سزا ہوئی ہے۔ pic.
ان کا مزید کہنا تھا کہ نواز شریف صاحب کبھی بھی اپنے دشمن کا یا جس نے ذاتی طور پر وار کیے ہوں اس کا ذکر اُس وقت نہیں کرتے جب وہ مصیبت میں ہو یا کٹہرے میں کھڑا ہو، جب نواز شریف نے پانچ لوگوں کا نام لیا تو وہ طاقت میں تھے، مگر ہمارے کئی لوگوں نے تو اسٹیج سے چھلانگیں لگا دیں ہمارے اتحادی پریشان ہو گئے تھے۔
نواز شریف صاحب کبھی بھی اپنے دشمن کا یا جس نے ذاتی طور پر وار کیے ہوں اس کا ذکر اُس وقت نہیں کرتے جب وہ مصیبت میں ہو یا کٹہرے میں کھڑا ہو، جب نواز شریف نے پانچ لوگوں کا نام لیا تو وہ طاقت میں تھے، مگر ہمارے کئی لوگوں نے تو اسٹیج سے چھلانگیں لگا دیں ہمارے اتحادی پریشان ہو گئے تھے۔ pic.twitter.com/ZWAvgrjB7B
— Mian Javed Latif (@Mian_JavedLatif) December 13, 2025رہنما مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ فیض حمید، قمر جاوید باجوہ سے ثاقب نثار، بندیال تک کئی لوگوں کی رشتے داریاں تھیں اور مسلم لیگ کے کئی لوگ ان سے ملا بھی کرتے تھے۔
جاوید لطیف نے کہا کہ یہ بھی ایک حقیقت ہے ،یہ مت کہا جائے کہ اُس سائیڈ کا ملے تو غدار اور اس سائیڈ کا ملے تو ٹھیک ہے، اس کا فائدہ کیا تو ٹھیک ہے اُس کا نقصان کیا ہے تو پکڑ لیں۔
فیض حمید قمر جاوید باجوہ سے ثاقب نثار بندیال تک کئی لوگوں کی رشتے داریاں تھیں اور مسلم لیگ کے کئی لوگ ان سے ملا بھی کرتے تھے یہ بھی ایک حقیقت ہے ،یہ مت کہا جائے کہ اُس سائیڈ کا ملے تو غدار اور اس سائیڈ کا ملے تو ٹھیک ہے، اس کا فائدہ کیا تو ٹھیک ہے اُس کا نقصان کیا ہے تو پکڑ لیں۔ pic.twitter.com/PYpMLwgIrb
— Mian Javed Latif (@Mian_JavedLatif) December 13, 2025
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کو بھی سزا ہوئی ہے فیض حمید کے ساتھ تو ٹھیک ہے نواز شریف کئی لوگوں مسلم لیگ کئی لوگ کہا کہ
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔