اسلام ٹائمز: تجزیاتی رپورٹ کے مصنف زاویر رینات کا کہنا ہے کہ اگرچہ حیفا اور خصوصاً ریفائنری کے اطراف کے ہزاروں شہری برسوں سے شدید آلودگی کے خلاف احتجاج کرتے رہے اور بازان کی بندش کا مطالبہ کرتے رہے، لیکن تاریخ میں پہلی بار صرف ایک ایرانی میزائل ایسا عامل ثابت ہوا جس نے سرکاری اداروں کو اس ریفائنری کو بند کرنے پر مجبور کر دیا۔ خصوصی رپورٹ: 

عبرانی زبان کے ذرائع ابلاغ کے مطابق 12 روزہ جنگ کے دوران ایران کے شدید حملوں کے بعد حیفا کے علاقے سے بازان ریفائنری کو منتقل کرنے کا منصوبہ عملی مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ تسنیم ایجنسی کے عبرانی شعبے کے مطابق ہارتیز نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ حیفا کے علاقے سے بازان ریفائنری کی منتقلی کا معاملہ اب تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ اسرائیلی اخبار کے مطابق یہ فیصلہ بظاہر وزارتِ تحفظِ ماحولیات کی درخواست پر کیا گیا ہے، کیونکہ اس ریفائنری سے پیدا ہونے والی ماحولیاتی آلودگی کی سطح نہایت بلند ہے۔

پیش کردہ منصوبہ اب اس جواز کے ساتھ اب اعلانیہ طور پر نافذ کیا جا رہا ہے، اس دس سالہ مرحلہ وار عمل کے دوران بازان کمپنی کی تمام تنصیبات کو خلیجِ حیفا سے مکمل طور پر منتقل کر دیا جائے گا۔ تاہم ہارتیز اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کر سکا کہ 12 روزہ جنگ کے دوران اس ریفائنری کو نشانہ بنایا گیا تھا اور وہ عملی طور پر ناکارہ ہو گئی تھی۔ اخبار نے لکھا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے دوران اس کمپلیکس کے ایندھن کی پیداوار کے حصے کو نقصان پہنچا، اور بازان انتظامیہ اب بھی ان نقصانات کی مرمت اور بحالی کی کوششوں میں مصروف ہے۔

رپورٹ کے مطابق، ریفائنری کے حکام نے پوری کوشش کی کہ بحالی کے کام کو بغیر ضروری اجازت ناموں کے اور مکمل استثنیٰ کے ساتھ انجام دیا جائے۔ یہ معاملہ منصوبہ بندی کونسل میں معمولی اکثریت سے منظور تو ہو گیا، لیکن حیفا کی بلدیہ نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ بازان کی دوبارہ تعمیر کا عمل اس کے انخلا کے منصوبے کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور اسے تاخیر کا شکار بنا سکتا ہے۔ حیفا کے میئر نے بھی اس شہر میں ایسی تنصیبات کی موجودگی کے ممکنہ نتائج، خصوصاً کسی آئندہ جنگ کی صورت میں، پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ حیفا اور اس کے اطراف کے رہائشیوں کو ان خلاف ورزیوں کے نتائج بھگتنے پر مجبور نہیں کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا ہے کہ عوامی مفاد کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔ واضح رہے کہ ہارتیز نے کچھ عرصہ قبل شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں ماہرین کے حوالے سے لکھا تھا کہ بازان ریفائنری کو بہت پہلے ہی حیفا سے منتقل کر دیا جانا چاہیے تھا، کیونکہ اس شہر کے لیے بہترین دفاعی اور حفاظتی حکمتِ عملی یہی ہے کہ ایندھن کے ذخائر کو شہر سے باہر منتقل کیا جائے۔ اس عبرانی اخبار کے مطابق، ایرانی میزائل کے تنصیبات پر لگنے سے ان خطرات پر نظرِ ثانی کی اہمیت اجاگر ہو گئی ہے جو ریفائنریوں کو درپیش ہیں اور درپیش رہیں گے۔

اس کے باوجود متعلقہ حکام اور ادارے آئندہ جنگوں کی صورت میں اس خطے کو درپیش ممکنہ خطرات کا جائزہ لینے یا تحقیق کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔ ہزاروں شہری شکایات کے باوجود، ان مراکز کے انخلا کے لیے کوئی ٹھوس اور عملی منصوبہ موجود نہیں ہے۔ تاہم اس تجزیاتی رپورٹ کے مصنف زاویر رینات کا کہنا ہے کہ اگرچہ حیفا اور خصوصاً ریفائنری کے اطراف کے ہزاروں شہری برسوں سے شدید آلودگی کے خلاف احتجاج کرتے رہے اور بازان کی بندش کا مطالبہ کرتے رہے، لیکن تاریخ میں پہلی بار صرف ایک ایرانی میزائل ایسا عامل ثابت ہوا جس نے سرکاری اداروں کو اس ریفائنری کو بند کرنے پر مجبور کر دیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ایرانی میزائل اس ریفائنری ریفائنری کو کرتے رہے کے مطابق کے دوران کر دیا

پڑھیں:

کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار

ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔

ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق