روس کا اوڈیسا پر ابتک کا سب سے مہلک حملہ ، لاکھوں گھر تاریکی میں ڈوب گئے
اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT
یوکرین کے جنوبی ساحلی شہر اوڈیسا اور اس کے گرد و نواح میں روسی حملے کے بعد بڑے پیمانے پر بلیک آؤٹ ہو گیا، جس کے نتیجے میں 10 لاکھ سے زائد گھرانوں کو بجلی کی فراہمی منقطع ہو گئی۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق یوکرینی صدر وولوڈیمیر زیلنسکی نے بتایا کہ روس نے رات بھر کے حملے میں 450 سے زائد ڈرونز اور 30 میزائل داغے، جن کا مرکزی ہدف یوکرین کا توانائی کا نظام تھا، خاص طور پر جنوبی علاقے اور اوڈیسا ریجن شدید متاثر ہوئے۔
Odesa and the surrounding region endured one of the most massive russian attacks, with around 300 drones and missiles targeting port, energy, gas, and industrial infrastructure.
Power, internet, and mobile service are down across the region. pic.twitter.com/7a77VtwrUI
— Iryna Voichuk (@IrynaVoichuk) December 13, 2025
ان کے مطابق ملک کے 7 مختلف علاقوں میں ہزاروں خاندان بجلی سے محروم ہو گئے۔
یوکرین کی وزیر اعظم یولیا سویری دینکو نے کہا کہ یہ جنگ کے دوران اوڈیسا پر ہونے والے سب سے بڑے حملوں میں سے ایک تھا، جس کے باعث بجلی اور پانی کی فراہمی متاثر ہوئی۔
انہوں نے بتایا کہ شہر کے متاثرہ علاقوں میں غیر پینے کے پانی کی فراہمی کے لیے ہنگامی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ کو تیسری عالمی جنگ کا خطرہ، امریکا چاہتا ہے کہ یوکرین ڈونباس سے دستبردار ہو، زیلنسکی کا انکشاف
ادھر وزیر داخلہ ایہور کلیمنکو نے تصدیق کی کہ حملے کے نتیجے میں ملک بھر میں ایک ملین سے زائد گھرانے بجلی سے محروم ہوئے جبکہ کم از کم 5 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ یوکرین کے پاور گرڈ آپریٹر کے مطابق اوڈیسا اور میکولائیو کے جنوبی علاقوں میں بڑی تعداد میں صارفین بجلی سے محروم ہیں، جبکہ یوکرین کے زیرِ کنٹرول خرسون ریجن مکمل طور پر اندھیرے میں ڈوب گیا ہے۔
واضح رہے کہ روس 2022 میں جنگ کے آغاز کے بعد سے مسلسل یوکرین کے توانائی کے ڈھانچے کو نشانہ بناتا رہا ہے، جس کے باعث ملک بھر میں طویل بلیک آؤٹس معمول بن چکے ہیں۔ روسی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے یوکرین کی توانائی اور فوجی صنعتی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اوڈیسا روس یوکرین
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘حکومتی دعوﺅں کے برعکس حالیہ بارشوں میں پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، بارشوں میں چھتیں گرنے سے 15 افراد جاں بحق ہوئے‘کرنٹ لگنے سے 3 اور آسمانی بجلی گرنے سے 2 افرادجاں بحق ہوئے‘ بارش کے پانی میں ڈوبنے سے ایک شخص جاں بحق ہوا جبکہ 38 مکانات متاثر ہوئے.(جاری ہے)
پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے مون سون بارشوں کے باعث نقصانات سے متعلق رپورٹ جاری کی ہے ترجمان پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق مون سون بارشوں کے باعث پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، بارشوں میں چھتیں گرنے سے 15 افراد جاں بحق ہوئے ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ جاں بحق افراد کے خاندانوں کو 10 سے 50 لاکھ روپے تک امداد فراہم کی جا رہی ہے. ادھرمحکمہ موسمیات نے ملک بھر میں موسلا دھار بارش کی پیش گوئی کر تے ہوئے نشیبی علاقے زیر آب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خدشات ظاہر کیئے ہیں رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پورے ملک میں تیز ہواﺅں اور گرج چمک کے ساتھ بیشتر مقامات پر وقفے وقفے سے بارش کا امکان ہے. صوبائی دارلحکومت لاہور میں آج ہونے والی بارش سے واپڈا ٹاﺅن‘ جوہر ٹاﺅن‘ گلبرگ اور ڈیفنس ‘ او پی ایف سوسائٹی‘ ایل ڈی اے ایونیو‘ فیصل ٹاﺅن‘ماڈل ٹاﺅن‘علامہ اقبال ٹاﺅن‘مسلم ٹاﺅن‘گارڈن ٹاﺅن‘سبزہ زار‘ملتان روڈسمیت شہر بھر میں تیزبارش سے شہر کی مرکزی شاہرائیں ندیوں کا منظرپیش کرتی رہیں جبکہ شہر کے نشیبی علاقوں میں پانی گھر میں داخل ہوگیا. شمالی لاہوراور اندرون شہر میں بھی بارش کی پانی کی وجہ سے معمولات زندگی شدید متاثرہوئے . محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ چند گھنٹوں کے دوران بھی مزید بارش کا امکان ہے محکمہ موسمیات کے مطابق شام کے وقت درجہ حرات 28ڈگری ریکارڈ کیا گیا جبکہ شہر میں 11 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل رہی ہیں تاہم ہوا میں نمی کا تناسب 95 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جس کے باعث موسم مرطوب مگر خوشگوار محسوس کیا جا رہا ہے.