data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251215-08-19

 

 

کیف (مانیٹرنگ ڈیسک ) روس نے یوکرین پر ایک اور بڑے فضائی حملے میں ہائپرسونک میزائلوں اور ڈرونز کا استعمال کرتے ہوئے فوجی و توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ملک بھر میں بجلی کا نظام شدید متاثر ہو گیا اور 10 لاکھ سے زاiد گھروں کو اندھیرے کا سامنا کرنا پڑا۔ یوکرینی حکام کے مطابق ہفتے کی رات حملوں کی ایک طاقتور لہر نے توانائی اور صنعتی انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنایا، جس سے بجلی کی فراہمی بڑے پیمانے پر معطل ہو گئی۔ صدر ولادی میر زیلنسکی نے بتایا کہ روسی افواج نے رات گئے 450 سے زاید ڈرونز اور کم از کم 30 میزائل داغے، جن کے نتیجے میں متعدد شہری تنصیبات کو نقصان پہنچا۔ یوکرین کے وزیر داخلہ کے مطابق ملک کے 5 مختلف علاقوں میں حملے کیے گئے، جن میں کم از کم 5 افراد زخمی ہوئے۔ ریسکیو ادارے آگ بجھانے اور بجلی بحال کرنے کے لیے مسلسل کارروائیاں کر رہے ہیں۔ دوسری جانب روسی وزارتِ دفاع نے حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے

دعویٰ کیا ہے کہ یہ کارروائی روس کے شہری اہداف پر یوکرینی حملوں کے جواب میں کی گئی۔ روسی حکام کے مطابق حملے میں یوکرین کی فوجی اور توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا اور اس دوران کنزال ہائپرسونک میزائل سمیت جدید ہتھیار استعمال کیے گئے۔ تازہ حملے نے ایک بار پھر یوکرین کے توانائی نظام کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے جبکہ سرد موسم کے دوران لاکھوں شہریوں کے لیے صورتحال مزید مشکل ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

مانیٹرنگ ڈیسک.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی

ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی
  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران